Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آنا ہے تو آ جاؤ یک آن مرا صاحباک آن کے ہیں ہم بھی مہمان مرا صاحبWaliullah Muhib
  2. ادھر وہ بے مروت بے وفا بے رحم قاتل ہےادھر بے صبر و بے تسکین و بے طاقت مرا دل ہےWaliullah Muhib
  3. اس بت نے گلابی جو اٹھا منہ سے لگائیشیشے میں عجب آن سے جھمکے تھی خدائیWaliullah Muhib
  4. اشک باری کا مری آنکھوں نے یہ باندھا ہے جھاڑڈوبتے دکھلائی دیں ہیں تا کمر سارے پہاڑWaliullah Muhib
  5. اے دل آتا ہے چمن میں وہ شرابی تو پہنچلے کے پیالہ گل کا غنچہ کی گلابی تو پہنچWaliullah Muhib
  6. اے ہمدماں بھلاؤ نہ تم یاد رفتگاںواماندگاں کو ہے یہی ارشاد رفتگاںWaliullah Muhib
  7. اے ہم نفس اس زلف کے افسانے کو مت چھیڑبس سلسلہ جنباں نہ ہو دیوانے کو مت چھیڑWaliullah Muhib
  8. بلبل بجائے اپنے تجھے ہم نوا سے بحثواشد میں گل کی محض غلط ہے صبا سے بحثWaliullah Muhib
  9. بلبل وہ گل ہے خواب میں تو گا کے مت جگایا چٹکیوں کی غنچوں سے بجوا کے گت جگاWaliullah Muhib
  10. بہ تسخیر بتاں تسبیح کیوں زاہد پھراتے ہیںیہ لوہے کے چنے واللہ عاشق ہی چباتے ہیںWaliullah Muhib
  11. پہچانے تو ہر دم وہی ہر آن وہی ہےجاناں وہی اے جان وہی جان وہی ہےWaliullah Muhib
  12. پہلے صف عشاق میں میرا ہی لہو چاٹشمشیر نگہ تیری نے کیا کیا نہ کیا کاٹWaliullah Muhib
  13. تروار کھینچ ہم کو دکھاتے ہو جب نہ تبکیا مر رہے جواں کو ستاتے ہو جب نہ تبWaliullah Muhib
  14. تم جانتے ہو کس لئے وہ مجھ سے گیا لڑاے ہمدم من اس کے کہیں اور لگی لڑWaliullah Muhib
  15. جسے گرم اختلاطی کی لگا دے دل میں تو آتشپھر اس کے سنگ تربت سے نہیں بجھتی کبھو آتشWaliullah Muhib
  16. جو مریض عشق کے ہیں ان کو شفا ہے کہ نہیںاے طبیب ان کی بھی دنیا میں دوا ہے کہ نہیںWaliullah Muhib
  17. جی چاہے کعبے جاؤ جی چاہے بت کو پوجویہ سن رکھو محبؔ تم عاشق کبھو نہ ہوجوWaliullah Muhib
  18. خانۂ دل کا جو طوائف ہےقصد بیت الحرم سے خائف ہےWaliullah Muhib
  19. دلا یہ مے کدۂ عشق ہے شراب تو پیشراب اگر نہیں خون دل خراب تو پیWaliullah Muhib
  20. دل خلقت خدا کو صنما جلا نہ چنداںکہ فلک کے پار پہنچے تف آہ درد منداںWaliullah Muhib
  21. دنیا میں کیا کسی سے سروکار ہے ہمیںتجھ بن تو اپنی زیست ہی دشوار ہے ہمیںWaliullah Muhib
  22. دیکھا جو کچھ جہاں میں کوئی دم یہ سب نہیںٹک آنکھ موندتے ہی تم اور ہم یہ سب نہیںWaliullah Muhib
  23. دیکھتا کچھ ہوں دھیان میں کچھ ہےہے یقیں کچھ گمان میں کچھ ہےWaliullah Muhib
  24. رائیگاں اوقات کھو کر حیف کھانا ہے عبثخوب رویوں سے جہاں کے دل لگانا ہے عبثWaliullah Muhib
