Poetry
- آنا ہے تو آ جاؤ یک آن مرا صاحباک آن کے ہیں ہم بھی مہمان مرا صاحبWaliullah Muhib
- ادھر وہ بے مروت بے وفا بے رحم قاتل ہےادھر بے صبر و بے تسکین و بے طاقت مرا دل ہےWaliullah Muhib
- اس بت نے گلابی جو اٹھا منہ سے لگائیشیشے میں عجب آن سے جھمکے تھی خدائیWaliullah Muhib
- اشک باری کا مری آنکھوں نے یہ باندھا ہے جھاڑڈوبتے دکھلائی دیں ہیں تا کمر سارے پہاڑWaliullah Muhib
- اے دل آتا ہے چمن میں وہ شرابی تو پہنچلے کے پیالہ گل کا غنچہ کی گلابی تو پہنچWaliullah Muhib
- اے ہمدماں بھلاؤ نہ تم یاد رفتگاںواماندگاں کو ہے یہی ارشاد رفتگاںWaliullah Muhib
- اے ہم نفس اس زلف کے افسانے کو مت چھیڑبس سلسلہ جنباں نہ ہو دیوانے کو مت چھیڑWaliullah Muhib
- بلبل بجائے اپنے تجھے ہم نوا سے بحثواشد میں گل کی محض غلط ہے صبا سے بحثWaliullah Muhib
- بلبل وہ گل ہے خواب میں تو گا کے مت جگایا چٹکیوں کی غنچوں سے بجوا کے گت جگاWaliullah Muhib
- بہ تسخیر بتاں تسبیح کیوں زاہد پھراتے ہیںیہ لوہے کے چنے واللہ عاشق ہی چباتے ہیںWaliullah Muhib
- پہچانے تو ہر دم وہی ہر آن وہی ہےجاناں وہی اے جان وہی جان وہی ہےWaliullah Muhib
- پہلے صف عشاق میں میرا ہی لہو چاٹشمشیر نگہ تیری نے کیا کیا نہ کیا کاٹWaliullah Muhib
- تروار کھینچ ہم کو دکھاتے ہو جب نہ تبکیا مر رہے جواں کو ستاتے ہو جب نہ تبWaliullah Muhib
- تم جانتے ہو کس لئے وہ مجھ سے گیا لڑاے ہمدم من اس کے کہیں اور لگی لڑWaliullah Muhib
- جسے گرم اختلاطی کی لگا دے دل میں تو آتشپھر اس کے سنگ تربت سے نہیں بجھتی کبھو آتشWaliullah Muhib
- جو مریض عشق کے ہیں ان کو شفا ہے کہ نہیںاے طبیب ان کی بھی دنیا میں دوا ہے کہ نہیںWaliullah Muhib
- جی چاہے کعبے جاؤ جی چاہے بت کو پوجویہ سن رکھو محبؔ تم عاشق کبھو نہ ہوجوWaliullah Muhib
- خانۂ دل کا جو طوائف ہےقصد بیت الحرم سے خائف ہےWaliullah Muhib
- دلا یہ مے کدۂ عشق ہے شراب تو پیشراب اگر نہیں خون دل خراب تو پیWaliullah Muhib
- دل خلقت خدا کو صنما جلا نہ چنداںکہ فلک کے پار پہنچے تف آہ درد منداںWaliullah Muhib
- دنیا میں کیا کسی سے سروکار ہے ہمیںتجھ بن تو اپنی زیست ہی دشوار ہے ہمیںWaliullah Muhib
- دیکھا جو کچھ جہاں میں کوئی دم یہ سب نہیںٹک آنکھ موندتے ہی تم اور ہم یہ سب نہیںWaliullah Muhib
- دیکھتا کچھ ہوں دھیان میں کچھ ہےہے یقیں کچھ گمان میں کچھ ہےWaliullah Muhib
- رائیگاں اوقات کھو کر حیف کھانا ہے عبثخوب رویوں سے جہاں کے دل لگانا ہے عبثWaliullah Muhib
