Poetry
Bahr-e Hindi Mutaqarib Musamman Muza'af
بحرِ ہندی/ متقارب مثمن مضاعف- راز کہاں تک راز رہے گا منظر عام پہ آئے گاجی کا داغ اجاگر ہو کر سورج کو شرمائے گاIbn-e-Insha (1927–1978)
- سب کو دل کے داغ دکھائے ایک تجھی کو دکھا نہ سکےتیرا دامن دور نہیں تھا ہاتھ ہمیں پھیلا نہ سکےIbn-e-Insha (1927–1978)
- سنتے ہیں پھر چھپ چھپ ان کے گھر میں آتے جاتے ہوانشاؔ صاحب ناحق جی کو وحشت میں الجھاتے ہوIbn-e-Insha (1927–1978)
- کچھ کہنے کا وقت نہیں یہ کچھ نہ کہو خاموش رہواے لوگو خاموش رہو ہاں اے لوگو خاموش رہوIbn-e-Insha (1927–1978)
- کس کو پار اتارا تم نے کس کو پار اتارو گےملاحو تم پردیسی کو بیچ بھنور میں مارو گےIbn-e-Insha (1927–1978)
- ہم جنگل کے جوگی ہم کو ایک جگہ آرام کہاںآج یہاں کل اور نگر میں صبح کہاں اور شام کہاںIbn-e-Insha (1927–1978)
- اے متوالو ناقوں والو دیتے ہو کچھ اس کا پتانجد کے اندر مجنوں نامی ایک ہمارا بھائی تھاIbn-e-Insha (1927–1978)
- تجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیےوقت کی بے عنوان کہانی کب تک بے عنوان رہےIbn-e-Insha (1927–1978)
- فرض کرو ہم اہل وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوںفرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوںIbn-e-Insha (1927–1978)
- لب پر نام کسی کا بھی ہو، دل میں تیرا نقشا ہےاے تصویر بنانے والی جب سے تجھ کو دیکھا ہےIbn-e-Insha (1927–1978)
- ہاں دیکھا کل ہم نے اس کو دیکھنے کا جسے ارماں تھاوہ جو اپنے شہر سے آگے قریۂ باغ و بہاراں تھاIbn-e-Insha (1927–1978)
- آن کے اس بیمار کو دیکھے تجھ کو بھی توفیق ہوئیلب پر اس کے نام تھا تیرا جب بھی درد شدید ہواIbn-e-Insha (1927–1978)
- ایک سے ایک جنوں کا مارا اس بستی میں رہتا ہےایک ہمیں ہشیار تھے یارو ایک ہمیں بد نام ہوئےIbn-e-Insha (1927–1978)
- کب لوٹا ہے بہتا پانی بچھڑا ساجن روٹھا دوستہم نے اس کو اپنا جانا جب تک ہاتھ میں داماں تھاIbn-e-Insha (1927–1978)
- میرؔ سے بیعت کی ہے تو انشاؔ میر کی بیعت بھی ہے ضرورشام کو رو رو صبح کرو اب صبح کو رو رو شام کروIbn-e-Insha (1927–1978)
- یوں ہی تو نہیں دشت میں پہنچے یوں ہی تو نہیں جوگ لیابستی بستی کانٹے دیکھے جنگل جنگل پھول میاںIbn-e-Insha (1927–1978)
- آج ستارے آنگن میں ہیں ان کو رخصت مت کرناشام سے میں بھی الجھن میں ہوں تم بھی غفلت مت کرناQamar Jameel (1927–2000)
- خواب میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں اس کا دکھانا مشکل ہےآئینے میں پھول کھلا ہے ہاتھ لگانا مشکل ہےQamar Jameel (1927–2000)
- دست جنوں میں دامن گل کو لانے کی تدبیر کریںنرم ہوا کے جھونکو آؤ موسم کو زنجیر کریںQamar Jameel (1927–2000)
- بھولی بسری یادیں اب بھی کانوں میں رس گھولتی ہیںمجھ سے کیسی کیسی باتیں تنہائی میں بولتی ہیںQamar Jameel (1927–2000)
- خوابوں کی افسردہ ہوا میں رہنے والے سرخ گلابجنگل کی تاریک فضا میں لے کے نکل آتے ہیں چراغQamar Jameel (1927–2000)
- میری محبت چاہتی ہے مینارے گھر کے شوالوں کےکچھ باتیں مکے والوں کی کچھ قصے بنارس والوں کےQamar Jameel (1927–2000)
- ابھی مجھے اک دشت صدا کی ویرانی سے گزرنا ہےایک مسافت ختم ہوئی ہے ایک سفر ابھی کرنا ہےMunir Niazi (1928–2006)
- اپنے گھر کو واپس جاؤ رو رو کر سمجھاتا ہےجہاں بھی جاؤں میرا سایہ پیچھے پیچھے آتا ہےMunir Niazi (1928–2006)
