Poetry
Hazaj Musaddas Akhrab Maqbuz Mahzuf
ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف- اجڑا ہوا شہر پھر بساؤںیہ حوصلہ اب کہاں سے لاؤںParveen Fana Syed (1936–2010)
- اک اک کو عتاب بانٹتے ہوکس طرح کے خواب بانٹتے ہوParveen Fana Syed (1936–2010)
- جب بانٹنا ہی عذاب ٹھہراپھر کیسا حساب مانگتے ہوParveen Fana Syed (1936–2010)
- ہر سمت سکوت بولتا ہےیہ کون سے جرم کی سزا ہےParveen Fana Syed (1936–2010)
- شمعوں کی طرح پگھل رہے ہیںہم غم کی چتا میں جل رہے ہیںTahir Tilhari (b. 1936)
- جب زلف شریر ہو گئی ہےخود اپنی اسیر ہو گئی ہےUnwan Chishti (1937–2004)
- جو اس نے کیا اسے صلہ دےمولا مجھے صبر کی جزا دےObaidullah Aleem (1939–1998)
- ویران سرائے کا دیا ہےجو کون و مکاں میں جل رہا ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
- سب بارشیں ہو کے تھم چکی تھیںروحوں میں دھنک اتر رہی تھیObaidullah Aleem (1939–1998)
- منصب نہ کلاہ چاہتا ہوںتنہا ہوں گواہ چاہتا ہوںIftikhar Arif (b. 1943)
- جس روز ہمارا کوچ ہوگاپھولوں کی دکانیں بند ہوں گیIftikhar Arif (b. 1943)
- ہر رنج قبول کر رہا ہوںزخموں کو میں پھول کر رہا ہوںZafar Hashmi (b. 1945)
- بیٹھا ہے میرے سامنے وہجانے کسی سوچ میں پڑا ہےFahmida Riaz (1946–2018)
- کولھوں میں بھنور جو ہیں تو کیا ہےسر میں بھی ہے جستجو کا جوہرFahmida Riaz (1946–2018)
- اپنی ہی صدا سنوں کہاں تکجنگل کی ہوا رہوں کہاں تکParveen Shakir (1952–1994)
- اشک آنکھ میں پھر اٹک رہا ہےکنکر سا کوئی کھٹک رہا ہےParveen Shakir (1952–1994)
- جب ساز کی لے بدل گئی تھیوہ رقص کی کون سی گھڑی تھیParveen Shakir (1952–1994)
- رکنے کا سمے گزر گیا ہےجانا ترا اب ٹھہر گیا ہےParveen Shakir (1952–1994)
- اس عمر کے بعد اس کو دیکھا!آنکھوں میں سوال تھے ہزاروںParveen Shakir (1952–1994)
- ''پتھر کی زباں'' کی شاعرہ نےاک محفل شعر و شاعری میںParveen Shakir (1952–1994)
- وہ باغ میں میرا منتظر تھااور چاند طلوع ہو رہا تھاParveen Shakir (1952–1994)
- ہم آنسوؤں سا ابل رہے ہیںآنکھوں سے تری نکل رہے ہیںPandit Aks Lucknowi (b. 1964)
- دیکھا نہیں چاند نے پلٹ کرہم سو گئے خواب سے لپٹ کرIdris Babar (b. 1973)
- تقدیر وفا کا پھوٹ جانامیں بھولا نہ دل کا ٹوٹ جاناIftikhar Raghib (b. 1973)
- بس تیرے لیے اداس آنکھیںاف مصلحت نا شناس آنکھیںGhalib Ayaz (b. 1981)
- مہتاب فضا کے آئنے میںدیکھا تھا خدا کے آئنے میںVasaf Basit (b. 1994)
- کہنے سے نہ منع کر کہوں گاتو میری نہ سن مگر کہوں گانظام رامپوری
- کیوں کرتے ہو اعتبار میرامعلوم ہے تم کو پیار میرانظام رامپوری
- جب سے کہ بتوں سے آشنا ہوںبیگانہ خدائی سے ہوا ہوںبخش ناسخ
- دیکھیں تجھے نہ آویں گے ہمکہنا نہیں کر دکھاویں گے ہمحسرت عظیم آبادی
- کم تر یا بیشتر گئے ہماس در سے بہ چشم نم گئے ہمحسرت عظیم آبادی
- پوچھی نہ خبر کبھی ہماریلی خوب خبر اجی ہماریعبدالرحمان احسان دہلوی
- غم یاں تو بکا ہوا کھڑا ہےفدوی ہے فدا ہوا کھڑا ہےعبدالرحمان احسان دہلوی
- بلبل کہو گل کی کیا خبر ہےگلشن میں بہار کس قدر ہےعشق اورنگ آبادی
- خاطر سے غبار دھو گئے ہمجتنا کہ ہنسے تھے رو گئے ہمعشق اورنگ آبادی
- پامال خرام ناز کیجےٹھکرائیے سرفراز کیجےکشن کمار وقار
- عارض سے ترے بہار مقصودہے خط سے بنقشہ زار مقصودکشن کمار وقار
- الفت نہ کروں گا اب کسی کیدشمن ہوا جس سے دوستی کیرند لکھنوی
- حیران سی ہے بھچک رہی ہےنرگس کس گل کو تک رہی ہےرند لکھنوی
- جوں گل تو ہنسے ہے کھل کھلا کرشبنم کی طرح مجھے رلا کرمیر اثر
- غم کو باہم بہم نہ کیجےگر غم ہے تو غم کا غم نہ کیجےمیر اثر
- کیدھر کی خوشی کہاں کی شادیجب دل سے ہوس ہی سب اڑا دیمیر اثر
- نالہ کرنا کہ آہ کرنادل میں اثرؔ اس کے راہ کرنامیر اثر
- نہ برق نہ شعلہ نے شرر ہوںجو کہئے سو قصہ مختصر ہوںمیر اثر
- وحشت زدہ دل تو جوں شرر ہےاس کے تئیں آپ سے سفر ہےمیر اثر
- جو بات ہے تیری سو نرالیعشاق کشی نئی نکالیمیر اثر
- یا دور مرا حجاب کر دےیا اپنے کو بے نقاب کر دےمبارک عظیم آبادی
- نالاں نہیں کچھ ترے ستم پرایسی ہی بنی ہے اپنے دم پرقربان علی سالک بیگ
- جی جائے مگر نہ وہ پری جائےیا رب نہ ہماری دل لگی جائےسخی لکھنوی
- رخ پر ہے ملال آج کیسادل بر ہے ملال آج کیساسخی لکھنوی