Poetry
Ramal Musamman Salim Makhbun Mahzuf
رمل مثمن سالم مخبون محذوف- کون دل ہے مرے اللہ جو ناشاد نہیںکون گھر ہے مرے اللہ جو برباد نہیںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- آج او نالہ شرر بار ہو تاثیر کے ساتھہم نے میدان بدا ہے فلک پیر کے ساتھNadir Kakorvi (1857–1912)
- آج ہم اس کو لڑا دیں گے ترے تیر کے ساتھآہ بھی تیر ہے گر آہ ہو تاثیر کے ساتھNadir Kakorvi (1857–1912)
- درد آغاز محبت کا اب انجام نہیںزندگی کیا ہے اگر موت کا پیغام نہیںSafi Lakhnavi (1862–1950)
- اب کسی بات کا طالب دل ناشاد نہیںآپ کی عین عنایت ہے یہ بیداد نہیںBekhud Dehlvi (1863–1955)
- ٹوٹے پڑتے ہیں یہ ہیں کس کے خریدار تمامصبح سے بند ہیں کیوں مصر کے بازار تمامBekhud Dehlvi (1863–1955)
- دل چرا لے گئی دزدیدہ نظر دیکھ لیاہم نہ کہتے تھے کہ اس چور نے گھر دیکھ لیاBekhud Dehlvi (1863–1955)
- کیا ملے آپ کی محفل میں بھلا ایک سے ایکرشک ایسا ہے کہ بیٹھا ہے جدا ایک سے ایکBekhud Dehlvi (1863–1955)
- نہ سہی آپ ہمارے جو مقدر میں نہیںاب وہ پہلی سی تڑپ بھی دل مضطر میں نہیںBekhud Dehlvi (1863–1955)
- میں سمجھتا ہوں تجھے میری وفا یاد نہیںتو سمجھتا ہے مجھے تیری جفا یاد نہیںMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
- آپ کیوں بیٹھے ہیں غصے میں مری جان بھرےیہ تو فرمائیے کیا زلف نے کچھ کان بھرےMuztar Khairabadi (1865–1927)
- آرزو دل میں بنائے ہوئے گھر ہے بھی تو کیااس سے کچھ کام بھی نکلے یہ اگر ہے بھی تو کیاMuztar Khairabadi (1865–1927)
- جب کہا میں نے کہ مر مر کے بچے ہجر میں ہمہنس کے بولے تمہیں جینا تھا تو مر کیوں نہ گئےMuztar Khairabadi (1865–1927)
- حسن کی لائی ہوئی ایک بھی آفت نہ گئیدل کی دھڑکن نہ گئی درد کی شدت نہ گئیJaleel Manikpuri (1866–1946)
- دن کی آہیں نہ گئیں رات کے نالے نہ گئےمیرے دل سوز مرے چاہنے والے نہ گئےJaleel Manikpuri (1866–1946)
- لاکھ دل مست ہو مستی کا عیاں راز نہ ہویہ وہ شیشہ ہے کہ ٹوٹے بھی تو آواز نہ ہوJaleel Manikpuri (1866–1946)
- عشق ہی عشق ہو عاشق ہو نہ معشوق جہاںایسی اک درگہ توحید مآب اور بھی ہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- قیس کا تجھ میں جنوں جذبۂ منصور نہیںورنہ منزل گہہ دل دار تو کچھ دور نہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- کیا ہوا مرکز ہستی اگر انساں نہ ہواآبرو خاک ہے قطرے کی جو طوفاں نہ ہواBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- لطف ہو حشر میں کچھ بات بنائے نہ بنےآنکھ بھی شوخ ستمگر سے چرائے نہ بنےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- میں نے ان سے جو کہا دھیان مرا کچھ بھی نہیںہائے کس ناز سے ہنس ہنس کے کہا کچھ بھی نہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- تلخ کہتے تھے لو اب پی کے تو بولو زاہدہاتھ آئے ادھر استاد مزا ہے کہ نہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- نرگسیں آنکھ بھی ہے ابروئے خم دار کے پاسدوسری اور بھی تلوار ہے تلوار کے پاسParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- کھل گئی شمع تری ساری کرامات جمالدیکھ پروانے کدھر کھول کے پر جاتے ہیںSaail Dehlvi (1867–1945)
- چاک داماں نہ رہا چاک گریباں نہ رہاپھر بھی پوشیدہ مرا حال پریشاں نہ رہاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- یاد ہے پہلے پہل کی وہ ملاقات کی باتوہ مزے دن کے نہ بھولے ہیں نہ وہ رات کی باتHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- جب نہ تھا ضبط تو کیوں آئے عیادت کے لیےتم نے کاہے کو مرا حال پریشاں دیکھاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- قیس کہتا تھا یہی فکر ہے دن رات مجھےمار دے ناقۂ لیلیٰ نہ کہیں لات مجھےZarif Lakhnavi (1870–1937)
- میر محفل نہ ہوئے گرمئ محفل تو ہوئےشمع تاباں نہ سہی جلتا ہوا دل تو ہوئےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- وعدہ سچا ہے کہ جھوٹا مجھے معلوم نہ تھاکل بدل جائے گی دنیا مجھے معلوم نہ تھاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- دل میں کیا کیا ہوس دید بڑھائی نہ گئیروبرو ان کے مگر آنکھ اٹھائی نہ گئیHasrat Mohani (1875–1951)
- ہم نے کس دن ترے کوچے میں گزارا نہ کیاتو نے اے شوخ مگر کام ہمارا نہ کیاHasrat Mohani (1875–1951)
- سب سے چھپتے ہیں چھپیں، مجھ سے تو پردا نہ کریںسیرِ گلشن وہ کریں شوق سے ، تنہا نہ کریںHasrat Mohani (1875–1951)
- مجھ سے چھپ کر مرے ارمانوں کو برباد نہ کرداد خواہی کے لیے آیا ہوں بیداد نہ کرBedam Warsi (1876–1936)
- کچھ لگی دل کی بجھا لوں تو چلے جائیے گاخیر سینے سے لگا لوں تو چلے جائیے گاBedam Warsi (1876–1936)
- عید کا دن ہے گلے آج تو مل لے ظالمرسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہےQamar Badayuni (1876–1941)
- نصیحتAllama Iqbal (1877–1938)
- تعلیم اور اس کے نتائجAllama Iqbal (1877–1938)
- نالہ ہے بُلبلِ شوریدہ ترا خام ابھیاپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھیAllama Iqbal (1877–1938)
- تازہ پھر دانشِ حاضر نے کیا سِحرِ قدیمگزر اس عہد میں ممکن نہیں بے چوبِ کلیمAllama Iqbal (1877–1938)
- مکتبوں میں کہیں رعنائیِ افکار بھی ہے؟خانقاہوں میں کہیں لذّتِ اسرار بھی ہے؟Allama Iqbal (1877–1938)
- حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہےعکس اُس کا مرے آئینۂ ادراک میں ہےAllama Iqbal (1877–1938)
- کھو نہ جا اس سحَر و شام میں اے صاحبِ ہوش!اک جہاں اور بھی ہے جس میں نہ فردا ہے نہ دوشAllama Iqbal (1877–1938)
- ملااور بہشتAllama Iqbal (1877–1938)
- نپولین کے مزار پرAllama Iqbal (1877–1938)
- تن بہ تقدیرAllama Iqbal (1877–1938)
- فقر و ملوکیتAllama Iqbal (1877–1938)
- اسلامAllama Iqbal (1877–1938)
- وحیAllama Iqbal (1877–1938)
- امامتAllama Iqbal (1877–1938)