Poetry
Poet
Meter
- میری یادوں میں سے ایک یاد مجھےتا دم مرگ نہیں بھولے گیAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- میں عجیب لذت آگہی سے دو چار ہوںیہی آگہی مرا لطف ہے مرا کرب ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- وہ فسانہ جسے تاریکی نے دہرایا ہےمیری آنکھوں نے سناAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- ہوا لہروں پہ لکھتی ہے تو پانی پر تحریر کرتا ہےکہ ہم فرزند آدم کی طرح سب نقش گر ہیںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- یوم مزاجی یاروں کیسب میری دیکھی بھالیAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- اک سفینہ ہے تری یاد اگراک سمندر ہے مری تنہائیAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- جکڑی ہوئی ہے ان میں مری ساری کائناتگو دیکھنے میں نرم ہے تیری کلائیاںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- صبح ہوتے ہی نکل آتے ہیں بازار میں لوگگٹھریاں سر پہ اٹھائے ہوئے ایمانوں کیAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- غم جاناں غم دوراں کی طرف یوں آیاجانب شہر چلے دختر دہقاں جیسےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- فریب کھانے کو پیشہ بنا لیا ہم نےجب ایک بار وفا کا فریب کھا بیٹھےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- کس دل سے کروں وداع تجھ کوٹوٹا جو ستارہ بجھ گیا ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- لوگ کہتے ہیں کہ سایا ترے پیکر کا نہیںمیں تو کہتا ہوں زمانے پہ ہے سایا تیراAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- مجھ سے کافر کو ترے عشق نے یوں شرمایادل تجھے دیکھ کے دھڑکا تو خدا یاد آیاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- مر جاتا ہوں جب یہ سوچتا ہوںمیں تیرے بغیر جی رہا ہوںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- مرے خدا نے کیا تھا مجھے اسیر بہشتمرے گنہ نے رہائی مجھے دلائی ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- آج پھر گردش تقدیر پہ رونا آیادل کی بگڑی ہوئی تصویر پہ رونا آیاShakeel Badayuni (1916–1970)
- آخری وقت ہے آخری سانس ہے زندگی کی ہے شام آخری آخریسنگ دل آ بھی جا اب خدا کے لیے لب پہ ہے تیرا نام آخری آخریShakeel Badayuni (1916–1970)
- آدمی نہ اتنا بھی دور ہو زمانے سےصبح کو جدا سمجھے شام کے فسانے سےShakeel Badayuni (1916–1970)
- آنکھ سے آنکھ ملاتا ہے کوئیدل کو کھینچے لیے جاتا ہے کوئیShakeel Badayuni (1916–1970)
- آنکھوں سے دور صبح کے تارے چلے گئےنیند آ گئی تو غم کے نظارے چلے گئےShakeel Badayuni (1916–1970)
- اب تک شکایتیں ہیں دل بد نصیب سےاک دن کسی کو دیکھ لیا تھا قریب سےShakeel Badayuni (1916–1970)
- اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھےبے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھےShakeel Badayuni (1916–1970)
- اٹھی پھر دل میں اک موج شباب آہستہ آہستہکچھ آیا زندگی میں انقلاب آہستہ آہستہShakeel Badayuni (1916–1970)
- اس درجہ بد گماں ہیں خلوص بشر سے ہماپنوں کو دیکھتے ہیں پرائی نظر سے ہمShakeel Badayuni (1916–1970)
- اک اک قدم فریب تمنا سے بچ کے چلدنیا کی آرزو ہے تو دنیا سے بچ کے چلShakeel Badayuni (1916–1970)
- ان سے امید رو نمائی ہےکیا نگاہوں کی موت آئی ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- اے عشق یہ سب دنیا والے بیکار کی باتیں کرتے ہیںپائل کے غموں کا علم نہیں جھنکار کی باتیں کرتے ہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
- اے محبت ترے انجام پہ رونا آیاجانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیاShakeel Badayuni (1916–1970)
- بدلے بدلے مرے غم خوار نظر آتے ہیںمرحلے عشق کے دشوار نظر آتے ہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
- بہار آئی کسی کا سامنا کرنے کا وقت آیاسنبھل اے دل کہ اظہار وفا کرنے کا وقت آیاShakeel Badayuni (1916–1970)
- تری انجمن میں ظالم عجب اہتمام دیکھاکہیں زندگی کی بارش کہیں قتل عام دیکھاShakeel Badayuni (1916–1970)
- تصویر بناتا ہوں تری خون جگر سےدیکھا ہے تجھے میں نے محبت کی نظر سےShakeel Badayuni (1916–1970)
- تقدیر کی گردش کیا کم تھی اس پر یہ قیامت کر بیٹھےبے تابئ دل جب حد سے بڑھی گھبرا کے محبت کر بیٹھےShakeel Badayuni (1916–1970)
- تم نے یہ کیا ستم کیا ضبط سے کام لے لیاترک وفا کے بعد بھی میرا سلام لے لیاShakeel Badayuni (1916–1970)
- جنوں سے گزرنے کو جی چاہتا ہےہنسی ضبط کرنے کو جی چاہتا ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- جو دل پہ گزرتی ہے وہ سمجھا نہیں سکتےہم دیکھنے والوں کو نظر آ نہیں سکتےShakeel Badayuni (1916–1970)
- جینے والے قضا سے ڈرتے ہیںزہر پی کر دوا سے ڈرتے ہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
- چاندنی میں رخ زیبا نہیں دیکھا جاتاماہ و خورشید کو یکجا نہیں دیکھا جاتاShakeel Badayuni (1916–1970)
- خوش ہوں کہ مرا حسن طلب کام تو آیاخالی ہی سہی میری طرف جام تو آیاShakeel Badayuni (1916–1970)
- دل کے بہلانے کی تدبیر تو ہےتو نہیں ہے تری تصویر تو ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- دل مرکز حجاب بنایا نہ جائے گاان سے بھی راز عشق چھپایا نہ جائے گاShakeel Badayuni (1916–1970)
- دنیا کی روایات سے بیگانہ نہیں ہوںچھیڑو نہ مجھے میں کوئی دیوانہ نہیں ہوںShakeel Badayuni (1916–1970)
- زندگی ان کی چاہ میں گزریمستقل درد و آہ میں گزریShakeel Badayuni (1916–1970)
- عشق کی چنگاریوں کو پھر ہوا دینے لگےمیرے پاس آ کر وہ دشمن کو دعا دینے لگےShakeel Badayuni (1916–1970)
- غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچےمجھے خوف ہے یہ تہمت ترے نام تک نہ پہنچےShakeel Badayuni (1916–1970)
- غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کروہ نظر سے چھپ گئے ہیں مری زندگی بدل کرShakeel Badayuni (1916–1970)
- کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہےترا غم رہے سلامت مرے دل میں کیا نہیں ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- کوئی ساغر دل کو بہلاتا نہیںبے خودی میں بھی قرار آتا نہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
- کہیں حسن کا تقاضا کہیں وقت کے اشارےنہ بچا سکیں گے دامن غم زندگی کے مارےShakeel Badayuni (1916–1970)
- کیسے کہہ دوں کی ملاقات نہیں ہوتی ہےروز ملتے ہیں مگر بات نہیں ہوتی ہےShakeel Badayuni (1916–1970)