خود اٹھ کے ہاتھ میرے گریباں میں آ گئے

Seemab Akbarabadi (1882–1951)

خود اٹھ کے ہاتھ میرے گریباں میں آ گئے

شاید قدم جنوں کے گلستاں میں آ گئے

اس کے سوا بتائیں اسیری کا کیا سبب

گھبرائے انجمن سے تو زنداں میں آ گئے

کیا ہوگا چار پھولوں سے اے موسم بہار

یہ تو ہمارے گوشۂ داماں میں آ گئے

جوش بہار اور یہ بے اختیاریاں

سوئے چمن چلے تھے بیاباں میں آ گئے

سیمابؔ کبر و ناز کا انجام کچھ نہ پوچھ

سب رفتہ رفتہ گور غریباں میں آ گئے