جان ہی لینے کی حکمت میں ترقی دیکھی
Akbar Allahabadi (1846–1921)جان ہی لینے کی حکمت میں ترقی دیکھی
موت کا روکنے والا کوئی پیدا نہ ہوا
کوئی حسرت مرے دل میں کبھی آئی ہی نہیں
تھا ہی ایسا کہ یہ مقبول تمنا نہ ہوا
اس کی بیٹی نے اٹھا رکھی ہے دنیا سر پر
خیریت گزری کہ انگور کے بیٹا نہ ہوا
دل فریبی مری دنیا نے تو بے حد چاہی
میری ہی ہمت و غیرت کا تقاضہ نہ ہوا