Poetry
Ramal Musamman Salim Makhbun Mahzuf
رمل مثمن سالم مخبون محذوف- شیفتہ ہجر میں تو نالۂ شب گیر نہ کھینچصبح ہونے کی نہیں خجلتِ تاثیر نہ کھینچMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- طلبِ بوسہ پر اس لب سے شکر آب لذیذتند ہے، تلخ ہے، لیکن ہے مئے ناب لذیذMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- گور میں یادِ قدِ یار نے سونے نہ دیافتنۂ حشر کو رفتار نے سونے نہ دیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- یاں کے آنے میں نہیں ان کو جو تمکیں کا خیالغالباً کچھ تو ہوا ہے مری تسکیں کا خیالMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- طالعِ خفتۂ دشمن نہ جگانا شبِ وصلدیکھ اے مرغِ سحر غل نہ مچانا شبِ وصلMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- چار دن ہے یہ جوانی نہ بہت جوش میں آاے بت مست مے حسن ذرا ہوش میں آImdad Ali Bahr (1810–1878)
- سیر اس سبزۂ عارض کی ہے دشوار بہتاے دل آبلہ پا راہ میں ہیں خار بہتImdad Ali Bahr (1810–1878)
- وقت آخر ہمیں دیدار دکھایا نہ گیاہم تو دنیا سے گئے آپ سے آیا نہ گیاImdad Ali Bahr (1810–1878)
- ہمیں ناشاد نظر آتے ہیں دل شاد ہیں سبہمیں اس دور میں برباد ہیں آباد ہیں سببImdad Ali Bahr (1810–1878)
- روز کہتے تھے کبھی غیر کے گھر دیکھ لیاآج تو آنکھ سے اے رشک قمر دیکھ لیاLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- اہل جنت مجھے لیتے ہیں نہ دوزخ والےکس جگہ جا کے تمہارا یہ گنہ گار رہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- پوری ہوتی ہیں تصور میں امیدیں کیا کیادل میں سب کچھ ہے مگر پیش نظر کچھ بھی نہیںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- چھوڑنا ہے تو نہ الزام لگا کر چھوڑوکہیں مل جاؤ تو پھر لطف ملاقات رہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- خواب میں نام ترا لے کے پکار اٹھتا ہوںبے خودی میں بھی مجھے یاد تری یاد کی ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- نہ دیا بوسۂ لب کھا کے قسم بھول گئےدے کے ایسی مجھے اعجاز کا دم بھول گئےHatim Ali Mehr (1815–1879)
- پوجتا ہوں کبھی بت کو کبھی پڑھتا ہوں نمازمیرا مذہب کوئی ہندو نہ مسلماں سمجھاMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- دیکھ کر ہاتھ میں تسبیح گلے میں زنارمجھ سے بیزار ہوئے کافر و دیں دار جداMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوںڈھونڈنے اس کو چلا ہوں جسے پا بھی نہ سکوںAmeer Minai (1829–1900)
- کون سی جا ہے جہاں جلوۂ معشوق نہیںشوق دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کرAmeer Minai (1829–1900)
- گاہے گاہے کی ملاقات ہی اچھی ہے امیرؔقدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جاناAmeer Minai (1829–1900)
- ان نے پہلے ہی پہل پی ہے شراب آج کے دنبولو دل کھول کر اے چنگ و رباب آج کے دنJoshish Azimabadi (d. 1830)
- ہم ہی کرتے نہیں زلفوں کو تری ہار پسندشیخ صاحب کو بھی آتا ہے یہ زنار پسندJoshish Azimabadi (d. 1830)
- آزمایا ہے مدام آپ کو بس بس اجی بسدونوں ہاتھوں سے سلام آپ کو بس بس اجی بسDagh Dehlvi (1831–1905)
- بیکسیٔ شب ہجراں کی مجھے تاب نہیںکاش دشمن ہی چلے آئیں جو احباب نہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
