Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Bahr-e Hindi Mutaqarib Musamman Muza'af

بحرِ ہندی/ متقارب مثمن مضاعف
Poet
Meter
Clear
  1. راز کہاں تک راز رہے گا منظر عام پہ آئے گاجی کا داغ اجاگر ہو کر سورج کو شرمائے گاIbn-e-Insha (1927–1978)
  2. سب کو دل کے داغ دکھائے ایک تجھی کو دکھا نہ سکےتیرا دامن دور نہیں تھا ہاتھ ہمیں پھیلا نہ سکےIbn-e-Insha (1927–1978)
  3. سنتے ہیں پھر چھپ چھپ ان کے گھر میں آتے جاتے ہوانشاؔ صاحب ناحق جی کو وحشت میں الجھاتے ہوIbn-e-Insha (1927–1978)
  4. کچھ کہنے کا وقت نہیں یہ کچھ نہ کہو خاموش رہواے لوگو خاموش رہو ہاں اے لوگو خاموش رہوIbn-e-Insha (1927–1978)
  5. کس کو پار اتارا تم نے کس کو پار اتارو گےملاحو تم پردیسی کو بیچ بھنور میں مارو گےIbn-e-Insha (1927–1978)
  6. ہم جنگل کے جوگی ہم کو ایک جگہ آرام کہاںآج یہاں کل اور نگر میں صبح کہاں اور شام کہاںIbn-e-Insha (1927–1978)
  7. اے متوالو ناقوں والو دیتے ہو کچھ اس کا پتانجد کے اندر مجنوں نامی ایک ہمارا بھائی تھاIbn-e-Insha (1927–1978)
  8. تجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیےوقت کی بے عنوان کہانی کب تک بے عنوان رہےIbn-e-Insha (1927–1978)
  9. فرض کرو ہم اہل وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوںفرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوںIbn-e-Insha (1927–1978)
  10. لب پر نام کسی کا بھی ہو، دل میں تیرا نقشا ہےاے تصویر بنانے والی جب سے تجھ کو دیکھا ہےIbn-e-Insha (1927–1978)
  11. ہاں دیکھا کل ہم نے اس کو دیکھنے کا جسے ارماں تھاوہ جو اپنے شہر سے آگے قریۂ باغ و بہاراں تھاIbn-e-Insha (1927–1978)
  12. آن کے اس بیمار کو دیکھے تجھ کو بھی توفیق ہوئیلب پر اس کے نام تھا تیرا جب بھی درد شدید ہواIbn-e-Insha (1927–1978)
  13. ایک سے ایک جنوں کا مارا اس بستی میں رہتا ہےایک ہمیں ہشیار تھے یارو ایک ہمیں بد نام ہوئےIbn-e-Insha (1927–1978)
  14. کب لوٹا ہے بہتا پانی بچھڑا ساجن روٹھا دوستہم نے اس کو اپنا جانا جب تک ہاتھ میں داماں تھاIbn-e-Insha (1927–1978)
  15. میرؔ سے بیعت کی ہے تو انشاؔ میر کی بیعت بھی ہے ضرورشام کو رو رو صبح کرو اب صبح کو رو رو شام کروIbn-e-Insha (1927–1978)
  16. یوں ہی تو نہیں دشت میں پہنچے یوں ہی تو نہیں جوگ لیابستی بستی کانٹے دیکھے جنگل جنگل پھول میاںIbn-e-Insha (1927–1978)
  17. آج ستارے آنگن میں ہیں ان کو رخصت مت کرناشام سے میں بھی الجھن میں ہوں تم بھی غفلت مت کرناQamar Jameel (1927–2000)
  18. خواب میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں اس کا دکھانا مشکل ہےآئینے میں پھول کھلا ہے ہاتھ لگانا مشکل ہےQamar Jameel (1927–2000)
  19. دست جنوں میں دامن گل کو لانے کی تدبیر کریںنرم ہوا کے جھونکو آؤ موسم کو زنجیر کریںQamar Jameel (1927–2000)
  20. بھولی بسری یادیں اب بھی کانوں میں رس گھولتی ہیںمجھ سے کیسی کیسی باتیں تنہائی میں بولتی ہیںQamar Jameel (1927–2000)
  21. خوابوں کی افسردہ ہوا میں رہنے والے سرخ گلابجنگل کی تاریک فضا میں لے کے نکل آتے ہیں چراغQamar Jameel (1927–2000)
  22. میری محبت چاہتی ہے مینارے گھر کے شوالوں کےکچھ باتیں مکے والوں کی کچھ قصے بنارس والوں کےQamar Jameel (1927–2000)
  23. ابھی مجھے اک دشت‌ صدا کی ویرانی سے گزرنا ہےایک مسافت ختم ہوئی ہے ایک سفر ابھی کرنا ہےMunir Niazi (1928–2006)
  24. اپنے گھر کو واپس جاؤ رو رو کر سمجھاتا ہےجہاں بھی جاؤں میرا سایہ پیچھے پیچھے آتا ہےMunir Niazi (1928–2006)
