Poetry
Hazaj Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف- مشکل ہے کہ پہلو سے جدا دل نہیں ہوتااور میرے ستانے سے وہ غافل نہیں ہوتاجمیلہ خدا بخش
- یوں آتی ہیں اب میرے تنفس کی صدائیںجس طرح سے دیتا ہے کوئی نوحہ گر آوازHabeeb Moosavi
- سینے میں جو ہے درد کا دریا نہیں اترالیکن مری امید کا چہرہ نہیں اتراBadr Muneer
- جب وصل کا آئے گا ترے ساتھ صنم دناس دن کو حقیقت میں کہوں گا میں جنم دنBadr Muneer
- جیون ہے سڑک اور کنارے پہ کھڑے ہیںلگتا ہے کہ مدت سے اشارے پہ کھڑے ہیںBadr Muneer
- پھولوں میں وہ خوشبو وہ صباحت نہیں آئیاب تک ترے آنے کی شہادت نہیں آئیAitbar Sajid
- آنا تھا جسے آج وہ آیا تو نہیں ہےیہ وقت بدلنے کا اشارا تو نہیں ہےFaheem Jogapuri
- آنکھوں سے کسی خواب کا رشتہ ہی نہیں تھااس آئنے میں عکس ٹھہرتا ہی نہیں تھاFaheem Jogapuri
- محتاج نہیں قافلہ آواز درا کاسیدھی ہے رہ بت کدہ احسان خدا کاسید یوسف علی خاں ناظم
- ہم کو ہوس جلوہ گاہ طور نہیں ہےاس حسن کی کیا قدر جو مستور نہیں ہےسید یوسف علی خاں ناظم
- ہے آئینہ خانے میں ترا ذوق فزا رقصکرتے ہیں بہت سے ترے ہم شکل جدا رقصسید یوسف علی خاں ناظم
- رونے کی یہ شدت ہے کہ گھبرا گئیں آنکھیںاشکوں کی یہ کثرت ہے کہ تنگ آ گئیں آنکھیںسید یوسف علی خاں ناظم
- اس بت نے گلابی جو اٹھا منہ سے لگائیشیشے میں عجب آن سے جھمکے تھی خدائیWaliullah Muhib
- اے ہم نفس اس زلف کے افسانے کو مت چھیڑبس سلسلہ جنباں نہ ہو دیوانے کو مت چھیڑWaliullah Muhib
- پہچانے تو ہر دم وہی ہر آن وہی ہےجاناں وہی اے جان وہی جان وہی ہےWaliullah Muhib
- تم جانتے ہو کس لئے وہ مجھ سے گیا لڑاے ہمدم من اس کے کہیں اور لگی لڑWaliullah Muhib
- ملتی ہے اسے گوہر شب تاب کی میراثلی مجھ دل صد پارہ نے سیماب کی میراثWaliullah Muhib
- انجمؔ تمہیں الفت ابھی کرنا نہیں آتاہر ایک پہ مرتے ہو پہ مرنا نہیں آتامرزا آسمان جاہ انجم
- ضائع نہیں ہوتی کبھی تدبیر کسی کیمیری سی خدایا نہ ہو تقدیر کسی کینظام رامپوری
- گر دوستو تم نے اسے دیکھا نہیں ہوتاکہنے کا تمہارے مجھے شکوا نہیں ہوتانظام رامپوری
- وہ تو یوں ہی کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتامیرا یہ مقولہ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتانظام رامپوری
- دولت ہے بڑی چیز حکومت ہے بڑی چیزان سب سے بشر کے لئے عزت ہے بڑی چیزنوح ناروی
- کیا وصل کی امید مرے دل کو کبھی ہواس شوخ کی تصویر بھی جب مجھ سے کھنچی ہونوح ناروی
- کیا وصل کے اقرار پہ مجھ کو ہو خوشی آجاس کی بھی یہ صورت ہے کبھی کل ہے کبھی آجنوح ناروی
