Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Salim Makhbun Mahzuf

رمل مثمن سالم مخبون محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. شیفتہ ہجر میں تو نالۂ شب گیر نہ کھینچصبح ہونے کی نہیں خجلتِ تاثیر نہ کھینچMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  2. طلبِ بوسہ پر اس لب سے شکر آب لذیذتند ہے، تلخ ہے، لیکن ہے مئے ناب لذیذMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  3. گور میں یادِ قدِ یار نے سونے نہ دیافتنۂ حشر کو رفتار نے سونے نہ دیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  4. یاں کے آنے میں نہیں ان کو جو تمکیں کا خیالغالباً کچھ تو ہوا ہے مری تسکیں کا خیالMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  5. طالعِ خفتۂ دشمن نہ جگانا شبِ وصلدیکھ اے مرغِ سحر غل نہ مچانا شبِ وصلMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  6. چار دن ہے یہ جوانی نہ بہت جوش میں آاے بت مست مے حسن ذرا ہوش میں آImdad Ali Bahr (1810–1878)
  7. سیر اس سبزۂ عارض کی ہے دشوار بہتاے دل آبلہ پا راہ میں ہیں خار بہتImdad Ali Bahr (1810–1878)
  8. وقت آخر ہمیں دیدار دکھایا نہ گیاہم تو دنیا سے گئے آپ سے آیا نہ گیاImdad Ali Bahr (1810–1878)
  9. ہمیں ناشاد نظر آتے ہیں دل شاد ہیں سبہمیں اس دور میں برباد ہیں آباد ہیں سببImdad Ali Bahr (1810–1878)
  10. روز کہتے تھے کبھی غیر کے گھر دیکھ لیاآج تو آنکھ سے اے رشک قمر دیکھ لیاLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  11. اہل جنت مجھے لیتے ہیں نہ دوزخ والےکس جگہ جا کے تمہارا یہ گنہ گار رہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  12. پوری ہوتی ہیں تصور میں امیدیں کیا کیادل میں سب کچھ ہے مگر پیش نظر کچھ بھی نہیںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  13. چھوڑنا ہے تو نہ الزام لگا کر چھوڑوکہیں مل جاؤ تو پھر لطف ملاقات رہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  14. خواب میں نام ترا لے کے پکار اٹھتا ہوںبے خودی میں بھی مجھے یاد تری یاد کی ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  15. نہ دیا بوسۂ لب کھا کے قسم بھول گئےدے کے ایسی مجھے اعجاز کا دم بھول گئےHatim Ali Mehr (1815–1879)
  16. پوجتا ہوں کبھی بت کو کبھی پڑھتا ہوں نمازمیرا مذہب کوئی ہندو نہ مسلماں سمجھاMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  17. دیکھ کر ہاتھ میں تسبیح گلے میں زنارمجھ سے بیزار ہوئے کافر و دیں دار جداMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  18. اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوںڈھونڈنے اس کو چلا ہوں جسے پا بھی نہ سکوںAmeer Minai (1829–1900)
  19. کون سی جا ہے جہاں جلوۂ معشوق نہیںشوق دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کرAmeer Minai (1829–1900)
  20. گاہے گاہے کی ملاقات ہی اچھی ہے امیرؔقدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جاناAmeer Minai (1829–1900)
  21. ان نے پہلے ہی پہل پی ہے شراب آج کے دنبولو دل کھول کر اے چنگ و رباب آج کے دنJoshish Azimabadi (d. 1830)
  22. ہم ہی کرتے نہیں زلفوں کو تری ہار پسندشیخ صاحب کو بھی آتا ہے یہ زنار پسندJoshish Azimabadi (d. 1830)
  23. آزمایا ہے مدام آپ کو بس بس اجی بسدونوں ہاتھوں سے سلام آپ کو بس بس اجی بسDagh Dehlvi (1831–1905)
