گل کھلے غنچے چٹکنے لگے اور صبح ہوئی

Mirza Ghalib (1797–1869)

گل کھلے غنچے چٹکنے لگے اور صبح ہوئی

سرخوشِ خواب ہے وہ نرگسِ مخمور ہنوز