رہا کرتا ہے مرغ فہم شاکی
Akbar Allahabadi (1846–1921)رہا کرتا ہے مرغ فہم شاکی
نئی تہذیب کے انڈے ہیں خاکی
چھری سے ان کی کٹوا کر فلک نے
خدا جانے ہماری ناک کیا کی
ابھی انجن گیا ہے اس طرف سے
کہے دیتی ہے تاریکی ہوا کی
رہی رات ایشیا غفلت میں سوتی
نظر یورپ کی کام اپنا کیا کی