دود کو آج اس کے ماتم میں سیہ پوشی ہوئی
Mirza Ghalib (1797–1869)دود کو آج اس کے ماتم میں سیہ پوشی ہوئی
وہ دلِ سوزاں کہ کل تک شمع، ماتم خانہ تھا
شکوۂ یاراں غبارِ دل میں پنہاں کر دیا
غالب ایسے کنج کو شایاں یہی ویرانہ تھا
دود کو آج اس کے ماتم میں سیہ پوشی ہوئی
وہ دلِ سوزاں کہ کل تک شمع، ماتم خانہ تھا
شکوۂ یاراں غبارِ دل میں پنہاں کر دیا
غالب ایسے کنج کو شایاں یہی ویرانہ تھا