Poetry
- آج ہی کیا آگ ہے، سرگرمِ کیں تو کب نہ تھاشمع ساں مجبورِ خوئے آتشیں تو کب نہ تھاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- اپنے جوار میں ہمیں مسکن بنا دیادشمن کو اور دوست نے دشمن بنا دیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- اُٹھے نہ چھوڑ کے ہم آستانِ بادہ فروشطلسمِ ہوش ربا ہے دکانِ بادہ فروشMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- اثر آہ دل زار کی افواہیں ہیںیعنی مجھ پر کرم یار کی افواہیں ہیںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- ادھر مائل کہاں وہ مہ جبیں ہےفلک کو مجھ سے کیوں پرخاش و کیں ہےMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- اُس بزم میں ہر ایک سے کم تر نظر آیاوہ حسن کہ خورشید کے عہدے سے بر آیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- اُس وفا کی مجھ سے پھر امیدواری ہے عبثدل فریبی کی لگاوٹ، یہ تمہاری ہے عبثMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- اصحابِ درد کو ہے عجب تیزیِ خیالمثل زبانِ نطق قلم کی زبانِ حالMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- اُن کو دسشمن سے ہے محبت خاصیہ ہمارا ہے ثمرہ اخلاصMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- اے شیفتہ نویدِ شبِ غم سحر ہے آجہم تابِ آفتاب، فروغِ قمر ہے آجMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- بس کہ آغازِ محبت میں ہوا کام اپناپوچھتے ہیں ملک الموت سے انجام اپناMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- بلبل کو بھی نہیں ہے دماغِ صدائے گلبگڑی ہے تیرے دور میں ایسی ہوائے گلMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- پلا جام ساقی مے ناب کاکہ کچھ حظ اٹھے سیرِ مہتاب کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- ترے فسوں کی نہیں میرے دل میں جا واعظصنم پرست نہ ہو بندہ ریا واعظMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- تنگ تھی جا خاطر ناشاد میںآپ کو بھولے ہم ان کی یاد میںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- تھا غیر کا جو رنجِ جدائی تمام شبنیند ان کو میرے ساتھ نہ آئی تمام شبMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- تھا قصدِ بوسہ نشے میں سرشار دیکھ کرغش آ گیا مجھے انہیں ہشیار دیکھ کرMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- جب رقیبوں کا ستم یاد آیاکچھ تمہارا بھی کرم یاد آیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- جب سے عطا ہوا ہمیں خلعت حیات کاکچھ اور رنگ ڈھنگ ہوا کائنات کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- جو کوئے دوست کو جاؤں تو پاسباں کے لیےنہیں ہے خواب سے بہتر کچھ ارمغاں کے لیےMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- جی داغِ غمِ رشک سے جل جائے تو اچھاارمان عدو کا بھی نکل جائے تو اچھاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- خواہاں ہوں بوئے باغِ تنزہ شمیم کایا رب ادھر بھی بھیج دے جھونکا نسیم کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- دست عدو سے شب جو وہ ساغر لیا کیےکن حسرتوں سے خون ہم اپنا پیا کیےMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- دل کا گلہ فلک کی شکایت یہاں نہیںوہ مہرباں نہیں تو کوئی مہرباں نہیںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- دل لیا جس نے بے وفائی کیرسم ہے کیا یہ دل ربائی کیMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- دیا ہے بوسہ مجھے جب کہ میں ہوا گستاخغلط ہے بات کہ کم رزق ہے گدا گستاخMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- دیکھوں تو کہاں تک وہ تلطف نہیں کرتاآرے سے اگر چیرے تو میں اف نہیں کرتاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- رات واں گل کی طرح سے جسے خنداں دیکھاصبح بلبل کی روش ہمدمِ افغاں دیکھاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- روز خوں ہوتے ہیں دو چار ترے کوچے میںایک ہنگامہ ہے اے یار ترے کوچے میںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- روزِ غم میں کیا قیامت ہے شبِ عشرت کی یاداشکِ خوں سے آ گئیں رنگینیاں صحبت کی یادMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- رہ جائے کیوں نہ ہجر میں جاں آ کے لب تلکہم آرزوئے بوسہ بہ پیغام اب تلکMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- سب حوصلہ جو صرف ہوا جورِ یار کامجھ پر گلہ رہا ستمِ روزگار کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- شب وصل کی بھی چین سے کیوں کر بسر کریںجب یوں نگاہبانیِ مرغِ سحر کریںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- شکوہ جفا کا کیجے تو کہتے ہیں کیا کروںتم سے وفا کروں کہ عدو سے وفا کروںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- شوخی نے تیری لطف نہ رکھا حجاب میںجلوے نے تیرے آگ لگائی نقاب میںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- شیفتہ ہجر میں تو نالۂ شب گیر نہ کھینچصبح ہونے کی نہیں خجلتِ تاثیر نہ کھینچMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- صبح ہوتے ہی گیا گھر مہِ تاباں میراپنجۂ خور نے کیا چاک گریباں میراMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- طلبِ بوسہ پر اس لب سے شکر آب لذیذتند ہے، تلخ ہے، لیکن ہے مئے ناب لذیذMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- عشق کی میرے جو شہرت ہو گئییار سے مجھ کو ندامت ہو گئیMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- قبر سے اٹھ کے یہی دھیان مکرر آیاوہ تو آئے نہیں میں آپ میں کیوں کر آیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- کب نگہ اس کی عشوہ بار نہیںکب نگاہیں کرشمہ زار نہیںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- کب ہاتھ کو خیالِ جزائے رفو نہیںکب پارہ پارہ پیرہنِ چارہ جو نہیںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- کچھ امتیاز مجھ کو نہ مے کا نہ سارکاناچار ہوں کہ حکم نہیں کشفِ راز کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- کچھ اور بے دلی کے سوا آرزو نہیںاے دل یقین جان کہ ہم ہیں تو تو نہیںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- کچھ درد ہے مطربوں کی لے میںکچھ آگ بھری ہوئی ہے نے میںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- کل نغمہ گر جو مطربِ جادو ترانہ تھاہوش و حواس و عقل و خرد کا پتا نہ تھاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- کم فہم ہیں تو کم ہیں پریشانیوں میں ہمدانائیوں سے اچھے ہیں نادانیوں میں ہمMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- کون سے دن تری یاد اے بت سفاک نہیںکون سی شب ہے کہ خنجر سے جگر چاک نہیںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- کہوں میں کیا کہ کیا درد نہاں ہےتمہارے پوچھنے ہی سے عیاں ہےMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- کیا اٹھ گیا ہے دیدۂ اغیار سے حجابٹپکا پڑے ہے کیوں نگہ یار سے حجابMustafa Khan Shefta (1809–1869)