  25. ساتھ غیروں کے ہے سدا غٹ پٹاک ہمیں سے رکھے ہے دل میں کپٹWaliullah Muhib
  26. شب فراق نہ کاٹے کٹے ہے کیا کیجےنہ صبح ہوئے ہے نہ پو پھٹے ہے کیا کیجےWaliullah Muhib
  27. شب نہ یہ سردی سے یخ بستہ زمیں ہر طرف ہےمہ پکارے ہے فلک پروردگی تو برف ہےWaliullah Muhib
  28. شورش سے چشم تر کی زبس غرق آب ہوںدن رات بحر غم میں برنگ حباب ہوںWaliullah Muhib
  29. صنم نے جب لب گوہر فشان کھول دیئےصدف کے موج تبسم نے کان کھول دیئےWaliullah Muhib
  30. کافر ہوئے صنم ہم دیں دار تیری خاطرتسبیح توڑ باندھا زنار تیری خاطرWaliullah Muhib
  31. کیا باغ جہاں میں نام ان کا سرو کہہ کہہ کرکئی آہیں جو نکلی تھیں مرے سینے سے رہ رہ کرWaliullah Muhib
  32. لالہ رو تم غیر کے پالے پڑےدیکھنے کے ہیں ہمیں لالے پڑےWaliullah Muhib
  33. محبت سے طریق دوستی سے چاہ سے مانگومرے صاحب کسی سے دل جو مانگو راہ سے مانگوWaliullah Muhib
  34. مرے دل میں ہجر کے باب ہیں تجھے اب تلک وہی ناز ہےجو یہ جی ہی لینے پہ ہے نظر تو قبول ہو یہ نماز ہےWaliullah Muhib
  35. معرکے میں عشق کے سر سے گزرنے سے نہ ڈرگر اٹھاتا ہے تو یہ جوکھوں تو مرنے سے نہ ڈرWaliullah Muhib
  36. ملتی ہے اسے گوہر شب تاب کی میراثلی مجھ دل صد پارہ نے سیماب کی میراثWaliullah Muhib
  37. میں جیتے جی تلک رہوں مرہون آپ کاگر آج قصد کیجیے مجھ سے ملاپ کاWaliullah Muhib
  38. مے گلگوں کے جو شیشے میں پری رہتی ہےچشم مستوں میں عجب جلوہ گری رہتی ہےWaliullah Muhib
  39. واں جو کچھ کعبے میں اسرار ہے اللہ اللہسو مرے بت میں نمودار ہے اللہ اللہWaliullah Muhib
  40. ہر آن یاس بڑھنی ہر دم امید گھٹنیدن حشر کا ہے اب تو فرقت کی رات کٹنیWaliullah Muhib
  41. ہماری چاہ صاحب جانتے ہیںکہوں کیا آہ صاحب جانتے ہیںWaliullah Muhib
  42. ہو جس قدر کہ تجھ سے اے پر جفا جفا کرکہتا ہوں میں بھی تجھ سے اے با وفا وفا کرWaliullah Muhib
  43. ہے مرے پہلو میں اور مجھ کو نظر آتا نہیںاس پری کا سحر یارو کچھ کہا جاتا نہیںWaliullah Muhib
  44. یوں گھر سے محبت کے کیا بھاگ چلے جاناکچھ اس میں سمجھتا ہے دے آگ چلے جاناWaliullah Muhib
  45. مل اس پری سے کیا کیا ہوا دلشیدا ہوا دل رسوا ہوا دلWaliullah Muhib
  46. میری خبر نہ لینا اے یار ہے تعجبجی سے بچے جو مجھ سا بیمار ہے تعجبWaliullah Muhib
  47. نہیں دنیا میں سوا خار و خس کوچۂ دوستسر شوریدہ کی خواہش بکلاہے گاہےWaliullah Muhib
  48. وہیں جی اٹھتے ہیں مردے یہ کیا ٹھوکر سے چھونا ہےوہ رفتار اور وہ قامت قیامت کا نمونہ ہےWaliullah Muhib