Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'

رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
Poet
Meter
Clear
  1. ایک مدت سے طلب گار ہوں کن کا ان کاتشنۂ حسرت دیدار ہوں کن کا ان کاShah Hatim (1699–1783)
  2. جس کو دیکھا سو یہاں دشمن جاں ہے اپنادل کو جانے تھے ہم اپنا سو کہاں ہے اپناShah Hatim (1699–1783)
  3. جنبش دل نہیں بے جا تو کدھر بھولا ہےکوئی لڑکا اسے گہوارہ سمجھ جھولا ہےShah Hatim (1699–1783)
  4. دیکھتے سجدے میں آتا ہے جو کرتا ہے نگاہتیرے ابرو کی ہے محراب مگر بیت اللہShah Hatim (1699–1783)
  5. اشک خونیں ہے شفق آج مری آنکھوں میںسانجھ پھولی ہے ترے باج مری آنکھوں میںSiraj Aurangabadi (1712–1764)
  6. تھا بہانہ مجھے زنجیر کے ہل جانے کاچھوڑ دیو اب تو ہوا شوق نکل جانے کاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
  7. جب سیں تجھ عشق کی گرمی کا اثر ہے من میںتب سیں پھرتا ہوں اداسی ہو برہ کے بن میںSiraj Aurangabadi (1712–1764)
  8. ہر کسی کوں گزر عشق میں آناں مشکلراہ سیدھی ہے ولے راہ کوں پاناں مشکلSiraj Aurangabadi (1712–1764)
  9. بارہا دل کو میں سمجھا کے کہا کیا کیا کچھنہ سنا اور کھویا مجھ سے مرا کیا کیا کچھMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  10. صدمہ ہر چند ترے جور سے جاں پر آیاتس پہ شکوہ نہ کبھی میری زباں پر آیاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  11. بادشاہت دو جہاں کی بھی جو ہووے مجھ کوتیرے کوچے کی گدائی سے نہ کھو دے مجھ کوMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  12. تو بھلی بات سے ہی میری خفا ہوتا ہےآہ کیا چاہنا ایسا ہی برا ہوتا ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
  13. ان بتوں کو تو مرے ساتھ محبت ہوتیکاش بنتا میں برہمن ہی مسلماں کے عوضTaban Abdul Hai (1715–1749)
  14. عشق ہرچند مری جان سدا کھاتا ہےپر یہ لذت تو وہ ہے جی ہی جسے پاتا ہےKhwaja Mir Dard (1721–1785)
  15. کنج کاوی جو کی سینے میں غم ہجراں نےاس دفینے ستی اقسام جواہر نکلاKhwaja Mir Dard (1721–1785)
  16. ہم یہ کہتے تھے کہ احمق ہو جو دل کو دیوےدیکھیں تو چھین لے دل ہم سے وہ کون ایسا ہےKhwaja Mir Dard (1721–1785)
  17. آؤ کچھ شغل کریں بیٹھے ہیں عریاں اتنےپھاڑیں سینہ ہی گو ہاتھ آئے گریباں اتنےQaem Chandpuri (1722–1793)
  18. ٹک تو خاموش رکھو منہ میں زباں سنتے ہواپنی ہی کہتے ہو میری بھی میاں سنتے ہوQaem Chandpuri (1722–1793)
  19. میں نہ وہ ہوں کہ تنک غصہ میں ٹل جاؤں گاہنس کے تم بات کرو گے میں بہل جاؤں گاQaem Chandpuri (1722–1793)
  20. ناصحا کر نہ اسے سی کے پشیماں مجھ کوکتنے ہی چاک ابھی کرنے ہیں گریباں مجھ کوQaem Chandpuri (1722–1793)
  21. درد پی لیتے ہیں اور داغ پچا جاتے ہیںیاں بلانوش ہیں جو آئے چڑھا جاتے ہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
  22. ہم موئے پھرتے ہیں اور خواہش جاں ہے اس کواب تلک بھی وہی جینے کا گماں ہے اس کوQaem Chandpuri (1722–1793)
  23. اس کے کوچے سے جو اٹھ اہل وفا جاتے ہیںتا نظر کام کرے رو بقفا جاتے ہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
  24. تنگ آئے ہیں دل اس جی سے اٹھا بیٹھیں گےبھوکوں مرتے ہیں کچھ اب یار بھی کھا بیٹھیں گےMir Taqi Mir (1723–1810)
