Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. پھر وہ سوۓ چمن آتا ہے خدا خیر کرےرنگ اڑتا ہے گُلِستاں کے ہواداروں کاMirza Ghalib (1797–1869)
  2. بس کہ فعّالِ ما یرید ہے آجہر سلحشور انگلستاں کاMirza Ghalib (1797–1869)
  3. بہ رہنِ شرم ہے با وصفِ شوخی اہتمام اس کانگیں میں جوں شرارِ سنگ نا پیدا ہے نام اس کاMirza Ghalib (1797–1869)
  4. عیب کا دریافت کرنا، ہے ہنرمندی اسدنقص پر اپنے ہوا جو مطلعِ، کامل ہواMirza Ghalib (1797–1869)
  5. شب کہ ذوقِ گفتگو سے تیرے، دل بے تاب تھاشوخئِ وحشت سے افسانہ فسونِ خواب تھاMirza Ghalib (1797–1869)
  6. دود کو آج اس کے ماتم میں سیہ پوشی ہوئیوہ دلِ سوزاں کہ کل تک شمع، ماتم خانہ تھاMirza Ghalib (1797–1869)
  7. پھر ہوا وقت کہ ہو بال کُشا موجِ شرابدے بطِ مے کو دل و دستِ شنا موجِ شرابMirza Ghalib (1797–1869)
  8. افسوس کہ دنداں* کا کیا رزق فلک نےجن لوگوں کی تھی درخورِ عقدِ گہر انگشتMirza Ghalib (1797–1869)
  9. رہا گر کوئی تا قیامت سلامتپھر اک روز مرنا ہے حضرت سلامتMirza Ghalib (1797–1869)
  10. آمد خط سے ہوا ہے سرد جو بازار دوستدود شمع کشتہ تھا شاید خط رخسار دوستMirza Ghalib (1797–1869)
  11. مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالبیار لاۓ مری بالیں پہ اسے، پر کس وقتMirza Ghalib (1797–1869)
  12. گلشن میں بندوبست بہ رنگِ دگر ہے آجقمری کا طوق حلقۂ بیرونِ در ہے آجMirza Ghalib (1797–1869)
  13. لو ہم مریضِ عشق کے بیماردار ہیںاچھاّ اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج!!Mirza Ghalib (1797–1869)
  14. نفَس نہ انجمنِ آرزو سے باہر کھینچاگر شراب نہیں انتظارِ ساغر کھینچMirza Ghalib (1797–1869)
  15. حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعدبارے آرام سے ہیں اہل جفا میرے بعدMirza Ghalib (1797–1869)
  16. ہلاکِ بے خبری نغمۂ وجود و عدمجہان و اہلِ جہاں سے جہاں جہاں آبادMirza Ghalib (1797–1869)
  17. تجھ سے مقابلے کی کسے تاب ہے ولےمیرا لہو بھی خوب ہے تیری حنا کے بعدMirza Ghalib (1797–1869)
  18. بلا سے ہیں جو یہ پیشِ نظر در و دیوارنگاہِ شوق کو ہیں بال و پر در و دیوارMirza Ghalib (1797–1869)
  19. گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیرجانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر؟Mirza Ghalib (1797–1869)
  20. کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یار دیکھ کرجلتا ہوں اپنی طاقتِ دیدار دیکھ کرMirza Ghalib (1797–1869)
  21. لرزتا ہے مرا دل زحمت مہر درخشاں پرمیں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خار بیاباں پرMirza Ghalib (1797–1869)
  22. ہے بس کہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اورکرتے ہیں مَحبّت تو گزرتا ہے گماں اورMirza Ghalib (1797–1869)
  23. صفاۓ حیرت آئینہ ہے سامان زنگ آخرتغیر آب بر جا ماندہ کا پاتا ہے رنگ آخرMirza Ghalib (1797–1869)
  24. جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانیگریباں چاک کا حق ہو گیا ہے میری گردن پرMirza Ghalib (1797–1869)
