Poetry
Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع- ایک مدت سے طلب گار ہوں کن کا ان کاتشنۂ حسرت دیدار ہوں کن کا ان کاShah Hatim (1699–1783)
- جس کو دیکھا سو یہاں دشمن جاں ہے اپنادل کو جانے تھے ہم اپنا سو کہاں ہے اپناShah Hatim (1699–1783)
- جنبش دل نہیں بے جا تو کدھر بھولا ہےکوئی لڑکا اسے گہوارہ سمجھ جھولا ہےShah Hatim (1699–1783)
- دیکھتے سجدے میں آتا ہے جو کرتا ہے نگاہتیرے ابرو کی ہے محراب مگر بیت اللہShah Hatim (1699–1783)
- اشک خونیں ہے شفق آج مری آنکھوں میںسانجھ پھولی ہے ترے باج مری آنکھوں میںSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- تھا بہانہ مجھے زنجیر کے ہل جانے کاچھوڑ دیو اب تو ہوا شوق نکل جانے کاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- جب سیں تجھ عشق کی گرمی کا اثر ہے من میںتب سیں پھرتا ہوں اداسی ہو برہ کے بن میںSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- ہر کسی کوں گزر عشق میں آناں مشکلراہ سیدھی ہے ولے راہ کوں پاناں مشکلSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- بارہا دل کو میں سمجھا کے کہا کیا کیا کچھنہ سنا اور کھویا مجھ سے مرا کیا کیا کچھMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- صدمہ ہر چند ترے جور سے جاں پر آیاتس پہ شکوہ نہ کبھی میری زباں پر آیاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- بادشاہت دو جہاں کی بھی جو ہووے مجھ کوتیرے کوچے کی گدائی سے نہ کھو دے مجھ کوMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- تو بھلی بات سے ہی میری خفا ہوتا ہےآہ کیا چاہنا ایسا ہی برا ہوتا ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
- ان بتوں کو تو مرے ساتھ محبت ہوتیکاش بنتا میں برہمن ہی مسلماں کے عوضTaban Abdul Hai (1715–1749)
- عشق ہرچند مری جان سدا کھاتا ہےپر یہ لذت تو وہ ہے جی ہی جسے پاتا ہےKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- کنج کاوی جو کی سینے میں غم ہجراں نےاس دفینے ستی اقسام جواہر نکلاKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- ہم یہ کہتے تھے کہ احمق ہو جو دل کو دیوےدیکھیں تو چھین لے دل ہم سے وہ کون ایسا ہےKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- آؤ کچھ شغل کریں بیٹھے ہیں عریاں اتنےپھاڑیں سینہ ہی گو ہاتھ آئے گریباں اتنےQaem Chandpuri (1722–1793)
- ٹک تو خاموش رکھو منہ میں زباں سنتے ہواپنی ہی کہتے ہو میری بھی میاں سنتے ہوQaem Chandpuri (1722–1793)
- میں نہ وہ ہوں کہ تنک غصہ میں ٹل جاؤں گاہنس کے تم بات کرو گے میں بہل جاؤں گاQaem Chandpuri (1722–1793)
- ناصحا کر نہ اسے سی کے پشیماں مجھ کوکتنے ہی چاک ابھی کرنے ہیں گریباں مجھ کوQaem Chandpuri (1722–1793)
- درد پی لیتے ہیں اور داغ پچا جاتے ہیںیاں بلانوش ہیں جو آئے چڑھا جاتے ہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- ہم موئے پھرتے ہیں اور خواہش جاں ہے اس کواب تلک بھی وہی جینے کا گماں ہے اس کوQaem Chandpuri (1722–1793)
- اس کے کوچے سے جو اٹھ اہل وفا جاتے ہیںتا نظر کام کرے رو بقفا جاتے ہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
