جب بانٹنا ہی عذاب ٹھہرا
Parveen Fana Syed (1936–2010)جب بانٹنا ہی عذاب ٹھہرا
پھر کیسا حساب مانگتے ہو
سب ہونٹوں پہ مہر لگ چکی ہے
اب کس سے جواب مانگتے ہو
کلیوں کو مسل کے اپنے ہاتھوں
پھولوں سے شباب مانگتے ہو
ہر لفظ صلیب پر چڑھا کر
تم کیسی کتاب مانگتے ہو
سب روشنیوں کو چھین کر بھی
فردوس بریں میں مل سکے گی
اس یگ میں شراب مانگتے ہو