  25. جوشش اشک سے ہوں آٹھ پہر پانی میںگرچہ ہوتے ہیں بہت خوف و خطر پانی میںMir Taqi Mir (1723–1810)
  26. چاک پر چاک ہوا جوں جوں سلایا ہم نےاس گریباں ہی سے اب ہاتھ اٹھایا ہم نےMir Taqi Mir (1723–1810)
  27. درد و اندوہ میں ٹھہرا جو رہا میں ہی ہوںرنگ رو جس کے کبھو منہ نہ چڑھا میں ہی ہوںMir Taqi Mir (1723–1810)
  28. رات گزرے ہے مجھے نزع میں روتے روتےآنکھیں پھر جائیں گی اب صبح کے ہوتے ہوتےMir Taqi Mir (1723–1810)
  29. فکر ہے ماہ کے جو شہر بدر کرنے کیہے سزا تجھ پہ یہ گستاخ نظر کرنے کیMir Taqi Mir (1723–1810)
  30. کچھ تو کہہ وصل کی پھر رات چلی جاتی ہےدن گزر جائیں ہیں پر بات چلی جاتی ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
  31. مہر کی تجھ سے توقع تھی ستم گر نکلاموم سمجھے تھے ترے دل کو سو پتھر نکلاMir Taqi Mir (1723–1810)
  32. میرؔ دریا ہے سنے شعر زبانی اس کیاللہ اللہ رے طبیعت کی روانی اس کیMir Taqi Mir (1723–1810)
  33. میں بھی دنیا میں ہوں اک نالہ پریشاں یک جادل کے سو ٹکڑے مرے پر سبھی نالاں یک جاMir Taqi Mir (1723–1810)
  34. نقش بیٹھے ہے کہاں خواہش آزادی کاننگ ہے نام رہائی تری صیادی کاMir Taqi Mir (1723–1810)
  35. نکلے ہے چشمہ جو کوئی جوش زناں پانی کایاد وہ ہے وہ کسو چشم کی گریانی کاMir Taqi Mir (1723–1810)
  36. ہم سے کچھ آگے زمانے میں ہوا کیا کیا کچھتو بھی ہم غافلوں نے آ کے کیا کیا کچھMir Taqi Mir (1723–1810)
  37. یاد ایام کہ یاں ترک شکیبائی تھاہر گلی شہر کی یاں کوچۂ رسوائی تھاMir Taqi Mir (1723–1810)
  38. وقت رخصت کے جو روتی تھی کھڑی زار بہنبولے شہ رو نہ بس اب اے مری غم خوار بہنMir Taqi Mir (1723–1810)
  39. ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھےاونی سونی بھی مرے آگے اٹھا جاتے تھےMir Taqi Mir (1723–1810)
  40. سچ کہو شہر میں صحرا میں کہاں رہتے ہویاں بہت رہتے ہو خوش باش کہ واں رہتے ہوMir Taqi Mir (1723–1810)
  41. طرز اے رشک چمن اب تری کچھ تازی ہےساتھ غیروں کے مرے حق میں سخن سازی ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
  42. یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھیسرمہ و آئینہ کی اور نظر تجھ کو نہ تھیMir Taqi Mir (1723–1810)
  43. آن کر غم کدۂ دہر میں جو بیٹھے ہمشمع ساں اپنے تئیں آپ ہی رو بیٹھے ہمMir Hasan (1727–1786)
  44. اتنے آنسو تو نہ تھے دیدۂ تر کے آگےاب تو پانی ہی بھرا رہتا ہے گھر کے آگےMir Hasan (1727–1786)
  45. اس کی جب بزم سے ہم ہو کے بتنگ آتے ہیںاپنے ساتھ آپ ہی کرتے ہوے جنگ آتے ہیںMir Hasan (1727–1786)
  46. اس کے کوچے سے صبا گر ادھر آ جاتی ہےدل کے نالوں کی مفصل خبر آ جاتی ہےMir Hasan (1727–1786)
  47. تیر پر تیر لگے تو بھی نہ پیکاں نکلےیا رب اس گھر میں جو آوے نہ وہ مہماں نکلےMir Hasan (1727–1786)
  48. جان میں جان تبھی قیس کے بس آتی ہےناقۂ لیلیٰ کی جب بنگ جرس آتی ہےMir Hasan (1727–1786)
  49. دل کو اس شوخ کے کوچہ میں دھرے آتے ہیںشیشہ خالی کیے اور اشک بھرے آتے ہیںMir Hasan (1727–1786)
  50. وصل کا عیش کہاں پر غم ہجراں تو ہےلب خنداں تو نہیں دیدۂ گریاں تو ہےMir Hasan (1727–1786)