  24. بیکسیٔ شب ہجراں کی مجھے تاب نہیںکاش دشمن ہی چلے آئیں جو احباب نہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  25. تو جو اللہ کا محبوب ہوا ، خوب ہوایا نبی خوب ہوا ، خوب ہوا ، خوب ہواDagh Dehlvi (1831–1905)
  26. چاک‌ ہو پردہ وحشت مجھے منظور نہیںورنہ یہ ہاتھ گریبان سے کچھ دور نہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  27. چھوڑتا مجھ کو نہ بسمل وہ مگر چھوڑ دیاسر پہ احسان رہے اس لیے سر چھوڑ دیاDagh Dehlvi (1831–1905)
  28. ساقیا ابر ہے دے جام شتاب ایک پر ایکآج محفل میں گرے مست شراب ایک پر ایکDagh Dehlvi (1831–1905)
  29. طرز قدسی میں کبھی شیوۂ انساں میں کبھیہم بھی اک چیز تھے اس عالم امکاں میں کبھیDagh Dehlvi (1831–1905)
  30. عالم یاس میں گھبرائے نہ انسان بہتدل سلامت ہے تو حسرت بہت ارمان بہتDagh Dehlvi (1831–1905)
  31. عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیںباعث ترک ملاقات بتاتے بھی نہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  32. لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہےرنج بھی ایسے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
  33. آؤ مل جاؤ کہ یہ وقت نہ پاؤ گے کبھیمیں بھی ہمراہ زمانہ کے بدل جاؤں گاDagh Dehlvi (1831–1905)
  34. مر کے بھی قامت محبوب کی الفت نہ گئیہو چکا حشر بھی لیکن یہ قیامت نہ گئیJalal Lakhnavi (1832–1909)
  35. عشق کی چوٹ کا کچھ دل پہ اثر ہو تو سہیدرد کم ہو یا زیادہ ہو مگر ہو تو سہیJalal Lakhnavi (1832–1909)
  36. آپ کے محرم اسرار تھے اغیار کہ ہمدل غم ناک کے تم رہتے تھے غم خوار کہ ہمQalaq Meerathi (1835–1880)
  37. ہم تو یاں مرتے ہیں واں اس کو خبر کچھ بھی نہیںاے وہ سب کچھ ہی سہی عشق مگر کچھ بھی نہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
  38. تو ہے ہرجائی تو اپنا بھی یہی طور سہیتو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہیQalaq Meerathi (1835–1880)
  39. دل کو آزار لگا وہ کہ چھپا بھی نہ سکوںپردہ وہ آ کے پڑا ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوںZaheer Dehlvi (1835–1911)
  40. رنگ جمنے نہ دیا بات کو چلنے نہ دیاکوئی پہلو مرے مطلب کا نکلنے نہ دیاZaheer Dehlvi (1835–1911)
  41. نو گرفتار قفس ہوں مجھے کچھ یاد نہیںلب پہ شیون نہیں نالہ نہیں فریاد نہیںZaheer Dehlvi (1835–1911)
  42. بزم ایجاد میں بے پردہ کوئی ساز نہیںہے یہ تیری ہی صدا غیر کی آواز نہیںIsmail Meeruthi (1844–1917)
  43. چھوٹے کام کا بڑا نتیجہIsmail Meeruthi (1844–1917)
  44. اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکےان کو ہم قصۂ غم اپنا سنا ہی نہ سکےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  45. جان ہی لینے کی حکمت میں ترقی دیکھیموت کا روکنے والا کوئی پیدا نہ ہواAkbar Allahabadi (1846–1921)
  46. دل مرا جس سے بہلتا کوئی ایسا نہ ملابت کے بندے ملے اللہ کا بندا نہ ملاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  47. میری تقدیر موافق نہ تھی تدبیر کے ساتھکھل گئی آنکھ نگہباں کی بھی زنجیر کے ساتھAkbar Allahabadi (1846–1921)
  48. مے بھی ہوٹل میں پیو چندہ بھی دو مسجد میںشیخ بھی خوش رہیں شیطان بھی بے زار نہ ہوAkbar Allahabadi (1846–1921)
  49. اور مے خانہ نشیں چور بنائے نہ گئےہم دھرے جاتے ہیں ناحق کہیں آئے نہ گئےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  50. صبح ہے رات کہاں اب وہ کہاں رات کی باتبات ہی بات تو ہے بیٹھ بھی لو بات کی باتRiyaz Khairabadi (1853–1934)