یاد جو آئے خود شرمائیں اف ری جوانی ہائے زمانے

Habeeb Aarvi

یاد جو آئے خود شرمائیں اف ری جوانی ہائے زمانے

جیٹھ میں بیٹھے ساون گائیں اف ری جوانی ہائے زمانے

ہنستے ہنستے روٹھ بھی جائیں اف ری جوانی ہائے زمانے

سونا چاندی دونوں کٹائیں اف ری جوانی ہائے زمانے

دور جنوں میں یاس کا عالم حشر سے پہلے حشر کا منظر

تپتا موسم سرد ہوائیں اف ری جوانی ہائے زمانے

دن کا چکر رات کے پھیرے پاؤں دبا کر راہ کا چلنا

چور کی صورت خود گھبرائیں اف ری جوانی ہائے زمانے

گیت سریلا تان انوکھی نشہ کا عالم کیف سراپا

جیسے کنھیا بنسی بجائیں اف ری جوانی ہائے زمانے

کس کا ڈر اور کس کا کھٹکا ایک ہی ساحل ایک ہی رستہ

سپنوں کی ناؤ کھیتے جائیں اف ری جوانی ہائے زمانے

آہ حبیبؔ اس دور کی باتیں خواب کی لذت یاس کا عالم

کرتی تھیں اشارے جب لیلائیں اف ری جوانی ہائے زمانے