تو جو اللہ کا محبوب ہوا ، خوب ہوا
Dagh Dehlvi (1831–1905)تو جو اللہ کا محبوب ہوا ، خوب ہوا
یا نبی خوب ہوا ، خوب ہوا ، خوب ہوا
حشر میں امت عاصی کا ٹھکانا ہی نہ تھا
بخشوانا تجھے مرغوب ہوا ، خوب ہوا
حسن یوسف میں ترا نور تھا، اے نور خدا
چارہ دیدہ یعقوب ہوا، خوب ہوا
فخر آدم کو نہ ہوتا، جو فرشتہ ہوتا
بنی آدم سے جو منسوب ہوا ، خوب ہوا
داغ ہے روز قیامت، مری شرم اس کے ہاتھ
میں گناہوں سے جو محجوب ہوا ، خوب ہوا