- کیوں آپ کو خلوت میں لڑائی کی پڑی ہےملنے کی گھڑی ہے کہ یہ لڑنے کی گھڑی ہےنوح ناروی
- گل زار میں یہ کہتی ہے بلبل گل تر سےدیکھے کوئی معشوق کو عاشق کی نظر سےنوح ناروی
- مانا کہ مرا دل بھی جگر بھی ہے کوئی چیزلیکن وہ نظر تیر نظر بھی ہے کوئی چیزنوح ناروی
- آئینۂ عبرت ہے مرا دل بھی جگر بھیاک درد کی تصویر ادھر بھی ہے ادھر بھیثاقب لکھنوی
- ایک ایک گھڑی اس کی قیامت کی گھڑی ہےجو ہجر میں تڑپائے وہی رات بڑی ہےثاقب لکھنوی
- یہ آہ و فغاں کیوں ہے دل زار کے آگےکہتے ہیں کہ روتے نہیں بیمار کے آگےثاقب لکھنوی
- پایا ترے کشتوں نے جو میدان بیاباںشان چمن خلد ہوئی شان بیاباںآغا حجو شرف
- جی لیتی ہے وہ زلف سیہ فام ہمارابجھتا ہے چراغ آج سر شام ہمارابخش ناسخ
- سو قصوں سے بہتر ہے کہانی مرے دل کیسن اس کو تو اے جان زبانی مرے دل کیبخش ناسخ
- کرتی ہے مجھے قتل مرے یار کی رفتارتلوار کی تلوار ہے رفتار کی رفتاربخش ناسخ
- وہ روئے کتابی تو ہے قرآن ہماراکہتے ہیں جسے عشق ہے ایمان ہمارابخش ناسخ
- ہیں اشک مری آنکھوں میں قلزم سے زیادہہیں داغ مرے سینے میں انجم سے زیادہبخش ناسخ
- اب تجھ سے پھرا یہ دل ناکام ہمارااس کوچے میں کم ہی رہے گا کام ہماراحسرت عظیم آبادی
- چاہے سو ہمیں کر تو گنہ گار ہیں تیرےتقدیر تھی اپنی کہ گرفتار ہیں تیرےحسرت عظیم آبادی
- گر عشق سے واقف مرے محبوب نہ ہوتاہوتا نہ میں مہجور وہ محجوب نہ ہوتاحسرت عظیم آبادی
- ہم آپ کو تو عشق میں برباد کریں گےتاثیر وفا پر تجھے کیا یاد کریں گےحسرت عظیم آبادی
- ہم عشق سوا کم ہیں کسی نام سے واقفنہ کفر کے محرم ہیں نہ اسلام سے واقفحسرت عظیم آبادی
- آنکھوں کے چراغوں میں اجالے نہ رہیں گےآ جاؤ کہ پھر دیکھنے والے نہ رہیں گےKhumar Barabankavi
- صحرا کو بہت ناز ہے ویرانی پہ اپنیواقف نہیں شاید مرے اجڑے ہوئے گھر سےKhumar Barabankavi
- آنکھوں میں مروت تری اے یار کہاں ہےپوچھا نہ کبھو مجھ کو وہ بیمار کہاں ہےعبدالرحمان احسان دہلوی
- بس خاک قدم دیجئے تکرار بہت کیمٹی مری اس خاک نے ہی خوار بہت کیعبدالرحمان احسان دہلوی
- کچھ طور نہیں بچنے کا زنہار ہماراجی لے ہی کے جاوے گا یہ آزار ہماراعبدالرحمان احسان دہلوی
- مانگو ہو ابھی دل مجھے نادان سمجھ کرپھر دوں گا جواب اس کا مری جان سمجھ کرعبدالرحمان احسان دہلوی
- میاں کیا ہو گر ابروئے خم دار کو دیکھاکیوں میری طرف دیکھ کے تلوار کو دیکھاعبدالرحمان احسان دہلوی
- جان اپنی چلی جائے ہے جائے سے کسو کیاور جان میں جان آئے ہے آئے سے کسو کیعبدالرحمان احسان دہلوی
- آئینہ کبھی قابل دیدار نہ ہووےگر خاک کے ساتھ اس کو سروکار نہ ہووےعشق اورنگ آبادی