Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Salim Makhbun Mahzuf

رمل مثمن سالم مخبون محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. کون دل ہے مرے اللہ جو ناشاد نہیںکون گھر ہے مرے اللہ جو برباد نہیںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  2. آج او نالہ شرر بار ہو تاثیر کے ساتھہم نے میدان بدا ہے فلک پیر کے ساتھNadir Kakorvi (1857–1912)
  3. آج ہم اس کو لڑا دیں گے ترے تیر کے ساتھآہ بھی تیر ہے گر آہ ہو تاثیر کے ساتھNadir Kakorvi (1857–1912)
  4. درد آغاز محبت کا اب انجام نہیںزندگی کیا ہے اگر موت کا پیغام نہیںSafi Lakhnavi (1862–1950)
  5. اب کسی بات کا طالب دل ناشاد نہیںآپ کی عین عنایت ہے یہ بیداد نہیںBekhud Dehlvi (1863–1955)
  6. ٹوٹے پڑتے ہیں یہ ہیں کس کے خریدار تمامصبح سے بند ہیں کیوں مصر کے بازار تمامBekhud Dehlvi (1863–1955)
  7. دل چرا لے گئی دزدیدہ نظر دیکھ لیاہم نہ کہتے تھے کہ اس چور نے گھر دیکھ لیاBekhud Dehlvi (1863–1955)
  8. کیا ملے آپ کی محفل میں بھلا ایک سے ایکرشک ایسا ہے کہ بیٹھا ہے جدا ایک سے ایکBekhud Dehlvi (1863–1955)
  9. نہ سہی آپ ہمارے جو مقدر میں نہیںاب وہ پہلی سی تڑپ بھی دل مضطر میں نہیںBekhud Dehlvi (1863–1955)
  10. میں سمجھتا ہوں تجھے میری وفا یاد نہیںتو سمجھتا ہے مجھے تیری جفا یاد نہیںMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  11. آپ کیوں بیٹھے ہیں غصے میں مری جان بھرےیہ تو فرمائیے کیا زلف نے کچھ کان بھرےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  12. آرزو دل میں بنائے ہوئے گھر ہے بھی تو کیااس سے کچھ کام بھی نکلے یہ اگر ہے بھی تو کیاMuztar Khairabadi (1865–1927)
  13. جب کہا میں نے کہ مر مر کے بچے ہجر میں ہمہنس کے بولے تمہیں جینا تھا تو مر کیوں نہ گئےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  14. حسن کی لائی ہوئی ایک بھی آفت نہ گئیدل کی دھڑکن نہ گئی درد کی شدت نہ گئیJaleel Manikpuri (1866–1946)
  15. دن کی آہیں نہ گئیں رات کے نالے نہ گئےمیرے دل سوز مرے چاہنے والے نہ گئےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  16. لاکھ دل مست ہو مستی کا عیاں راز نہ ہویہ وہ شیشہ ہے کہ ٹوٹے بھی تو آواز نہ ہوJaleel Manikpuri (1866–1946)
  17. عشق ہی عشق ہو عاشق ہو نہ معشوق جہاںایسی اک درگہ توحید مآب اور بھی ہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  18. قیس کا تجھ میں جنوں جذبۂ منصور نہیںورنہ منزل گہہ دل دار تو کچھ دور نہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  19. کیا ہوا مرکز ہستی اگر انساں نہ ہواآبرو خاک ہے قطرے کی جو طوفاں نہ ہواBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  20. لطف ہو حشر میں کچھ بات بنائے نہ بنےآنکھ بھی شوخ ستمگر سے چرائے نہ بنےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  21. میں نے ان سے جو کہا دھیان مرا کچھ بھی نہیںہائے کس ناز سے ہنس ہنس کے کہا کچھ بھی نہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  22. تلخ کہتے تھے لو اب پی کے تو بولو زاہدہاتھ آئے ادھر استاد مزا ہے کہ نہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
