Poetry
Ramal Musaddas Mahzuf
رمل مسدس محذوف- مدحِ شاہMirza Ghalib (1797–1869)
- ایک دن مثلِ پتنگِ کاغذیلے کے دل سر رشتۂ آزادگیMirza Ghalib (1797–1869)
- غالبؔ کے کچھ ہنگامی مصرعے اور شعرMirza Ghalib (1797–1869)
- پتنگِ کاغذیMirza Ghalib (1797–1869)
- وعدۂ وصلت سے دل ہو شاد کیاتم سے دشمن کی مبارک باد کیاMomin Khan Momin (1800–1852)
- عشق کی میرے جو شہرت ہو گئییار سے مجھ کو ندامت ہو گئیMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- بولئے کرتا ہوں منت آپ کیکیوں مکدر ہے طبیعت آپ کیImdad Ali Bahr (1810–1878)
- تیری ہر اک بات ہے نشتر نہ چھیڑپکا پھوڑا ہوں میں اے دل بر نہ چھیڑImdad Ali Bahr (1810–1878)
- جلوۂ ارباب دنیا دیکھیےسوانگ ہے یہ بھی تماشا دیکھیےImdad Ali Bahr (1810–1878)
- سب حسینوں میں وہ پیارا خوب ہےایک چہرہ جسم سارا خوب ہےImdad Ali Bahr (1810–1878)
- فصل گل آتے ہی وحشت ہو گئیپھر وہی اپنی طبیعت ہو گئیLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- اشک ٹپکے حال دل کا کھل گیادیدۂ گریاں سے پردہ کھل گیاPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- جب سے تیری آنکھ ہم سے پھر گئیحلقۂ غم میں طبیعت گھر گئیPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- جب نہ جیتے جی مرے کام آئے گیکیا یہ دنیا عاقبت بخشائے گیPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- عشق کی خوبی کہوں کیا آشناجان کا دشمن ہے دل کا آشناPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- عشق میں دل بن کے دیوانہ چلاآشنا سے ہو کے بیگانہ چلاPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- یار ہے تو جس کو سمجھا غیر ہےغیر اپنا کون اپنا غیر ہےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- دل بہ دل آئینہ ہے دیر و حرمحق جو پوچھو ایک در ہے دو طرفPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- یا ستم کر یا کرم چاہے سو کرچاہتے ہیں تجھ کو ہم چاہے سو کرBal Mukund Besabr (1812–1885)
- پیچ فقرے پر کیا جاتا نہیںکوئی دھاگا دو بٹا جاتا نہیںMunir Shikohabadi (1814–1880)
- ذکر جاناں کر جو تجھ سے ہو سکےواعظ احساں کر جو تجھ سے ہو سکےHatim Ali Mehr (1815–1879)
- تندرستوں میں نہ بیماروں کے بیچعشق کے ہوں میں دل افگاروں کے بیچMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- وہ کھڑے کہتے ہیں میری لاش پرہم تو سنتے تھے کہ نیند آتی نہیںTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- بحث کیوں ہے کافر و دیں دار کیسب ہے قدرت داور دوار کیBahram ji (1828–1895)
- جب سے بلبل تو نے دو تنکے لیےٹوٹتی ہیں بجلیاں ان کے لیےAmeer Minai (1829–1900)
- قبلۂ دل کعبۂ جاں اور ہےسجدہ گاہ اہل عرفاں اور ہےAmeer Minai (1829–1900)
- وعدۂ وصل اور وہ کچھ بات ہےہو نہ ہو اس میں بھی کوئی گھات ہےAmeer Minai (1829–1900)
- شیخ کو کعبے سے جو مقصود ہےوہ کنشت دل ہی میں موجود ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- عیش و عشرت ہی میں کچھ ہے زندگیمرگ ہے بے یار و بے مے زندگیJoshish Azimabadi (d. 1830)
- نالۂ دل کی تو کوتاہی نہیںپر اثر کچھ اس کو ہوتا ہی نہیںJoshish Azimabadi (d. 1830)
- چھک گئے ہیں آج اک ساغر سے ہمہاتھ دھو بیٹھے مئے کوثر سے ہمDagh Dehlvi (1831–1905)
- دل گیا تم نے لیا ہم کیا کریںجانے والی چیز کا غم کیا کریںDagh Dehlvi (1831–1905)
- رشک سے غیروں کے جی کھوتے ہیں ہمکیا بروں کی جان کو روتے ہیں ہمDagh Dehlvi (1831–1905)
- رنج کی جب گفتگو ہونے لگیآپ سے تم تم سے تو ہونے لگیDagh Dehlvi (1831–1905)
- شمع روشن ہے ہماری آہ سےلو لگائے بیٹھے ہیں اللہ سےDagh Dehlvi (1831–1905)
- غیر ہو ناشاد کیوں کیسی کہیچاہتا ہوں داد کیوں کیسی کہیDagh Dehlvi (1831–1905)
- ہاتھ نکلے اپنے دونوں کام کےدل کو تھاما ان کا دامن تھام کےDagh Dehlvi (1831–1905)
- ہیں بہت سے عاشق دلگیر جمعتیرے ترکش میں ہیں کتنے تیر جمعDagh Dehlvi (1831–1905)
- قول تیرا شوق میرا چاہیئےجھوٹ سچ کے واسطے کیا چاہیئےDagh Dehlvi (1831–1905)
- بات تک کرنی نہ آتی تھی تمہیںیہ ہمارے سامنے کی بات ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
- یہ تو کہئے اس خطا کی کیا سزامیں جو کہہ دوں آپ پر مرتا ہوں میںDagh Dehlvi (1831–1905)
- اے مصور جو مری تصویر کھینچحسرت آگیں غمزدہ دلگیر کھینچJalal Lakhnavi (1832–1909)
- جانے والا اضطراب دل نہیںیہ تڑپ تسکین کے قابل نہیںJalal Lakhnavi (1832–1909)
- آئے کیا تیرا تصور دھیان میںکچھ سے کچھ ہے آن ہی کی آن میںQalaq Meerathi (1835–1880)
- چل دیے ہم اے غم عالم وداعشور ماتم تا کجا ماتم وداعQalaq Meerathi (1835–1880)
- گل ہوا یہ کس کی ہستی کا چراغمدعی کے گھر جلا گھی کا چراغZaheer Dehlvi (1835–1911)
- ہاتھ سے ہیہات کیا جاتا رہامرنے جینے کا مزا جاتا رہاZaheer Dehlvi (1835–1911)
- حشر تک یاں دل شکیبا چاہئےکب ملیں دلبر سے دیکھا چاہئےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- عشق کو ترک جنوں سے کیا غرضچرخ گرداں کو سکوں سے کیا غرضAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- گو جوانی میں تھی کج رائی بہتپر جوانی ہم کو یاد آئی بہتAltaf Hussain Hali (1837–1914)