Poetry
Bahr-e Hindi Mutaqarib Asram Maqbuz Mahzuf Muza'af
بحرِ ہندی/ متقارب اثرم مقبوض محذوف مضاعف- جاتے جاتے راہ میں اس نے منہ سے اٹھایا جوں ہی پرداراہ کے جانے والوں نے بھی منہ اس کا پھر پھر کے دیکھاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- دیکھ کر اک جلوے کو تیرے گر ہی پڑا بے خود ہو موسیٰان آنکھوں کے صدقے جاؤں جو ہیں ہر دم محو تماشاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- بادہ کشی کے سکھلاتے ہیں کیا ہی قرینے ساون بھادوںکیفیت کے ہم نے جو دیکھا دو ہیں مہینے ساون بھادوںShah Naseer (1756–1838)
- غرق نہ کر دکھلا کر دل کو کان کا بالا زلف کا حلقہبحر حسن کے ہیں یہ بھنور دو کان کا بالا زلف کا حلقہShah Naseer (1756–1838)
- چاند سا چہرہ نور کی چتون ماشاء اللہ ماشاء اللہطرفہ نکالا آپ نے جوبن ماشاء اللہ ماشاء اللہAmeer Minai (1829–1900)
- ایک ستم اور لاکھ ادائیں اف ری جوانی ہائے زمانےترچھی نگاہیں تنگ قبائیں اف ری جوانی ہائے زمانےShad Azimabadi (1846–1927)
- بھول نہ اس کو دھن ہے جدھر کی چونک مسافر رات نہیں ہےشکل نمایاں ہوگی سحر کی چونک مسافر رات نہیں ہےShad Azimabadi (1846–1927)
- ہنسو تو ساتھ ہنسے گی دنیا بیٹھ اکیلے رونا ہوگاچپکے چپکے بہا کر آنسو دل کے دکھ کو دھونا ہوگاMeeraji (1912–1949)
- جنگ کا انجامMeeraji (1912–1949)
- ایسی بھی کیا جلدی پیارے جانے ملیں پھر یا نہ ملیں ہمکون کہے گا پھر یہ فسانہ بیٹھ بھی جاؤ سن لو کوئی دمHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- نگر نگر کے دیس دیس کے پربت ٹیلے اور بیاباںڈھونڈ رہے ہیں اب تک مجھ کو کھیل رہے ہیں میرے ارماںAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- پربت پربت گھوم چکا ہوں صحرا صحرا چھان رہا ہوںہر منزل کے حق میں لیکن کافر کا ایمان رہا ہوںQateel Shifai (1919–2001)
- ذکر مرا اور تیرے لب پر یاد مری اور تیرے دل میںجھوٹی آس دلانے والے آگ نہ بھڑکا میرے دل میںQateel Shifai (1919–2001)
- صدمے جھیلوں جان پہ کھیلوں اس سے مجھے انکار نہیں ہےلیکن ترے پاس وفا کا کوئی بھی معیار نہیں ہےQateel Shifai (1919–2001)
- ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو ہم تھے پریشاں تم سے زیادہچاک کئے ہیں ہم نے عزیزو چار گریباں تم سے زیادہMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- دل کی تمنا تھی مستی میں منزل سے بھی دور نکلتےاپنا بھی کوئی ساتھی ہوتا ہم بھی بہکتے چلتے چلتےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- بھیگی پلکیں شوق کا عالم وقت کا دھارا کیا نہیں دیکھاہنستے آنسو تلخ تبسم میٹھا غصہ کیا نہیں دیکھاYawar Abbas (b. 1920)
- جانے دو ان نغموں کو آہنگ شکست ساز نہ سمجھودرد بھری آواز تو سن لو درد بھری آواز نہ سمجھوQamar Jameel (1927–2000)
- اپنا تو یہ کام ہے بھائی دل کا خون بہاتے رہناجاگ جاگ کر ان راتوں میں شعر کی آگ جلاتے رہناMunir Niazi (1928–2006)
- جب بھی گھر کی چھت پر جائیں ناز دکھانے آ جاتے ہیںکیسے کیسے لوگ ہمارے جی کو جلانے آ جاتے ہیںMunir Niazi (1928–2006)
- کمرے میں خاموشی ہے اور باہر رات بہت کالی ہےاونچے اونچے پیڑوں پر سیاہی نے چھاؤنی ڈالی ہےMunir Niazi (1928–2006)
