Poetry
Hazaj Musaddas Mahzuf
ہزج مسدس محذوف- پیامی کامیاب آئے نہ آئےخدا جانے جواب آئے نہ آئےDagh Dehlvi (1831–1905)
- محبت کا اثر جاتا کہاں ہےہمارا درد سر جاتا کہاں ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
- ہوا جب سامنا اس خوب رو سےاڑا ہے رنگ گل کا پہلے بو سےDagh Dehlvi (1831–1905)
- نگاہ شوخ جب اس سے لڑی ہےتو بجلی تھرتھرا کر گر پڑی ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
- لپٹ جاتے ہیں وہ بجلی کے ڈر سےالٰہی یہ گھٹا دو دن تو برسےDagh Dehlvi (1831–1905)
- مری شاکی ہے خود میری فغاں تککہ تالو سے نہیں لگتی زباں تکJalal Lakhnavi (1832–1909)
- وہ جھوٹا عشق ہے جس میں فغاں ہووہ کچی آگ ہے جس میں دھواں ہوZaheer Dehlvi (1835–1911)
- کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میںمجھے کہنا ہے کچھ اپنی زباں میںAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- کجا ہستی بتا دے تو کہاں ہےجسے کہتے ہیں بسمل نیم جاں ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
- نہیں معلوم کیا واجب ہے کیا فرضمَرے مذہب میں ہے تیری رضا فرضIsmail Meeruthi (1844–1917)
- گرمی کا موسمIsmail Meeruthi (1844–1917)
- تری زلفوں میں دل الجھا ہوا ہےبلا کے پیچ میں آیا ہوا ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- دوعالم کی بنا کیا جانے کیا ہےنشان ماسوا کیا جانے کیا ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- رہا کرتا ہے مرغ فہم شاکینئی تہذیب کے انڈے ہیں خاکیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- کروں کیا غم کہ دنیا سے ملا کیاکسی کو کیا ملا دنیا میں تھا کیاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- فقط شور دل پر آرزو تھانہ اپنے جسم میں ہم تھے نہ تو تھاShad Azimabadi (1846–1927)
- پرا باندھے صف مژگاں کھڑی ہےنگاہ شوق کیا ماری پڑی ہےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- تھکا لے اور دور آسماں تکپھر آخر گردش قسمت کہاں تکRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- ریاضؔ اک چلبلا سا دل ہو ہم ہوںحسینوں کی بھری محفل ہو ہم ہوںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- قیامت شوخ آفت چلبلا دلمرا دل اور پھر کیسا مرا دلRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- کوئی پوچھے نہ ہم سے کیا ہوا دلہوا کیا لٹ گیا دل مٹ گیا دلRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- کوئی منہ چوم لے گا اس نہیں پرشکن رہ جائے گی یوں ہی جبیں پرRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- کھٹکتے ہیں نگاہ باغباں میںجو ہیں دو چار تنکے آشیاں میںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- تمہیں ہم چاہتے تو ہیں مگر کیامحبت کیا محبت کا اثر کیاBekhud Dehlvi (1863–1955)
- اگر اتنا نہ تو عیار ہوتاتو دشمن کا نہ ہرگز یار ہوتاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- جدائی مجھ کو مارے ڈالتی ہےدہائی مجھ کو مارے ڈالتی ہےMuztar Khairabadi (1865–1927)
- کسی بت کی ادا نے مار ڈالابہانے سے خدا نے مار ڈالاMuztar Khairabadi (1865–1927)
- بہا کر خون میرا مجھ سے بولےکہ لے جینے سے اپنے ہاتھ دھو لےJaleel Manikpuri (1866–1946)
- پلا ساقی بہار آئے نہ آئےگھٹا پھر بار بار آئے نہ آئےJaleel Manikpuri (1866–1946)
- قفس میں ہوں کہ طائر آشیاں میںترا کرتے ہیں ذکر اپنی زباں میںJaleel Manikpuri (1866–1946)
- زمانہ ہے کہ گزرا جا رہا ہےیہ دریا ہے کہ بہتا جا رہا ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
- مزے بیتابیوں کے آ رہے ہیںوہ ہم کو ہم انہیں سمجھا رہے ہیںJaleel Manikpuri (1866–1946)
- بہت دن درس الفت میں کٹے ہیںمحبت کے سبق برسوں رٹے ہیںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- زباں ہے بے خبر اور بے زباں دلکہے کس طرح سے راز نہاں دلParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- دیا جب جام مے ساقی نے بھر کےتو پچھتائے بہت ہم توبہ کر کےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- نہ آ جائے کسی پر دل کسی کانہ ہو یا رب کوئی مائل کسی کاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- مداوائے دل دیوانہ کرتےیہ کرتے ہم تو کچھ اچھا نہ کرتےHasrat Mohani (1875–1951)
- نہ سمجھے دل فریب آرزو کونہ ہم چھوڑیں تمہاری جستجو کوHasrat Mohani (1875–1951)
- میں غش میں ہوں مجھے اتنا نہیں ہوشتصور ہے ترا یا تو ہم آغوشBedam Warsi (1876–1936)
- ایک پرندہ اور جگنوAllama Iqbal (1877–1938)
- عجب واعظ کی دیںداری ہے یا رب!عداوت ہے اسے سارے جہاں سےAllama Iqbal (1877–1938)
- ظلامِ بحر میں کھو کر سنبھل جاتڑپ جا، پیچ کھا کھا کر بدل جاAllama Iqbal (1877–1938)
- مکانی ہُوں کہ آزادِ مکاں ہُوںجہاںبِیں ہُوں کہ خود سارا جہاں ہُوںAllama Iqbal (1877–1938)
- خودی کی خلوتوں میں گُم رہا مَیںخدا کے سامنے گویا نہ تھا مَیںAllama Iqbal (1877–1938)
- پریشاں کاروبارِ آشنائیپریشاں تر مری رنگیں نوائی!Allama Iqbal (1877–1938)
- یقیں، مثلِ خلیل آتش نشینییقیں، اللہ مستی، خود گُزینیAllama Iqbal (1877–1938)
- عرب کے سوز میں سازِ عجم ہےحرم کا راز توحیدِ اُمَم ہےAllama Iqbal (1877–1938)
- کوئی دیکھے تو میری نَے نوازینفس ہندی، مقامِ نغمہ تازیAllama Iqbal (1877–1938)
- ہر اک ذرّے میں ہے شاید مکیں دلاسی جلوَت میں ہے خلوَت نشیں دلAllama Iqbal (1877–1938)
- ترا اندیشہ افلاکی نہیں ہےتری پرواز لولاکی نہیں ہےAllama Iqbal (1877–1938)