تھوڑی دیر کو ساتھ رہے کسی دھندلے شہر کے نقشے پر
Munir Niazi (1928–2006)تھوڑی دیر کو ساتھ رہے کسی دھندلے شہر کے نقشے پر
ہاتھ میں ہاتھ دیے گھومے کہیں دور دراز کے رستے پر
بے پردہ استھانوں پر دو اڑتے ہوئے گیتوں کی طرح
غصے میں کبھی لڑتے ہوئے کبھی لپٹے ہوئے پیڑوں کی طرح
اپنی اپنی راہ چلے پھر آخر شب کے میداں میں
اپنے اپنے گھر کو جاتے دو حیراں بچوں کی طرح