میں سمجھتا ہوں تجھے میری وفا یاد نہیں

Maharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)

میں سمجھتا ہوں تجھے میری وفا یاد نہیں

تو سمجھتا ہے مجھے تیری جفا یاد نہیں

پوجتا ہوں میں بتوں کو کہ خدا یاد آئے

یہ ستم ہے کہ برہمن کو خدا یاد نہیں

گر سخی بھول گیا دے کے یہی لازم تھا

لینے والے کو بھی افسوس لیا یاد نہیں

ایسے بھی لوگ ہیں دنیا سے نہیں کام جنہیں

ان پہ جو گزرا بھلا تھا کہ برا یاد نہیں

ترے دیوانے کو اے یار فقط تجھ سے ہے کام

بادشہ کون ہے اور کون گدا یاد نہیں

تیری ہی دھن میں گزرتی ہے ترے پیاروں کی

اس میں کیا کیا نہ ہوئی ان پہ جفا یاد نہیں

اپنے مولیٰ سے جو کچھ مانگو ابھی وہ دے گا

شادؔ مضطر نہ ہو کیا کوئی دعا یاد نہیں