- تنگ آئے ہیں دل اس جی سے اٹھا بیٹھیں گےبھوکوں مرتے ہیں کچھ اب یار بھی کھا بیٹھیں گےMir Taqi Mir (1723–1810)
- جوشش اشک سے ہوں آٹھ پہر پانی میںگرچہ ہوتے ہیں بہت خوف و خطر پانی میںMir Taqi Mir (1723–1810)
- چاک پر چاک ہوا جوں جوں سلایا ہم نےاس گریباں ہی سے اب ہاتھ اٹھایا ہم نےMir Taqi Mir (1723–1810)
- درد و اندوہ میں ٹھہرا جو رہا میں ہی ہوںرنگ رو جس کے کبھو منہ نہ چڑھا میں ہی ہوںMir Taqi Mir (1723–1810)
- رات گزرے ہے مجھے نزع میں روتے روتےآنکھیں پھر جائیں گی اب صبح کے ہوتے ہوتےMir Taqi Mir (1723–1810)
- فکر ہے ماہ کے جو شہر بدر کرنے کیہے سزا تجھ پہ یہ گستاخ نظر کرنے کیMir Taqi Mir (1723–1810)
- کچھ تو کہہ وصل کی پھر رات چلی جاتی ہےدن گزر جائیں ہیں پر بات چلی جاتی ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
- مہر کی تجھ سے توقع تھی ستم گر نکلاموم سمجھے تھے ترے دل کو سو پتھر نکلاMir Taqi Mir (1723–1810)
- میرؔ دریا ہے سنے شعر زبانی اس کیاللہ اللہ رے طبیعت کی روانی اس کیMir Taqi Mir (1723–1810)
- میں بھی دنیا میں ہوں اک نالہ پریشاں یک جادل کے سو ٹکڑے مرے پر سبھی نالاں یک جاMir Taqi Mir (1723–1810)
- نقش بیٹھے ہے کہاں خواہش آزادی کاننگ ہے نام رہائی تری صیادی کاMir Taqi Mir (1723–1810)
- نکلے ہے چشمہ جو کوئی جوش زناں پانی کایاد وہ ہے وہ کسو چشم کی گریانی کاMir Taqi Mir (1723–1810)
- ہم سے کچھ آگے زمانے میں ہوا کیا کیا کچھتو بھی ہم غافلوں نے آ کے کیا کیا کچھMir Taqi Mir (1723–1810)
- یاد ایام کہ یاں ترک شکیبائی تھاہر گلی شہر کی یاں کوچۂ رسوائی تھاMir Taqi Mir (1723–1810)
- وقت رخصت کے جو روتی تھی کھڑی زار بہنبولے شہ رو نہ بس اب اے مری غم خوار بہنMir Taqi Mir (1723–1810)
- ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھےاونی سونی بھی مرے آگے اٹھا جاتے تھےMir Taqi Mir (1723–1810)
- سچ کہو شہر میں صحرا میں کہاں رہتے ہویاں بہت رہتے ہو خوش باش کہ واں رہتے ہوMir Taqi Mir (1723–1810)
- طرز اے رشک چمن اب تری کچھ تازی ہےساتھ غیروں کے مرے حق میں سخن سازی ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
- یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھیسرمہ و آئینہ کی اور نظر تجھ کو نہ تھیMir Taqi Mir (1723–1810)
- آن کر غم کدۂ دہر میں جو بیٹھے ہمشمع ساں اپنے تئیں آپ ہی رو بیٹھے ہمMir Hasan (1727–1786)
- اتنے آنسو تو نہ تھے دیدۂ تر کے آگےاب تو پانی ہی بھرا رہتا ہے گھر کے آگےMir Hasan (1727–1786)
- اس کی جب بزم سے ہم ہو کے بتنگ آتے ہیںاپنے ساتھ آپ ہی کرتے ہوے جنگ آتے ہیںMir Hasan (1727–1786)
- اس کے کوچے سے صبا گر ادھر آ جاتی ہےدل کے نالوں کی مفصل خبر آ جاتی ہےMir Hasan (1727–1786)
- تیر پر تیر لگے تو بھی نہ پیکاں نکلےیا رب اس گھر میں جو آوے نہ وہ مہماں نکلےMir Hasan (1727–1786)
- جان میں جان تبھی قیس کے بس آتی ہےناقۂ لیلیٰ کی جب بنگ جرس آتی ہےMir Hasan (1727–1786)
- دل کو اس شوخ کے کوچہ میں دھرے آتے ہیںشیشہ خالی کیے اور اشک بھرے آتے ہیںMir Hasan (1727–1786)
- وصل کا عیش کہاں پر غم ہجراں تو ہےلب خنداں تو نہیں دیدۂ گریاں تو ہےMir Hasan (1727–1786)