Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'

رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
Poet
Meter
Clear
  1. نئے غمزے نئے انداز نظر آتے ہیںدن بہ دن حسن کے اعجاز نظر آتے ہیںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  2. وہ ہی آسان کرے گا مری دشواری کوجس نے دشوار کیا ہے مری آسانی کوParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  3. آہ کرتا ہوں تو آتے ہیں پسینے ان کونالہ کرتا ہوں تو راتوں کو وہ ڈر جاتے ہیںSaail Dehlvi (1867–1945)
  4. ان کی یہ ضد کہ مرے گھر میں نہ آئے کوئیاپنی ہی ہٹ کہ مجھے خود ہی بلائے کوئیHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  5. خود بخود آنکھ بدل کر یہ سوال اچھا ہےروز کب تک کوئی پوچھا کرے حال اچھا ہےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  6. شکوہ کرتے ہیں زباں سے نہ گلا کرتے ہیںتم سلامت رہو ہم تو یہ دعا کرتے ہیںHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  7. گو یہ رکھتی نہیں انسان کی حالت اچھیپھر بھی سو کام سے دنیا کے محبت اچھیHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  8. ہائے اب کون لگی دل کی بجھانے آئےجن سے امید تھی اور آگ لگانے آئےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  9. جب ملا کوئی حسیں جان پر آفت آئیسو جگہ عہد جوانی میں طبیعت آئیHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  10. جب دوبارہ کسی عاشق کا جنم ہوتا ہےاک وفادار سگ کوئے صنم ہوتا ہےZarif Lakhnavi (1870–1937)
  11. اب وہ آغوش تصور سے نہ جانے پائےبے خودی مجھ کو کبھی ہوش نہ آنے پائےYas Tonki (b. 1870)
  12. فہم و ادراک سے رتبہ ترا بالا دیکھاقافیہ تنگ بہت فکر رسا کا دیکھاYas Tonki (b. 1870)
  13. موت آتی ہے نہ کمبخت قرار آتا ہےتجھ پہ اب رحم بہت اے دل زار آتا ہےYas Tonki (b. 1870)
  14. ہائے کس انجمن ناز سے تو آتی ہےاے صبا تجھ سے مجھے رشک کی بو آتی ہےYas Tonki (b. 1870)
  15. حسن سے شرح ہوئی عشق کے افسانے کیشمع لو دے کے زباں بن گئی پروانے کیArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  16. دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوںیعنی اک ظلم کی تصویر لیے بیٹھا ہوںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  17. دم بخود بیٹھ کے خود جیسے زباں گیلی ہےسانس کیا لوں کہ ہوا دہر کی زہریلی ہےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  18. نالے مجبوروں کے خالی نہیں جانے والےہیں یہ سوتا ہوا انصاف جگانے والےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  19. نظر اس چشم پہ ہے جام لیے بیٹھا ہوںہے نہ پینے کا یہ مطلب کہ پیے بیٹھا ہوںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  20. رس ان آنکھوں کا ہے کہنے کو ذرا سا پانیسینکڑوں ڈوب گئے پھر بھی ہے اتنا پانیArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  21. اب وہ فرماتے ہیں کب میں نے دکھائیں آنکھیںآپ نے مفت میں رو رو کے سجائیں آنکھیںHasrat Mohani (1875–1951)
  22. اور بھی ہو گئے بیگانہ وہ غفلت کر کےآزمایا جو انہیں ضبط محبت کر کےHasrat Mohani (1875–1951)
  23. اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہےاک ترے درد کو پہلو میں چھپا رکھا ہےHasrat Mohani (1875–1951)
  24. بت بے‌ درد کا غم مونس ہجراں نکلادرد جانا تھا جسے ہم نے وہ درماں نکلاHasrat Mohani (1875–1951)
  25. برکتیں سب ہیں عیاں دولت روحانی کیواہ کیا بات ہے اس چہرۂ نورانی کیHasrat Mohani (1875–1951)
  26. پیرو مسلک تسلیم و رضا ہوتے ہیںہم تیری راہ محبت میں فنا ہوتے ہیںHasrat Mohani (1875–1951)
  27. خو سمجھ میں نہیں آتی ترے دیوانوں کیدامنوں کی نہ خبر ہے نہ گریبانوں کیHasrat Mohani (1875–1951)
  28. دیکھنا بھی تو انہیں دور سے دیکھا کرناشیوۂ عشق نہیں حسن کو رسوا کرناHasrat Mohani (1875–1951)
  29. برق کو ابر کے دامن میں چھپا دیکھا ہےہم نے اس شوخ کو مجبور حیا دیکھا ہےHasrat Mohani (1875–1951)
  30. اپنی ہستی کا اگر حسن نمایاں ہو جائےآدمی کثرت انوار سے حیراں ہو جائےBedam Warsi (1876–1936)
  31. طور والے تری تنویر لیے بیٹھے ہیںہم تجھی کو بت بے پیر لیے بیٹھے ہیںBedam Warsi (1876–1936)
  32. عشق کے آثار ہیں پھر غش مجھے آیا دیکھوپھر کوئی روزن دیوار سے جھانکا دیکھوBedam Warsi (1876–1936)
  33. نامہ بر تو ہی بتا تو نے تو دیکھے ہوں گےکیسے ہوتے ہیں وہ خط جن کے جواب آتے ہیںQamar Badayuni (1876–1941)
  34. ابر کوہسارAllama Iqbal (1877–1938)
  35. بچے کی د عاAllama Iqbal (1877–1938)
  36. انسان اور بزم قد رتAllama Iqbal (1877–1938)
  37. مو ج دریاAllama Iqbal (1877–1938)
  38. صبح کا ستارہAllama Iqbal (1877–1938)
  39. حسن و عشقAllama Iqbal (1877–1938)
  40. کی گود میں بلی دیکھ کرAllama Iqbal (1877–1938)
  41. نوائے غمAllama Iqbal (1877–1938)
  42. جلوہء حسنAllama Iqbal (1877–1938)
  43. عبد القادر کے نامAllama Iqbal (1877–1938)
  44. جواب شکوہAllama Iqbal (1877–1938)
  45. شیکسپیرAllama Iqbal (1877–1938)
  46. پردہ چہرے سے اُٹھا، انجمن آرائی کرچشمِ مہر و مہ و انجم کو تماشائی کرAllama Iqbal (1877–1938)
  47. لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقیہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی!Allama Iqbal (1877–1938)
  48. تھا جہاں مدرسۂ شیری و شاہنشاہیآج اُن خانقہوں میں ہے فقط رُوباہیAllama Iqbal (1877–1938)
  49. صبحAllama Iqbal (1877–1938)
  50. اجتہادAllama Iqbal (1877–1938)