Poetry
Hazaj Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف- اے شمع دل افروز شب تار محبتبخشے ہے یہی گرمی بازار محبتMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- بیدارؔ کروں کس سے میں اظہار محبتبس دل ہے مرا محرم اسرار محبتMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- دیتا نہیں دل لے کے وہ مغرور کسی کاسچ ہے کہ نہ ظالم سے چلے زور کسی کاMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- مکتب میں تجھے دیکھ کسے ہوش سبق ہےہر طفل کے یاں اشک سے آلودہ ورق ہےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- آنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھاہے حسرت پابوس نکل جائے تو اچھاSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- زخمی ہوں ترے ناوک دزدیدہ نظر سےجانے کا نہیں چور مرے زخم جگر سےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- وہ کون ہے جو مجھ پہ تأسف نہیں کرتاپر میرا جگر دیکھ کہ میں اف نہیں کرتاSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- جو کچھ کہ ہے دنیا میں وہ انساں کے لیے ہےآراستہ یہ گھر اسی مہماں کے لیے ہےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- آباد غم و درد سے ویرانہ ہے اس کاٹوٹا ہوا جو دل ہے وہ کاشانہ ہے اس کاNaseem Dehlvi (1794–1864)
- شکوا ہے نہ غصہ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتاکیوں آپ کو دھڑکا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتاNaseem Dehlvi (1794–1864)
- تو دوست کسی کا بھی، ستمگر! نہ ہوا تھااوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھاMirza Ghalib (1797–1869)
- جاتا ہوں جدھر سب کی اُٹھے ہے اُدھر انگشتیک دست جہاں مجھ سے پھرا ہے مگر انگشتMirza Ghalib (1797–1869)
- ہے بس کہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اورکرتے ہیں مَحبّت تو گزرتا ہے گماں اورMirza Ghalib (1797–1869)
- لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اورتنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اورMirza Ghalib (1797–1869)
- ہم بے خودئ عشق میں کر لیتے ہیں سجدےیہ ہم سے نہ پوچھو کہ کہاں ناصِیہ سا ہیںMirza Ghalib (1797–1869)
- ہے بزم بتاں میں سخن آزردہ لبوں سےتنگ آئے ہیں ہم ایسے خوشامد طلبوں سےMirza Ghalib (1797–1869)
- تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جاسن لیتے ہیں گو ذکر ہمارا نہیں کرتےMirza Ghalib (1797–1869)
- کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئےیک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی "کہ وو آئے"Mirza Ghalib (1797–1869)
- جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوےجاں کالبدِ صورتِ دیوار میں آوےMirza Ghalib (1797–1869)
- جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کیلکھ دیجیو یا رب اسے قسمت میں عدو کیMirza Ghalib (1797–1869)
- ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتےمرتے ہیں ، ولے ، اُن کی تمنا نہیں کرتےMirza Ghalib (1797–1869)
- بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگےہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگےMirza Ghalib (1797–1869)
- ہوں میں بھی تماشائیِ نیرنگِ تمنامطلب نہیں کچھ اس سے کہ مطلب ہی بر آوےMirza Ghalib (1797–1869)
- شبنم بہ گلِ لالہ نہ خالی ز ادا ہےداغِ دلِ بے درد، نظر گاہِ حیا ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہےیہ رنج کہ کم ہے مۓ گلفام، بہت ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- تا چند نفس غفلتِ ہستی سے بر آوےقاصد تپشِ نالہ ہے یا رب خبر آوےMirza Ghalib (1797–1869)
- جوں شمع ہم اک سوختہ سامانِ وفا ہیںاُور اس کے سواکچھ نہیں معلوم کہ کیا ہیںMirza Ghalib (1797–1869)
- رفتار سے شیرازۂ اجزائے قدم باندھاے آبلے محمل پئے صحرائے عدم باندھMirza Ghalib (1797–1869)
- زلفِ سیہ افعی نظرِ بد قلمی ہےہر چند خطِ سبز و زمرد رقمی ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- طاؤس نمط داغ کے گر رنگ نکالوںیک فردِ نسب نامۂ نیرنگ نکالوںMirza Ghalib (1797–1869)
- قطعِ سفرِ ہستی و آرامِ فنا ہیچرفتار نہیں بیشتر از لغزشِ پا ہیچMirza Ghalib (1797–1869)
- کاشانۂ ہستی کہ بر انداختنی ہےیاں سوختنی اور وہاں ساختنی ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- کرتا ہے بہ یادِ بتِ رنگیں دلِ مایوسرنگِ ز نظر رفتہ حنائے کفِ افسوسMirza Ghalib (1797–1869)
- کوشش ہمہ بے تابِ تردد شکنی ہےصد جنبشِ دل یک مژہ برہم زدنی ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- کیا ضعف میں امید کو دل تنگ نکالوںمیں خار ہوں آتش میں چبھوں رنگ نکالوںMirza Ghalib (1797–1869)
- منقار سے رکھتا ہوں بہم چاکِ قفس کوتا گل ز جگر زخم میں ہے راہِ نفس کوMirza Ghalib (1797–1869)
- ہے تنگ زِ واماندہ شدن حوصلۂ پاجو اشک گرا خاک میں ہے آبلۂ پاMirza Ghalib (1797–1869)
- یاں اشک جدا گرم ہے اور آہ جدا گرمحسرت کدہ عشق کی ہے آب و ہوا گرمMirza Ghalib (1797–1869)
- درمدح شاہMirza Ghalib (1797–1869)
- ہاں نفس باد سحر شعلہ فشاں ہواے دجلۂ خوں چشم ملائک سے رواں ہوMirza Ghalib (1797–1869)
- آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھوہے بو الہوسوں پر بھی ستم ناز تو دیکھوMomin Khan Momin (1800–1852)
- ڈر تو مجھے کس کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتاپر حال یہ افشا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتاMomin Khan Momin (1800–1852)
- گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتادم کاہے کو یوں اے دل ناکام نکلتاMomin Khan Momin (1800–1852)
- وعدے کی جو ساعت دم کشتن ہے ہماراجو دوست ہمارا ہے سو دشمن ہے ہماراMomin Khan Momin (1800–1852)
- ہے دل میں غبار اس کے گھر اپنا نہ کریں گےہم خاک میں ملنے کی تمنا نہ کریں گےMomin Khan Momin (1800–1852)
- چلتی تو ہے پر شوخئ رفتار کہاں ہےتلوار میں پازیب کی جھنکار کہاں ہےKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- دریائے شراب اس نے بہایا ہے ہمیشہساقی سے جو کشتی کے طلب گار ہوئے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- وہ اور مرض ہیں کہ شفا ہوتی ہے جن سےاچھے کہیں ان آنکھوں کے بیمار ہوئے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- اُس بزم میں ہر ایک سے کم تر نظر آیاوہ حسن کہ خورشید کے عہدے سے بر آیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- جی داغِ غمِ رشک سے جل جائے تو اچھاارمان عدو کا بھی نکل جائے تو اچھاMustafa Khan Shefta (1809–1869)