جو کچھ دیکھا اور سمجھا ہے نذر لوح و قلم کرتا ہوں
Naeem Sameerجو کچھ دیکھا اور سمجھا ہے نذر لوح و قلم کرتا ہوں
یعنی چشم حیرت پر میں سچے خواب رقم کرتا ہوں
پہلے میری دانائی پر کوئی وحشت چھا جاتی ہے
اور پھر پوری قوت سے میں اس کی شدت کم کرتا ہوں
زخم ملامت نوچتے رہنا ویسے بھی تو بے مصرف ہے
جتنا ہو سکتا ہے مجھ سے بس اتنا ہی غم کرتا ہوں
یوں تو سارے جگ سے لڑ کر میں نے خود کو منوایا ہے
لیکن اک گوشے میں اپنے ہونے کا ماتم کرتا ہوں
دل اور دنیا ایک جگہ پر یکساں روشن کب ہوتے ہیں
ایک چراغ کی لو بھڑکا کر ایک دیا مدھم کرتا ہوں
ورنہ سمیرؔ اس سناٹے میں کوئی کیسے رہ سکتا ہے
جس حد تک ممکن ہو مجھ سے آوازیں پیہم کرتا ہوں