اس کے کوچے سے صبا گر ادھر آ جاتی ہے

Mir Hasan (1727–1786)

اس کے کوچے سے صبا گر ادھر آ جاتی ہے

دل کے نالوں کی مفصل خبر آ جاتی ہے

گرچہ اس زلف سے کچھ کام نہیں اب تو ولے

سانپ کے کاٹے کی سی اک لہر آ جاتی ہے

میرے ہوتے ہی تمہیں غیر سے تھی کرنی بات

دل میں کچھ کچھ پھر اسی بات پر آ جاتی ہے

یہ غضب ہے کہ وہ روٹھا ہوا پھرتا ہے جو یاں

خواب میں بھی وہی صورت نظر آ جاتی ہے

ذکر چھیڑے کوئی اب کیونکہ مرا اس کے حضور

واں تو ہر بات میں تیغ و سپر آ جاتی ہے

سوجھتا کچھ نہیں اس وقت میاں اپنے تئیں

یاد جس وقت تری مو کمر آ جاتی ہے

کاٹ دیتا ہے وہ ہر بات میں سنتا ہی نہیں

بات میری کبھی مجلس میں گر آ جاتی ہے

اک وفاداری جو ہے آب و گل اپنے میں حسنؔ

پھر طبیعت نہیں پھرتی جدھر آ جاتی ہے