Poetry
Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع- نئے غمزے نئے انداز نظر آتے ہیںدن بہ دن حسن کے اعجاز نظر آتے ہیںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- وہ ہی آسان کرے گا مری دشواری کوجس نے دشوار کیا ہے مری آسانی کوParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- آہ کرتا ہوں تو آتے ہیں پسینے ان کونالہ کرتا ہوں تو راتوں کو وہ ڈر جاتے ہیںSaail Dehlvi (1867–1945)
- ان کی یہ ضد کہ مرے گھر میں نہ آئے کوئیاپنی ہی ہٹ کہ مجھے خود ہی بلائے کوئیHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- خود بخود آنکھ بدل کر یہ سوال اچھا ہےروز کب تک کوئی پوچھا کرے حال اچھا ہےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- شکوہ کرتے ہیں زباں سے نہ گلا کرتے ہیںتم سلامت رہو ہم تو یہ دعا کرتے ہیںHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- گو یہ رکھتی نہیں انسان کی حالت اچھیپھر بھی سو کام سے دنیا کے محبت اچھیHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- ہائے اب کون لگی دل کی بجھانے آئےجن سے امید تھی اور آگ لگانے آئےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- جب ملا کوئی حسیں جان پر آفت آئیسو جگہ عہد جوانی میں طبیعت آئیHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- جب دوبارہ کسی عاشق کا جنم ہوتا ہےاک وفادار سگ کوئے صنم ہوتا ہےZarif Lakhnavi (1870–1937)
- اب وہ آغوش تصور سے نہ جانے پائےبے خودی مجھ کو کبھی ہوش نہ آنے پائےYas Tonki (b. 1870)
- فہم و ادراک سے رتبہ ترا بالا دیکھاقافیہ تنگ بہت فکر رسا کا دیکھاYas Tonki (b. 1870)
- موت آتی ہے نہ کمبخت قرار آتا ہےتجھ پہ اب رحم بہت اے دل زار آتا ہےYas Tonki (b. 1870)
- ہائے کس انجمن ناز سے تو آتی ہےاے صبا تجھ سے مجھے رشک کی بو آتی ہےYas Tonki (b. 1870)
- حسن سے شرح ہوئی عشق کے افسانے کیشمع لو دے کے زباں بن گئی پروانے کیArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوںیعنی اک ظلم کی تصویر لیے بیٹھا ہوںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- دم بخود بیٹھ کے خود جیسے زباں گیلی ہےسانس کیا لوں کہ ہوا دہر کی زہریلی ہےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- نالے مجبوروں کے خالی نہیں جانے والےہیں یہ سوتا ہوا انصاف جگانے والےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- نظر اس چشم پہ ہے جام لیے بیٹھا ہوںہے نہ پینے کا یہ مطلب کہ پیے بیٹھا ہوںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- رس ان آنکھوں کا ہے کہنے کو ذرا سا پانیسینکڑوں ڈوب گئے پھر بھی ہے اتنا پانیArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- اب وہ فرماتے ہیں کب میں نے دکھائیں آنکھیںآپ نے مفت میں رو رو کے سجائیں آنکھیںHasrat Mohani (1875–1951)
- اور بھی ہو گئے بیگانہ وہ غفلت کر کےآزمایا جو انہیں ضبط محبت کر کےHasrat Mohani (1875–1951)
- اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہےاک ترے درد کو پہلو میں چھپا رکھا ہےHasrat Mohani (1875–1951)
- بت بے درد کا غم مونس ہجراں نکلادرد جانا تھا جسے ہم نے وہ درماں نکلاHasrat Mohani (1875–1951)
- برکتیں سب ہیں عیاں دولت روحانی کیواہ کیا بات ہے اس چہرۂ نورانی کیHasrat Mohani (1875–1951)
- پیرو مسلک تسلیم و رضا ہوتے ہیںہم تیری راہ محبت میں فنا ہوتے ہیںHasrat Mohani (1875–1951)
- خو سمجھ میں نہیں آتی ترے دیوانوں کیدامنوں کی نہ خبر ہے نہ گریبانوں کیHasrat Mohani (1875–1951)
- دیکھنا بھی تو انہیں دور سے دیکھا کرناشیوۂ عشق نہیں حسن کو رسوا کرناHasrat Mohani (1875–1951)
- برق کو ابر کے دامن میں چھپا دیکھا ہےہم نے اس شوخ کو مجبور حیا دیکھا ہےHasrat Mohani (1875–1951)
- اپنی ہستی کا اگر حسن نمایاں ہو جائےآدمی کثرت انوار سے حیراں ہو جائےBedam Warsi (1876–1936)
- طور والے تری تنویر لیے بیٹھے ہیںہم تجھی کو بت بے پیر لیے بیٹھے ہیںBedam Warsi (1876–1936)
- عشق کے آثار ہیں پھر غش مجھے آیا دیکھوپھر کوئی روزن دیوار سے جھانکا دیکھوBedam Warsi (1876–1936)
- نامہ بر تو ہی بتا تو نے تو دیکھے ہوں گےکیسے ہوتے ہیں وہ خط جن کے جواب آتے ہیںQamar Badayuni (1876–1941)
- ابر کوہسارAllama Iqbal (1877–1938)
- بچے کی د عاAllama Iqbal (1877–1938)
- انسان اور بزم قد رتAllama Iqbal (1877–1938)
- مو ج دریاAllama Iqbal (1877–1938)
- صبح کا ستارہAllama Iqbal (1877–1938)
- حسن و عشقAllama Iqbal (1877–1938)
- کی گود میں بلی دیکھ کرAllama Iqbal (1877–1938)
- نوائے غمAllama Iqbal (1877–1938)
- جلوہء حسنAllama Iqbal (1877–1938)
- عبد القادر کے نامAllama Iqbal (1877–1938)
- جواب شکوہAllama Iqbal (1877–1938)
- شیکسپیرAllama Iqbal (1877–1938)
- پردہ چہرے سے اُٹھا، انجمن آرائی کرچشمِ مہر و مہ و انجم کو تماشائی کرAllama Iqbal (1877–1938)
- لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقیہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی!Allama Iqbal (1877–1938)
- تھا جہاں مدرسۂ شیری و شاہنشاہیآج اُن خانقہوں میں ہے فقط رُوباہیAllama Iqbal (1877–1938)
- صبحAllama Iqbal (1877–1938)
- اجتہادAllama Iqbal (1877–1938)