Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Hazaj Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf

ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. اے شمع دل افروز شب تار محبتبخشے ہے یہی گرمی بازار محبتMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  2. بیدارؔ کروں کس سے میں اظہار محبتبس دل ہے مرا محرم اسرار محبتMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  3. دیتا نہیں دل لے کے وہ مغرور کسی کاسچ ہے کہ نہ ظالم سے چلے زور کسی کاMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  4. مکتب میں تجھے دیکھ کسے ہوش سبق ہےہر طفل کے یاں اشک سے آلودہ ورق ہےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  5. آنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھاہے حسرت پابوس نکل جائے تو اچھاSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  6. زخمی ہوں ترے ناوک دزدیدہ نظر سےجانے کا نہیں چور مرے زخم جگر سےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  7. وہ کون ہے جو مجھ پہ تأسف نہیں کرتاپر میرا جگر دیکھ کہ میں اف نہیں کرتاSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  8. جو کچھ کہ ہے دنیا میں وہ انساں کے لیے ہےآراستہ یہ گھر اسی مہماں کے لیے ہےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  9. آباد غم و درد سے ویرانہ ہے اس کاٹوٹا ہوا جو دل ہے وہ کاشانہ ہے اس کاNaseem Dehlvi (1794–1864)
  10. شکوا ہے نہ غصہ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتاکیوں آپ کو دھڑکا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتاNaseem Dehlvi (1794–1864)
  11. تو دوست کسی کا بھی، ستمگر! نہ ہوا تھااوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھاMirza Ghalib (1797–1869)
  12. جاتا ہوں جدھر سب کی اُٹھے ہے اُدھر انگشتیک دست جہاں مجھ سے پھرا ہے مگر انگشتMirza Ghalib (1797–1869)
  13. ہے بس کہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اورکرتے ہیں مَحبّت تو گزرتا ہے گماں اورMirza Ghalib (1797–1869)
  14. لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اورتنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اورMirza Ghalib (1797–1869)
  15. ہم بے خودئ عشق میں کر لیتے ہیں سجدےیہ ہم سے نہ پوچھو کہ کہاں ناصِیہ سا ہیںMirza Ghalib (1797–1869)
  16. ہے بزم بتاں میں سخن آزردہ لبوں سےتنگ آئے ہیں ہم ایسے خوشامد طلبوں سےMirza Ghalib (1797–1869)
  17. تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جاسن لیتے ہیں گو ذکر ہمارا نہیں کرتےMirza Ghalib (1797–1869)
  18. کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئےیک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی "کہ وو آئے"Mirza Ghalib (1797–1869)
  19. جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوےجاں کالبدِ صورتِ دیوار میں آوےMirza Ghalib (1797–1869)
  20. جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کیلکھ دیجیو یا رب اسے قسمت میں عدو کیMirza Ghalib (1797–1869)
  21. ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتےمرتے ہیں ، ولے ، اُن کی تمنا نہیں کرتےMirza Ghalib (1797–1869)
  22. بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگےہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگےMirza Ghalib (1797–1869)
  23. ہوں میں بھی تماشائیِ نیرنگِ تمنامطلب نہیں کچھ اس سے کہ مطلب ہی بر آوےMirza Ghalib (1797–1869)
  24. شبنم بہ گلِ لالہ نہ خالی ز ادا ہےداغِ دلِ بے درد، نظر گاہِ حیا ہےMirza Ghalib (1797–1869)
  25. غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہےیہ رنج کہ کم ہے مۓ گلفام، بہت ہےMirza Ghalib (1797–1869)
  26. تا چند نفس غفلتِ ہستی سے بر آوےقاصد تپشِ نالہ ہے یا رب خبر آوےMirza Ghalib (1797–1869)
  27. جوں شمع ہم اک سوختہ سامانِ وفا ہیںاُور اس کے سواکچھ نہیں معلوم کہ کیا ہیںMirza Ghalib (1797–1869)
  28. رفتار سے شیرازۂ اجزائے قدم باندھاے آبلے محمل پئے صحرائے عدم باندھMirza Ghalib (1797–1869)
  29. زلفِ سیہ افعی نظرِ بد قلمی ہےہر چند خطِ سبز و زمرد رقمی ہےMirza Ghalib (1797–1869)
  30. طاؤس نمط داغ کے گر رنگ نکالوںیک فردِ نسب نامۂ نیرنگ نکالوںMirza Ghalib (1797–1869)
  31. قطعِ سفرِ ہستی و آرامِ فنا ہیچرفتار نہیں بیشتر از لغزشِ پا ہیچMirza Ghalib (1797–1869)
  32. کاشانۂ ہستی کہ بر انداختنی ہےیاں سوختنی اور وہاں ساختنی ہےMirza Ghalib (1797–1869)
  33. کرتا ہے بہ یادِ بتِ رنگیں دلِ مایوسرنگِ ز نظر رفتہ حنائے کفِ افسوسMirza Ghalib (1797–1869)
  34. کوشش ہمہ بے تابِ تردد شکنی ہےصد جنبشِ دل یک مژہ برہم زدنی ہےMirza Ghalib (1797–1869)
  35. کیا ضعف میں امید کو دل تنگ نکالوںمیں خار ہوں آتش میں چبھوں رنگ نکالوںMirza Ghalib (1797–1869)
  36. منقار سے رکھتا ہوں بہم چاکِ قفس کوتا گل ز جگر زخم میں ہے راہِ نفس کوMirza Ghalib (1797–1869)
  37. ہے تنگ زِ واماندہ شدن حوصلۂ پاجو اشک گرا خاک میں ہے آبلۂ پاMirza Ghalib (1797–1869)
  38. یاں اشک جدا گرم ہے اور آہ جدا گرمحسرت کدہ عشق کی ہے آب و ہوا گرمMirza Ghalib (1797–1869)
  39. درمدح شاہMirza Ghalib (1797–1869)
  40. ہاں نفس باد سحر شعلہ فشاں ہواے دجلۂ خوں چشم ملائک سے رواں ہوMirza Ghalib (1797–1869)
  41. آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھوہے بو الہوسوں پر بھی ستم ناز تو دیکھوMomin Khan Momin (1800–1852)
  42. ڈر تو مجھے کس کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتاپر حال یہ افشا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتاMomin Khan Momin (1800–1852)
  43. گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتادم کاہے کو یوں اے دل ناکام نکلتاMomin Khan Momin (1800–1852)
  44. وعدے کی جو ساعت دم کشتن ہے ہماراجو دوست ہمارا ہے سو دشمن ہے ہماراMomin Khan Momin (1800–1852)
  45. ہے دل میں غبار اس کے گھر اپنا نہ کریں گےہم خاک میں ملنے کی تمنا نہ کریں گےMomin Khan Momin (1800–1852)
  46. چلتی تو ہے پر شوخئ رفتار کہاں ہےتلوار میں پازیب کی جھنکار کہاں ہےKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  47. دریائے شراب اس نے بہایا ہے ہمیشہساقی سے جو کشتی کے طلب گار ہوئے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  48. وہ اور مرض ہیں کہ شفا ہوتی ہے جن سےاچھے کہیں ان آنکھوں کے بیمار ہوئے ہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  49. اُس بزم میں ہر ایک سے کم تر نظر آیاوہ حسن کہ خورشید کے عہدے سے بر آیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  50. جی داغِ غمِ رشک سے جل جائے تو اچھاارمان عدو کا بھی نکل جائے تو اچھاMustafa Khan Shefta (1809–1869)