- ایک نگر کے نقش بھلا دوں ایک نگر ایجاد کروںایک طرف خاموشی کر دوں ایک طرف آباد کروںMunir Niazi (1928–2006)
- ڈر کے کسی سے چھپ جاتا ہے جیسے سانپ خزانے میںزر کے زور سے زندہ ہیں سب خاک کے اس ویرانے میںMunir Niazi (1928–2006)
- تھوڑی دیر کو ساتھ رہے کسی دھندلے شہر کے نقشے پرہاتھ میں ہاتھ دیے گھومے کہیں دور دراز کے رستے پرMunir Niazi (1928–2006)
- تیغ لہو میں ڈوبی تھی اور پیڑ خوشی سے جھوما تھاباد بہاری چلی جھوم کے جب اس نے مجھ کو دیکھا تھاMunir Niazi (1928–2006)
- جب میرا جی چاہے میں جادو کے کھیل دکھا سکتا ہوںآندھی بن کر چل سکتا ہوں بادل بن کر چھا سکتا ہوںMunir Niazi (1928–2006)
- گھر تھا یا کوئی اور جگہ جہاں میں نے رات گزاری تھییاد نہیں یہ ہوا بھی تھا یا وہم ہی کی عیاری تھیMunir Niazi (1928–2006)
- لاکھوں شکلوں کے میلے میں تنہا رہنا میرا کامبھیس بدل کر دیکھتے رہنا تیز ہواؤں کا کہرامMunir Niazi (1928–2006)
- میں بھی دل کے بہلانے کو کیا کیا سوانگ رچاتا ہوںسایوں کے جھرمٹ میں بیٹھا سکھ کی سیج سجاتا ہوںMunir Niazi (1928–2006)
- اپنوں نے وہ رنج دئے ہیں بیگانے یاد آتے ہیںدیکھ کے اس بستی کی حالت ویرانے یاد آتے ہیںHabib Jalib (1928–1993)
- دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیںہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیںHabib Jalib (1928–1993)
- دل والو کیوں دل سی دولت یوں بیکار لٹاتے ہوکیوں اس اندھیاری بستی میں پیار کی جوت جگاتے ہوHabib Jalib (1928–1993)
- کون بتائے کون سجھائے کون سے دیس سدھار گئےان کا رستہ تکتے تکتے نین ہمارے ہار گئےHabib Jalib (1928–1993)
- ہم نے سنا تھا صحن چمن میں کیف کے بادل چھائے ہیںہم بھی گئے تھے جی بہلانے اشک بہا کر آئے ہیںHabib Jalib (1928–1993)
- جب تک چند لٹیرے اس دھرتی کو گھیرے ہیںاپنی جنگ رہے گیHabib Jalib (1928–1993)
- دن بھر کافی ہاؤس میں بیٹھے کچھ دبلے پتلے نقادبحث یہی کرتے رہتے ہیں سست ادب کی ہے رفتارHabib Jalib (1928–1993)
- آج اس شب کے سناٹے میں نیند نے آنکھیں پھیری ہیںشہر تھکا ہارا خاموشی کی باہوں میں سوتا ہےBalraj Komal (1928–2013)
- سر سبزی مستی شادابی جھونکوں کا مدھم سنگیتہرے بھرے کھیتوں میں ننھے منے پودوں کی سرسرBalraj Komal (1928–2013)
- اپنے گھر سے میرے گھر تک کچھ لمحوں میں آئے گااتنی مسافت میں لوگوں کو کتنے رنگ دکھائے گاGhalib Ahmad (b. 1928)
- پورب دیس کی یادیں لایا پھر موسم کا تیکھا پنمجھ سے پہروں انس کرے ہے تنہائی کا سونا پنKailash Mahir (b. 1928)
- آج کی رات کٹے گی کیوں کر ساز نہ جام نہ تو مہمانصبح تلک کیا جانئے کیا ہو آنکھ لگے یا جائے جانIbn-e-Safi (1928–1980)
- راہ طلب میں کون کسی کا اپنے بھی بیگانے ہیںچاند سے مکھڑے رشک غزالاں سب جانے پہچانے ہیںIbn-e-Safi (1928–1980)
- رات کی زلفیں بھیگی بھیگی اور عالم تنہائی کاکتنے درد جگا دیتا ہے اک جھونکا پروائی کاKaleem Usmani (1928–2000)
- ترک و طلب کے ہنگاموں کو عشق سمجھنا وحشت ہےعشق تحیر بے پایاں ہے عشق مجسم حیرت ہےBalraj Hairat (1930–1995)
- عقل کے دشمن بھی ہم ٹھہرے دل کا بھی نقصان کیاذوق طلب کی آڑ میں حیرتؔ نفس نے کیا حیران کیاBalraj Hairat (1930–1995)
- جیسے کوئی ربط نہیں ہو جیسے ہوں انجانے لوگکیا سے کیا ہو جاتے ہیں اکثر جانے پہچانے لوگRaees Rampuri (b. 1930)
- اب کیا سوچیں کیا حالات تھے کس کارن یہ زہر پیا ہےہم نے اس کے شہر کو چھوڑا اور آنکھوں کو موند لیا ہےAhmad Faraz (1931–2008)