- جھوٹی خبریں گھڑنے والے جھوٹے شعر سنانے والےلوگو صبر کہ اپنے کئے کی جلد سزا ہیں پانے والےHabib Jalib (1928–1993)
- ہم آوارہ گاؤں گاؤں بستی بستی پھرنے والےہم سے پریت بڑھا کر کوئی مفت میں کیوں غم کو اپنا لےHabib Jalib (1928–1993)
- یہ جو شب کے ایوانوں میں اک ہلچل اک حشر بپا ہےیہ جو اندھیرا سمٹ رہا ہے یہ جو اجالا پھیل رہا ہےHabib Jalib (1928–1993)
- ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا ایسا عمل اغیار کریں گےجینا بھی دشوار کریں گے مرنا بھی دشوار کریں گےYas Chandpuri (b. 1930)
- پیار کے بندھن کاٹ رہے ہیں پریم کا رشتہ توڑ رہے ہیںشہر محبت کے باشندے شہر محبت چھوڑ رہے ہیںParkash Nath Parvez (b. 1930)
- چاند کیوں ابر کی اس میلی سی گٹھری میں چھپا تھااس کے چھپتے ہی اندھیروں کے نکل آئے تھے ناخنGulzar (b. 1934)
- یاس مکان دل سے نکل کر کونے کونے جلنے والیدرماندہ سی لوٹ آئی ہے رات ہے شاید ڈھلنے والیM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- ایک ہی دھرتی ہم سب کا گھر جتنا تیرا اتنا میرادکھ سکھ کا یہ جنتر منتر جتنا تیرا اتنا میراNida Fazli (1938–2016)
- مٹھی بھر لوگوں کے ہاتھوں میں لاکھوں کی تقدیریں ہیںجدا جدا ہیں دھرم علاقے ایک سی لیکن زنجیریں ہیںNida Fazli (1938–2016)
- خواب دیکھنے والی آنکھیں پتھر ہوں گی تب سوچیں گےسندر کومل دھیان تتلیاں بے پر ہوں گی تب سوچیں گےIftikhar Arif (b. 1943)
- دل آباد کہاں رہ پائے اس کی یاد بھلا دینے سےکمرہ ویراں ہو جاتا ہے اک تصویر ہٹا دینے سےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- میری سانسوں سے یوں آئے بھینی بھینی آگ کی خوشبوجوگی کی دھونی سے جیسے اڑتی ہے بیراگ کی خوشبوMadhurima Singh (b. 1956)
- زخم دکھانے لگ جاتی ہے جان کو آنے لگ جاتی ہےرات گئے تنہائی جس دم شور مچانے لگ جاتی ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
- شام ہوئی گھر لوٹی یادیں سورج روپ تراشوں کیسےایک اجالا لاکھ اندھیرے اس کو سب میں بانٹوں کیسےNadeem Asghar (b. 1980)
- تم ٹہنیوں کی پھلجھڑیوں سے جشن شاہ بلوط مناناشہزادے کے شگوفے کو اک شاخچۂ مضبوط بتاناYasir Iqbal (b. 1983)
- وحشت کی ماری آنکھوں نے دل کے شہر کو پرخوں دیکھاشیشۂ خواب سے یوں پتھرائیں کہ دیر تلک پھر گردوں دیکھاYasir Iqbal (b. 1983)
- ترک تعلق کر تو چکے ہیں اک امکان ابھی باقی ہےایک محاذ سے لوٹ آئے ہیں اک میدان ابھی باقی ہےAitbar Sajid
- یوں تو ان آنکھوں سے ہم نے او بت کہنے کو دنیا دیکھیلیکن ساری خدائی بھر تیری صورت یکتا دیکھیمرزا آسمان جاہ انجم
- ہو گئے مضطر دیکھتے ہی وہ ہلتی زلفیں پھرتی نظر ہمدیتے ہیں دل اک آفت جاں کو تھامے ہوئے ہاتھوں سے جگر ہماحمد حسین مائل
- احساسات کی بستی میں جب ہر جانب اک سناٹا تھامیں آوازوں کے جنگل میں تب جانے کیا ڈھونڈ رہا تھاBalbir Rathi
- جو کچھ دیکھا اور سمجھا ہے نذر لوح و قلم کرتا ہوںیعنی چشم حیرت پر میں سچے خواب رقم کرتا ہوںNaeem Sameer
- یاد جو آئے خود شرمائیں اف ری جوانی ہائے زمانےجیٹھ میں بیٹھے ساون گائیں اف ری جوانی ہائے زمانےHabeeb Aarvi