Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آ کہ ہستی بے لب و بے گوش ہے تیرے بغیرکائنات اک محشر خاموش ہے تیرے بغیرSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  2. آنکھ سے ٹپکا جو آنسو وہ ستارا ہو گیامیرا دامن آج دامان ثریا ہو گیاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  3. آؤ پھر گرمی دیار عشق میں پیدا کریںطور کی مٹی سے تخلیق ید بیضا کریںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  4. اب اے بے درد کیا اس کے لئے ارشاد ہوتا ہےپھر اپنی خاک سے پیدا دل برباد ہوتا ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  5. اجازت دے کہ اپنی داستان غم بیاں کر لیںترے احساس اور اپنی زباں کا امتحاں کر لیںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  6. ادراک خود آشنا نہیں ہےورنہ انساں میں کیا نہیں ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  7. افسوس گزر گئی جوانیوہ لمحۂ کیف و شادمانیSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  8. بدن سے روح رخصت ہو رہی ہےمکمل قید غربت ہو رہی ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  9. بڑی دلچسپیوں سے صبح شام زندگی ہوگیمیں دیکھوں گا انہیں اور ساری دنیا دیکھتی ہوگیSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  10. بقدر شوق اقرار وفا کیاہمارے شوق کی ہے انتہا کیاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  11. جاگ اور دیکھ ذرا عالم ویراں میراصبح کے بھیس میں نکلا ہے گریباں میراSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  12. جب تک غم الفت کا عنصر نہ ملا ہوگاانسان کے پہلو میں دل بن نہ سکا ہوگاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  13. جرس ہے کاروان اہل عالم میں فغاں میریجگا دیتی ہے دنیا کو صدائے الاماں میریSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  14. جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیںغالباً سب میں نمودار ہمیں ہوتے ہیںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  15. جو انساں باریاب پردۂ اسرار ہو جائےتو اس باطل کدے میں زندگی دشوار ہو جائےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  16. جو سالک ہے تو اپنے نفس کا عرفان پیدا کرحقیقت تیری کیا ہے پہلے یہ پہچان پیدا کرSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  17. جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیںکچھ ایسے لوگ بھی دنیا میں پائے جاتے ہیںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  18. جو میرے تنگنائے دل میں تجھ کو جلوہ گر دیکھامری نظروں نے حیرت سے مجھی کو عمر بھر دیکھاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  19. جہان رنگ و بو میں مستقل تخلیق مستی ہےچمن میں رات بھر بنتی ہے اور دن بھر برستی ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  20. چمک جگنو کی برق بے اماں معلوم ہوتی ہےقفس میں رہ کے قدر آشیاں معلوم ہوتی ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  21. چھپاتا ہوں مگر چھپتا نہیں درد نہاں پھر بھینگاہ یاس ہو جاتی ہے دل کی ترجماں پھر بھیSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  22. حد ہو کوئی تو صبر ترے ہجر پر کریںآخر ہم ایک حال میں کب تک بسر کریںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  23. حسن کے دل میں جگہ پاتے ہی دیوانہ بنےہم ابھی راز بنے ہی تھے کہ افسانہ بنےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  24. ختم اس طرح نزاع حق و باطل ہو جائےاک طرف دونوں جہاں ایک طرف دل ہو جائےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  25. خود اٹھ کے ہاتھ میرے گریباں میں آ گئےشاید قدم جنوں کے گلستاں میں آ گئےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  26. دل تیرے تغافل سے خبردار نہ ہو جائےیہ فتنہ کہیں خواب سے بیدار نہ ہو جائےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  27. دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میںاک آئینہ تھا ٹوٹ گیا دیکھ بھال میںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  28. رسماً ہی ان کو نالۂ دل کی خبر تو ہویعنی اثر نہ ہو تو فریب اثر تو ہوSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  29. روز فراق ہر طرف اک انتشار تھامیں بے قرار تھا تو جہاں بیقرار تھاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  30. زندان کائنات میں محصور کر دیامحفل سے اپنی تم نے بہت دور کر دیاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  31. سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزرینہ جانے میں نے توبہ کی تو مے خانے پہ کیا گزریSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  32. سکوں پذیر جنون شباب ہو نہ سکاشگفت موسم گل کامیاب ہو نہ سکاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  33. شام فرقت انتہائے گردش ایام ہےجتنی صبحیں ہو چکی ہیں آج سب کی شام ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  34. شاید جگہ نصیب ہو اس گل کے ہار میںمیں پھول بن کے آؤں گا اب کی بہار میںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  35. ضبط سے نا آشنا ہم صبر سے بیگانہ ہمکیوں کسی سے مانگتے جائیں چراغ خانہ ہمSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  36. عزم فریاد! انہیں اے دل ناشاد نہیںمسلک اہل وفا ضبط ہے فریاد نہیںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  37. عشق خود مائل حجاب ہے آجحسن مجبور اضطراب ہے آجSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  38. کمال علم و تحقیق مکمل کا یہ حاصل ہےترا ادراک مشکل تھا ترا ادراک مشکل ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  39. کھو کر تری گلی میں دل بے خبر کو میںفکر خودی سے چھوٹ گیا عمر بھر کو میںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  40. مجھے فکر و سر وفا ہے ہنوزبادۂ عشق نارسا ہے ہنوزSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  41. محفل عشق میں جب نام ترا لیتے ہیںپہلے ہم ہوش کو دیوانہ بنا لیتے ہیںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  42. مرتب ہو کے اک محشر غبار دل سے نکلے گانیا اک کارواں گرد رہ منزل سے نکلے گاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  43. میری رفعت پر جو حیراں ہے تو حیرانی نہیںتو ابھی انسان کی عظمت کا عرفانی نہیںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  44. ناحق شکایت غم دنیا کرے کوئیغم ہے بڑی خوشی جو گوارا کرے کوئیSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  45. نسیم صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگیکسی کی آخری ہچکی کسی کی دل لگی ہوگیSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  46. نہ وہ فریاد کا مطلب نہ منشائے فغاں سمجھےہم آج اپنی شب غم کی غلط سامانیاں سمجھےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  47. وسعتیں محدود ہیں ادراک انساں کے لئےورنہ ہر ذرہ ہے دنیا چشم عرفاں کے لئےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  48. وہ جب رنگ پریشانی کو خلوت گیر دیکھیں گےتو اپنے ہر تصور میں مری تصویر دیکھیں گےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  49. یہ کس نے شاخ گل لا کر قریب آشیاں رکھ دیکہ میں نے شوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دیSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  50. آ اپنے دل میں میری تمنا لیے ہوئےشوق کلام و ذوق تماشا لیے ہوئےSeemab Akbarabadi (1882–1951)