تلخ کہتے تھے لو اب پی کے تو بولو زاہد

Brij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)

تلخ کہتے تھے لو اب پی کے تو بولو زاہد

ہاتھ آئے ادھر استاد مزا ہے کہ نہیں