  23. نرگسیں آنکھ بھی ہے ابروئے خم دار کے پاسدوسری اور بھی تلوار ہے تلوار کے پاسParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
  24. کھل گئی شمع تری ساری کرامات جمالدیکھ پروانے کدھر کھول کے پر جاتے ہیںSaail Dehlvi (1867–1945)
  25. چاک داماں نہ رہا چاک گریباں نہ رہاپھر بھی پوشیدہ مرا حال پریشاں نہ رہاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  26. یاد ہے پہلے پہل کی وہ ملاقات کی باتوہ مزے دن کے نہ بھولے ہیں نہ وہ رات کی باتHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  27. جب نہ تھا ضبط تو کیوں آئے عیادت کے لیےتم نے کاہے کو مرا حال پریشاں دیکھاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  28. قیس کہتا تھا یہی فکر ہے دن رات مجھےمار دے ناقۂ لیلیٰ نہ کہیں لات مجھےZarif Lakhnavi (1870–1937)
  29. میر محفل نہ ہوئے گرمئ محفل تو ہوئےشمع تاباں نہ سہی جلتا ہوا دل تو ہوئےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  30. وعدہ سچا ہے کہ جھوٹا مجھے معلوم نہ تھاکل بدل جائے گی دنیا مجھے معلوم نہ تھاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  31. دل میں کیا کیا ہوس دید بڑھائی نہ گئیروبرو ان کے مگر آنکھ اٹھائی نہ گئیHasrat Mohani (1875–1951)
  32. ہم نے کس دن ترے کوچے میں گزارا نہ کیاتو نے اے شوخ مگر کام ہمارا نہ کیاHasrat Mohani (1875–1951)
  33. سب سے چھپتے ہیں چھپیں، مجھ سے تو پردا نہ کریںسیرِ گلشن وہ کریں شوق سے ، تنہا نہ کریںHasrat Mohani (1875–1951)
  34. مجھ سے چھپ کر مرے ارمانوں کو برباد نہ کرداد خواہی کے لیے آیا ہوں بیداد نہ کرBedam Warsi (1876–1936)
  35. کچھ لگی دل کی بجھا لوں تو چلے جائیے گاخیر سینے سے لگا لوں تو چلے جائیے گاBedam Warsi (1876–1936)
  36. عید کا دن ہے گلے آج تو مل لے ظالمرسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہےQamar Badayuni (1876–1941)
  37. نصیحتAllama Iqbal (1877–1938)
  38. تعلیم اور اس کے نتائجAllama Iqbal (1877–1938)
  39. نالہ ہے بُلبلِ شوریدہ ترا خام ابھیاپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھیAllama Iqbal (1877–1938)
  40. تازہ پھر دانشِ حاضر نے کیا سِحرِ قدیمگزر اس عہد میں ممکن نہیں بے چوبِ کلیمAllama Iqbal (1877–1938)
  41. مکتبوں میں کہیں رعنائیِ افکار بھی ہے؟خانقاہوں میں کہیں لذّتِ اسرار بھی ہے؟Allama Iqbal (1877–1938)
  42. حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہےعکس اُس کا مرے آئینۂ ادراک میں ہےAllama Iqbal (1877–1938)
  43. کھو نہ جا اس سحَر و شام میں اے صاحبِ ہوش!اک جہاں اور بھی ہے جس میں نہ فردا ہے نہ دوشAllama Iqbal (1877–1938)
  44. ملااور بہشتAllama Iqbal (1877–1938)
  45. نپولین کے مزار پرAllama Iqbal (1877–1938)
  46. تن بہ تقدیرAllama Iqbal (1877–1938)
  47. فقر و ملوکیتAllama Iqbal (1877–1938)
  48. اسلامAllama Iqbal (1877–1938)
  49. وحیAllama Iqbal (1877–1938)
  50. امامتAllama Iqbal (1877–1938)