فقر و ملوکیت

Allama Iqbal (1877–1938)

فقر جنگاہ میں بے ساز و یراق آتا ہے

ضرب کاری ہے، اگر سینے میں ہے قلبِ سلیم

اس کی بڑھتی ہوئی بے باکی و بے تابی سے

تازہ ہر عہد میں ہے قصّۂ فرعون و کلیم

اب ترا دَور بھی آنے کو ہے اے فقرِ غیور

کھا گئی رُوحِ فرنگی کو ہوائے زروسِیم

عشق و مستی نے کِیا ضبطِ نفَس مجھ پہ حرام

کہ گِرہ غُنچے کی کھُلتی نہیں بے موجِ نسیم