- تو جو اللہ کا محبوب ہوا ، خوب ہوایا نبی خوب ہوا ، خوب ہوا ، خوب ہواDagh Dehlvi (1831–1905)
- چاک ہو پردہ وحشت مجھے منظور نہیںورنہ یہ ہاتھ گریبان سے کچھ دور نہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
- چھوڑتا مجھ کو نہ بسمل وہ مگر چھوڑ دیاسر پہ احسان رہے اس لیے سر چھوڑ دیاDagh Dehlvi (1831–1905)
- ساقیا ابر ہے دے جام شتاب ایک پر ایکآج محفل میں گرے مست شراب ایک پر ایکDagh Dehlvi (1831–1905)
- طرز قدسی میں کبھی شیوۂ انساں میں کبھیہم بھی اک چیز تھے اس عالم امکاں میں کبھیDagh Dehlvi (1831–1905)
- عالم یاس میں گھبرائے نہ انسان بہتدل سلامت ہے تو حسرت بہت ارمان بہتDagh Dehlvi (1831–1905)
- عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیںباعث ترک ملاقات بتاتے بھی نہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
- لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہےرنج بھی ایسے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
- آؤ مل جاؤ کہ یہ وقت نہ پاؤ گے کبھیمیں بھی ہمراہ زمانہ کے بدل جاؤں گاDagh Dehlvi (1831–1905)
- مر کے بھی قامت محبوب کی الفت نہ گئیہو چکا حشر بھی لیکن یہ قیامت نہ گئیJalal Lakhnavi (1832–1909)
- عشق کی چوٹ کا کچھ دل پہ اثر ہو تو سہیدرد کم ہو یا زیادہ ہو مگر ہو تو سہیJalal Lakhnavi (1832–1909)
- آپ کے محرم اسرار تھے اغیار کہ ہمدل غم ناک کے تم رہتے تھے غم خوار کہ ہمQalaq Meerathi (1835–1880)
- ہم تو یاں مرتے ہیں واں اس کو خبر کچھ بھی نہیںاے وہ سب کچھ ہی سہی عشق مگر کچھ بھی نہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
- تو ہے ہرجائی تو اپنا بھی یہی طور سہیتو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہیQalaq Meerathi (1835–1880)
- دل کو آزار لگا وہ کہ چھپا بھی نہ سکوںپردہ وہ آ کے پڑا ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوںZaheer Dehlvi (1835–1911)
- رنگ جمنے نہ دیا بات کو چلنے نہ دیاکوئی پہلو مرے مطلب کا نکلنے نہ دیاZaheer Dehlvi (1835–1911)
- نو گرفتار قفس ہوں مجھے کچھ یاد نہیںلب پہ شیون نہیں نالہ نہیں فریاد نہیںZaheer Dehlvi (1835–1911)
- بزم ایجاد میں بے پردہ کوئی ساز نہیںہے یہ تیری ہی صدا غیر کی آواز نہیںIsmail Meeruthi (1844–1917)
- چھوٹے کام کا بڑا نتیجہIsmail Meeruthi (1844–1917)
- اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکےان کو ہم قصۂ غم اپنا سنا ہی نہ سکےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- جان ہی لینے کی حکمت میں ترقی دیکھیموت کا روکنے والا کوئی پیدا نہ ہواAkbar Allahabadi (1846–1921)
- دل مرا جس سے بہلتا کوئی ایسا نہ ملابت کے بندے ملے اللہ کا بندا نہ ملاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- میری تقدیر موافق نہ تھی تدبیر کے ساتھکھل گئی آنکھ نگہباں کی بھی زنجیر کے ساتھAkbar Allahabadi (1846–1921)
- مے بھی ہوٹل میں پیو چندہ بھی دو مسجد میںشیخ بھی خوش رہیں شیطان بھی بے زار نہ ہوAkbar Allahabadi (1846–1921)
- اور مے خانہ نشیں چور بنائے نہ گئےہم دھرے جاتے ہیں ناحق کہیں آئے نہ گئےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- صبح ہے رات کہاں اب وہ کہاں رات کی باتبات ہی بات تو ہے بیٹھ بھی لو بات کی باتRiyaz Khairabadi (1853–1934)