  25. ایک نگر کے نقش بھلا دوں ایک نگر ایجاد کروںایک طرف خاموشی کر دوں ایک طرف آباد کروںMunir Niazi (1928–2006)
  26. ڈر کے کسی سے چھپ جاتا ہے جیسے سانپ خزانے میںزر کے زور سے زندہ ہیں سب خاک کے اس ویرانے میںMunir Niazi (1928–2006)
  27. تھوڑی دیر کو ساتھ رہے کسی دھندلے شہر کے نقشے پرہاتھ میں ہاتھ دیے گھومے کہیں دور دراز کے رستے پرMunir Niazi (1928–2006)
  28. تیغ لہو میں ڈوبی تھی اور پیڑ خوشی سے جھوما تھاباد بہاری چلی جھوم کے جب اس نے مجھ کو دیکھا تھاMunir Niazi (1928–2006)
  29. جب میرا جی چاہے میں جادو کے کھیل دکھا سکتا ہوںآندھی بن کر چل سکتا ہوں بادل بن کر چھا سکتا ہوںMunir Niazi (1928–2006)
  30. گھر تھا یا کوئی اور جگہ جہاں میں نے رات گزاری تھییاد نہیں یہ ہوا بھی تھا یا وہم ہی کی عیاری تھیMunir Niazi (1928–2006)
  31. لاکھوں شکلوں کے میلے میں تنہا رہنا میرا کامبھیس بدل کر دیکھتے رہنا تیز ہواؤں کا کہرامMunir Niazi (1928–2006)
  32. میں بھی دل کے بہلانے کو کیا کیا سوانگ رچاتا ہوںسایوں کے جھرمٹ میں بیٹھا سکھ کی سیج سجاتا ہوںMunir Niazi (1928–2006)
  33. اپنوں نے وہ رنج دئے ہیں بیگانے یاد آتے ہیںدیکھ کے اس بستی کی حالت ویرانے یاد آتے ہیںHabib Jalib (1928–1993)
  34. دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیںہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیںHabib Jalib (1928–1993)
  35. دل والو کیوں دل سی دولت یوں بیکار لٹاتے ہوکیوں اس اندھیاری بستی میں پیار کی جوت جگاتے ہوHabib Jalib (1928–1993)
  36. کون بتائے کون سجھائے کون سے دیس سدھار گئےان کا رستہ تکتے تکتے نین ہمارے ہار گئےHabib Jalib (1928–1993)
  37. ہم نے سنا تھا صحن‌ چمن میں کیف کے بادل چھائے ہیںہم بھی گئے تھے جی بہلانے اشک بہا کر آئے ہیںHabib Jalib (1928–1993)
  38. جب تک چند لٹیرے اس دھرتی کو گھیرے ہیںاپنی جنگ رہے گیHabib Jalib (1928–1993)
  39. دن بھر کافی ہاؤس میں بیٹھے کچھ دبلے پتلے نقادبحث یہی کرتے رہتے ہیں سست ادب کی ہے رفتارHabib Jalib (1928–1993)
  40. آج اس شب کے سناٹے میں نیند نے آنکھیں پھیری ہیںشہر تھکا ہارا خاموشی کی باہوں میں سوتا ہےBalraj Komal (1928–2013)
  41. سر سبزی مستی شادابی جھونکوں کا مدھم سنگیتہرے بھرے کھیتوں میں ننھے منے پودوں کی سرسرBalraj Komal (1928–2013)
  42. اپنے گھر سے میرے گھر تک کچھ لمحوں میں آئے گااتنی مسافت میں لوگوں کو کتنے رنگ دکھائے گاGhalib Ahmad (b. 1928)
  43. پورب دیس کی یادیں لایا پھر موسم کا تیکھا پنمجھ سے پہروں انس کرے ہے تنہائی کا سونا پنKailash Mahir (b. 1928)
  44. آج کی رات کٹے گی کیوں کر ساز نہ جام نہ تو مہمانصبح تلک کیا جانئے کیا ہو آنکھ لگے یا جائے جانIbn-e-Safi (1928–1980)
  45. راہ طلب میں کون کسی کا اپنے بھی بیگانے ہیںچاند سے مکھڑے رشک غزالاں سب جانے پہچانے ہیںIbn-e-Safi (1928–1980)
  46. رات کی زلفیں بھیگی بھیگی اور عالم تنہائی کاکتنے درد جگا دیتا ہے اک جھونکا پروائی کاKaleem Usmani (1928–2000)
  47. ترک و طلب کے ہنگاموں کو عشق سمجھنا وحشت ہےعشق تحیر بے پایاں ہے عشق مجسم حیرت ہےBalraj Hairat (1930–1995)
  48. عقل کے دشمن بھی ہم ٹھہرے دل کا بھی نقصان کیاذوق طلب کی آڑ میں حیرتؔ نفس نے کیا حیران کیاBalraj Hairat (1930–1995)
  49. جیسے کوئی ربط نہیں ہو جیسے ہوں انجانے لوگکیا سے کیا ہو جاتے ہیں اکثر جانے پہچانے لوگRaees Rampuri (b. 1930)
  50. اب کیا سوچیں کیا حالات تھے کس کارن یہ زہر پیا ہےہم نے اس کے شہر کو چھوڑا اور آنکھوں کو موند لیا ہےAhmad Faraz (1931–2008)