- ساتھ غیروں کے ہے سدا غٹ پٹاک ہمیں سے رکھے ہے دل میں کپٹWaliullah Muhib
- شب فراق نہ کاٹے کٹے ہے کیا کیجےنہ صبح ہوئے ہے نہ پو پھٹے ہے کیا کیجےWaliullah Muhib
- شب نہ یہ سردی سے یخ بستہ زمیں ہر طرف ہےمہ پکارے ہے فلک پروردگی تو برف ہےWaliullah Muhib
- شورش سے چشم تر کی زبس غرق آب ہوںدن رات بحر غم میں برنگ حباب ہوںWaliullah Muhib
- صنم نے جب لب گوہر فشان کھول دیئےصدف کے موج تبسم نے کان کھول دیئےWaliullah Muhib
- کافر ہوئے صنم ہم دیں دار تیری خاطرتسبیح توڑ باندھا زنار تیری خاطرWaliullah Muhib
- کیا باغ جہاں میں نام ان کا سرو کہہ کہہ کرکئی آہیں جو نکلی تھیں مرے سینے سے رہ رہ کرWaliullah Muhib
- لالہ رو تم غیر کے پالے پڑےدیکھنے کے ہیں ہمیں لالے پڑےWaliullah Muhib
- محبت سے طریق دوستی سے چاہ سے مانگومرے صاحب کسی سے دل جو مانگو راہ سے مانگوWaliullah Muhib
- مرے دل میں ہجر کے باب ہیں تجھے اب تلک وہی ناز ہےجو یہ جی ہی لینے پہ ہے نظر تو قبول ہو یہ نماز ہےWaliullah Muhib
- معرکے میں عشق کے سر سے گزرنے سے نہ ڈرگر اٹھاتا ہے تو یہ جوکھوں تو مرنے سے نہ ڈرWaliullah Muhib
- ملتی ہے اسے گوہر شب تاب کی میراثلی مجھ دل صد پارہ نے سیماب کی میراثWaliullah Muhib
- میں جیتے جی تلک رہوں مرہون آپ کاگر آج قصد کیجیے مجھ سے ملاپ کاWaliullah Muhib
- مے گلگوں کے جو شیشے میں پری رہتی ہےچشم مستوں میں عجب جلوہ گری رہتی ہےWaliullah Muhib
- واں جو کچھ کعبے میں اسرار ہے اللہ اللہسو مرے بت میں نمودار ہے اللہ اللہWaliullah Muhib
- ہر آن یاس بڑھنی ہر دم امید گھٹنیدن حشر کا ہے اب تو فرقت کی رات کٹنیWaliullah Muhib
- ہماری چاہ صاحب جانتے ہیںکہوں کیا آہ صاحب جانتے ہیںWaliullah Muhib
- ہو جس قدر کہ تجھ سے اے پر جفا جفا کرکہتا ہوں میں بھی تجھ سے اے با وفا وفا کرWaliullah Muhib
- ہے مرے پہلو میں اور مجھ کو نظر آتا نہیںاس پری کا سحر یارو کچھ کہا جاتا نہیںWaliullah Muhib
- یوں گھر سے محبت کے کیا بھاگ چلے جاناکچھ اس میں سمجھتا ہے دے آگ چلے جاناWaliullah Muhib
- مل اس پری سے کیا کیا ہوا دلشیدا ہوا دل رسوا ہوا دلWaliullah Muhib
- میری خبر نہ لینا اے یار ہے تعجبجی سے بچے جو مجھ سا بیمار ہے تعجبWaliullah Muhib
- نہیں دنیا میں سوا خار و خس کوچۂ دوستسر شوریدہ کی خواہش بکلاہے گاہےWaliullah Muhib
- وہیں جی اٹھتے ہیں مردے یہ کیا ٹھوکر سے چھونا ہےوہ رفتار اور وہ قامت قیامت کا نمونہ ہےWaliullah Muhib