چار دن ہے یہ جوانی نہ بہت جوش میں آ

Imdad Ali Bahr (1810–1878)

چار دن ہے یہ جوانی نہ بہت جوش میں آ

اے بت مست مے حسن ذرا ہوش میں آ

دل یہ کہتا ہے جو وہ شمع عذار آ نکلے

بن کے فانوس پکاروں مرے آغوش میں آ

قدم یار کا آوازہ ہر اک گل پر ہے

امن چاہے جو خزاں سے مری پاپوش میں آ

میرے شعروں کے جو مشتاق ہیں فرماتے ہیں

در مضموں صدف لب سے نکل گوش میں آ

بے قرار ایسے ستارے در غلطاں ہو جائیں

آپ جھمکی سے جو فرمائیں نیا گوش میں آ

پیر ہوں بوجھ محبت کا اٹھاؤں کیوں کر

پھر جوانی کو پکاروں کہ برو دوش میں آ

بسر پیر مغاں روح تو ہی ہی اے روح

جلد شیشے سے نکل جسم قدح نوش میں آ

بیٹھ کر یار کے پہلو میں جو اٹھتا ہوں کبھی

پاۓ خوابیدہ یہ کہتا ہے مجھے ہوش میں آ

روز بد ایک نہ اک دن تجھے ننگیا لے گا

اے زری پوش ہم احباب نمد پوش میں آ

داغ ہو جائے گا یہ تاج زری کا اے شمع

جی جلانے کو نہ خوبان زری پوش میں آ

نعمت غیب سے کہتی ہے مہوس کی ہوا

اڑ کے جوہر کی طرح دیگ سے سرپوش میں آ

داغ ہیں ایک کے پر کالے بھڑک اٹھیں گے

دیکھ او فصل بہاری نہ بہت جوش میں آ

نقل محفل نظر آتا نہیں کوئی ہم میں

شیخ مسجد سے نکل بزم نے و نوش میں آ

وصل میں فصل نہ باقی رہے اے جان جہاں

جیسے پہلو میں ہے دل یوں مرے آغوش میں آ

ہاتھ آئے گا مقرر وہ غزال وحشی

بحرؔ چرتی ہے کہاں عقل ذرا ہوش میں آ