Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. میری یادوں میں سے ایک یاد مجھےتا دم مرگ نہیں بھولے گیAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  2. میں عجیب لذت آگہی سے دو چار ہوںیہی آگہی مرا لطف ہے مرا کرب ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  3. وہ فسانہ جسے تاریکی نے دہرایا ہےمیری آنکھوں نے سناAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  4. ہوا لہروں پہ لکھتی ہے تو پانی پر تحریر کرتا ہےکہ ہم فرزند آدم کی طرح سب نقش گر ہیںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  5. یوم مزاجی یاروں کیسب میری دیکھی بھالیAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  6. اک سفینہ ہے تری یاد اگراک سمندر ہے مری تنہائیAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  7. جکڑی ہوئی ہے ان میں مری ساری کائناتگو دیکھنے میں نرم ہے تیری کلائیاںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  8. صبح ہوتے ہی نکل آتے ہیں بازار میں لوگگٹھریاں سر پہ اٹھائے ہوئے ایمانوں کیAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  9. غم جاناں غم دوراں کی طرف یوں آیاجانب شہر چلے دختر دہقاں جیسےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  10. فریب کھانے کو پیشہ بنا لیا ہم نےجب ایک بار وفا کا فریب کھا بیٹھےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  11. کس دل سے کروں وداع تجھ کوٹوٹا جو ستارہ بجھ گیا ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  12. لوگ کہتے ہیں کہ سایا ترے پیکر کا نہیںمیں تو کہتا ہوں زمانے پہ ہے سایا تیراAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  13. مجھ سے کافر کو ترے عشق نے یوں شرمایادل تجھے دیکھ کے دھڑکا تو خدا یاد آیاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  14. مر جاتا ہوں جب یہ سوچتا ہوںمیں تیرے بغیر جی رہا ہوںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  15. مرے خدا نے کیا تھا مجھے اسیر بہشتمرے گنہ نے رہائی مجھے دلائی ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  16. آج پھر گردش تقدیر پہ رونا آیادل کی بگڑی ہوئی تصویر پہ رونا آیاShakeel Badayuni (1916–1970)
  17. آخری وقت ہے آخری سانس ہے زندگی کی ہے شام آخری آخریسنگ دل آ بھی جا اب خدا کے لیے لب پہ ہے تیرا نام آخری آخریShakeel Badayuni (1916–1970)
  18. آدمی نہ اتنا بھی دور ہو زمانے سےصبح کو جدا سمجھے شام کے فسانے سےShakeel Badayuni (1916–1970)
  19. آنکھ سے آنکھ ملاتا ہے کوئیدل کو کھینچے لیے جاتا ہے کوئیShakeel Badayuni (1916–1970)
  20. آنکھوں سے دور صبح کے تارے چلے گئےنیند آ گئی تو غم کے نظارے چلے گئےShakeel Badayuni (1916–1970)
  21. اب تک شکایتیں ہیں دل بد نصیب سےاک دن کسی کو دیکھ لیا تھا قریب سےShakeel Badayuni (1916–1970)
  22. اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھےبے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھےShakeel Badayuni (1916–1970)
  23. اٹھی پھر دل میں اک موج شباب آہستہ آہستہکچھ آیا زندگی میں انقلاب آہستہ آہستہShakeel Badayuni (1916–1970)
  24. اس درجہ بد گماں ہیں خلوص بشر سے ہماپنوں کو دیکھتے ہیں پرائی نظر سے ہمShakeel Badayuni (1916–1970)
  25. اک اک قدم فریب تمنا سے بچ کے چلدنیا کی آرزو ہے تو دنیا سے بچ کے چلShakeel Badayuni (1916–1970)
  26. ان سے امید رو نمائی ہےکیا نگاہوں کی موت آئی ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
  27. اے عشق یہ سب دنیا والے بیکار کی باتیں کرتے ہیںپائل کے غموں کا علم نہیں جھنکار کی باتیں کرتے ہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
  28. اے محبت ترے انجام پہ رونا آیاجانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیاShakeel Badayuni (1916–1970)
  29. بدلے بدلے مرے غم خوار نظر آتے ہیںمرحلے عشق کے دشوار نظر آتے ہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
  30. بہار آئی کسی کا سامنا کرنے کا وقت آیاسنبھل اے دل کہ اظہار وفا کرنے کا وقت آیاShakeel Badayuni (1916–1970)
  31. تری انجمن میں ظالم عجب اہتمام دیکھاکہیں زندگی کی بارش کہیں قتل عام دیکھاShakeel Badayuni (1916–1970)
  32. تصویر بناتا ہوں تری خون جگر سےدیکھا ہے تجھے میں نے محبت کی نظر سےShakeel Badayuni (1916–1970)
  33. تقدیر کی گردش کیا کم تھی اس پر یہ قیامت کر بیٹھےبے تابئ دل جب حد سے بڑھی گھبرا کے محبت کر بیٹھےShakeel Badayuni (1916–1970)
  34. تم نے یہ کیا ستم کیا ضبط سے کام لے لیاترک وفا کے بعد بھی میرا سلام لے لیاShakeel Badayuni (1916–1970)
  35. جنوں سے گزرنے کو جی چاہتا ہےہنسی ضبط کرنے کو جی چاہتا ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
  36. جو دل پہ گزرتی ہے وہ سمجھا نہیں سکتےہم دیکھنے والوں کو نظر آ نہیں سکتےShakeel Badayuni (1916–1970)
  37. جینے والے قضا سے ڈرتے ہیںزہر پی کر دوا سے ڈرتے ہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
  38. چاندنی میں رخ زیبا نہیں دیکھا جاتاماہ و خورشید کو یکجا نہیں دیکھا جاتاShakeel Badayuni (1916–1970)
  39. خوش ہوں کہ مرا حسن طلب کام تو آیاخالی ہی سہی میری طرف جام تو آیاShakeel Badayuni (1916–1970)
  40. دل کے بہلانے کی تدبیر تو ہےتو نہیں ہے تری تصویر تو ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
  41. دل مرکز حجاب بنایا نہ جائے گاان سے بھی راز عشق چھپایا نہ جائے گاShakeel Badayuni (1916–1970)
  42. دنیا کی روایات سے بیگانہ نہیں ہوںچھیڑو نہ مجھے میں کوئی دیوانہ نہیں ہوںShakeel Badayuni (1916–1970)
  43. زندگی ان کی چاہ میں گزریمستقل درد و آہ میں گزریShakeel Badayuni (1916–1970)
  44. عشق کی چنگاریوں کو پھر ہوا دینے لگےمیرے پاس آ کر وہ دشمن کو دعا دینے لگےShakeel Badayuni (1916–1970)
  45. غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچےمجھے خوف ہے یہ تہمت ترے نام تک نہ پہنچےShakeel Badayuni (1916–1970)
  46. غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کروہ نظر سے چھپ گئے ہیں مری زندگی بدل کرShakeel Badayuni (1916–1970)
  47. کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہےترا غم رہے سلامت مرے دل میں کیا نہیں ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
  48. کوئی ساغر دل کو بہلاتا نہیںبے خودی میں بھی قرار آتا نہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
  49. کہیں حسن کا تقاضا کہیں وقت کے اشارےنہ بچا سکیں گے دامن غم زندگی کے مارےShakeel Badayuni (1916–1970)
  50. کیسے کہہ دوں کی ملاقات نہیں ہوتی ہےروز ملتے ہیں مگر بات نہیں ہوتی ہےShakeel Badayuni (1916–1970)