کیا فائدہ نصیحتِ نا سود مند کا

Mustafa Khan Shefta (1809–1869)

کیا فائدہ نصیحتِ نا سود مند کا

کیا خوب پند گو بھی ہے محتاج پند کا

جب میں نہیں پسند تو پھر اور آ چکے

عاشق ہوں اس کی خاطرِ مشکل پسند کا

اے بادِ صبح تا بہ کجا اہتزازِ گل

گوشہ الٹ دے یار کے منہ سے پرند کا

اُس ماہ وش کو غیرِ سیہ رو سے کام کیا

ہے فیض اپنے اخترِ بختِ نژند کا

اس کوچے میں ہے عزتِ خسرو گدا سے کم

کیوں ناز مستمند سہے ارجمند کا

نالہ تو نارسا نہیں کیوں کر گلہ کروں

میں شکوہ سنج ہوں ترے کاخِ بلند کا

اے شیفتہ وہ رتبہ ہے جو بید و ژند کا