شمعوں کی طرح پگھل رہے ہیں
Tahir Tilhari (b. 1936)شمعوں کی طرح پگھل رہے ہیں
ہم غم کی چتا میں جل رہے ہیں
دل میں ہے ہجوم وسوسوں کا
آسیب کھنڈر میں پل رہے ہیں
دنیا نے ہزار رنگ بدلے
ہم اپنی جگہ اٹل رہے ہیں
لمحات کی تند آندھیوں میں
صدیوں کے چراغ چل رہے ہیں
جانا ہے کہاں خبر نہیں کچھ
چلنے کا جنوں ہے چل رہے ہیں
سورج ہو کہ رات کا اندھیرا
سب میرے لہو پہ پل رہے ہیں
کچھ ایسی کڑی ہے دھوپ طاہرؔ
پتھر بھی یہاں پگھل رہے ہیں