  25. ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیںتکلّف بر طرف! مل جائے گا تجھ سا رقیب آخرMirza Ghalib (1797–1869)
  26. لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اورتنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اورMirza Ghalib (1797–1869)
  27. حریفِ مطلبِ مشکل نہیں فسونِ نیازدعا قبول ہو یا رب کہ عمرِ خضر درازMirza Ghalib (1797–1869)
  28. فارغ مجھے نہ جان کہ مانند صبح و مہرہے داغ عشق زینت جیب کفن ہنوزMirza Ghalib (1797–1869)
  29. کیوں کر اس بت سے رکھوں جان عزیز!کیا نہیں ہے مجھے ایمان عزیز!Mirza Ghalib (1797–1869)
  30. وسعت سعی کرم دیکھ کہ سر تا سر خاکگزرے ہے آبلہ پا ابر گہربار ہنوزMirza Ghalib (1797–1869)
  31. گل کھلے غنچے چٹکنے لگے اور صبح ہوئیسرخوشِ خواب ہے وہ نرگسِ مخمور ہنوزMirza Ghalib (1797–1869)
  32. نہ گل نغمہ ہوں نہ پردۂ سازمیں ہوں اپنی شکست کی آوازMirza Ghalib (1797–1869)
  33. مُژدہ ، اے ذَوقِ اسیری ! کہ نظر آتا ہےدامِ خالی ، قفَسِ مُرغِ گِرفتار کے پاسMirza Ghalib (1797–1869)
  34. اے اسد ہم خود اسیرِ رنگ و بوۓ باغ ہیںظاہرا صیّادِ ناداں ہے گرفتارِ ہوسMirza Ghalib (1797–1869)
  35. نہ لیوے گر خس جوہر طراوت سبزۂ خط سےلگائے خانۂ آئینہ میں روئے نگار آتشMirza Ghalib (1797–1869)
  36. جادۂ رہ خور کو وقت شام ہے تار شعاعچرخ وا کرتا ہے ماہ نو سے آغوش وداعMirza Ghalib (1797–1869)
  37. رُخِ نگار سے ہے سوزِ جاودانیِ شمعہوئی ہے آتشِ گُل آبِ زندگانیِ شمعMirza Ghalib (1797–1869)
  38. بیمِ رقیب سے نہیں کرتے وداعِ ہوشمجبور یاں تلک ہوئے اے اختیار ، حیف !Mirza Ghalib (1797–1869)
  39. زخم پر چھڑکیں کہاں طفلانِ بے پروا نمککیا مزا ہوتا، اگر پتھر میں بھی ہوتا نمکMirza Ghalib (1797–1869)
  40. آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تککون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تکMirza Ghalib (1797–1869)
  41. دیکھنے میں ہیں گرچہ دو، پر ہیں یہ دونوں یار ایکوضع میں گو ہوئی دو سر، تیغ ہے ذوالفقار ایکMirza Ghalib (1797–1869)
  42. گر تجھ کو ہے یقین اجابت دعا نہ مانگیعنی بغیر یک دل بے مدعا نہ مانگMirza Ghalib (1797–1869)
  43. ہے کس قدر ہلاک فریب وفائے گلبلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گلMirza Ghalib (1797–1869)
  44. غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفسبرق سے کرتے ہیں روشن شمع ماتم خانہ ہمMirza Ghalib (1797–1869)
  45. بہ نالہ دل بستگی فراہم کرمتاعِ خانۂ زنجیر جز صدا، معلومMirza Ghalib (1797–1869)
  46. مجھ کو دیارِ غیر میں مارا، وطن سے دوررکھ لی مرے خدا نے مری بےکسی کی شرمMirza Ghalib (1797–1869)
  47. رسیدن گلِ باغ واماندگی ہےعبث محفل آراۓ رفتار ہیں ہمMirza Ghalib (1797–1869)
  48. وہ فراق اور وہ وصال کہاںوہ شب و روز و ماہ و سال کہاںMirza Ghalib (1797–1869)
  49. کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیںہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیںMirza Ghalib (1797–1869)
  50. آبرو کیا خاک اُس گُل کی۔ کہ گلشن میں نہیںہے گریبان ننگِ پیراہن جو دامن میں نہیںMirza Ghalib (1797–1869)