دریائے شراب اس نے بہایا ہے ہمیشہ

Kalb-e-husain Nadir (1805–1878)

دریائے شراب اس نے بہایا ہے ہمیشہ

ساقی سے جو کشتی کے طلب گار ہوئے ہیں