Poetry
- آنکھ جب ساقی پہ ڈالی جائے گیپھر طبیعت کیا سنبھالی جائے گیصفدر مرزا پوری
- اس قدر دور سمجھنے لگے وہ دل سے مجھےموت کیا نیند بھی اب آئے گی مشکل سے مجھےصفدر مرزا پوری
- بھولے پن سے یہ اسے محفل جاناں سمجھاحشر کی خوب حقیقت دل ناداں سمجھاصفدر مرزا پوری
- پوچھتے ہیں تری حسرت کیا ہےآج مجھ پر یہ عنایت کیا ہےصفدر مرزا پوری
- تربت پہ وہ جو آئے تو عالم نیا ہواپھولوں میں جان پڑ گئی سبزہ ہرا ہواصفدر مرزا پوری
- جب سے آباد کیا قیس نے ویرانے کوچھیڑنے آتی ہے لیلیٰ ترے دیوانے کوصفدر مرزا پوری
- جب کسی لائق نہیں ہم جب کسی قابل نہیںموت بہتر ایسے جینے سے تو کچھ حاصل نہیںصفدر مرزا پوری
- جلوہ اس بت کا چراغ رہ عرفاں نکلادیر سے ہو کے برہمن بھی مسلماں نکلاصفدر مرزا پوری
- چھپنے والے یہ بھی چھپنے کا کوئی انداز ہےتو ہے پردے میں مگر باہر تری آواز ہےصفدر مرزا پوری
- حسینوں پر کسی کا جب دل ناشاد آتا ہےہمیں اپنی جوانی کا زمانہ یاد آتا ہےصفدر مرزا پوری
- دل میں پہلے تو کھٹکتا نہ تھا ارماں کوئیرہ گیا ٹوٹ کے شاید ترا پیکاں کوئیصفدر مرزا پوری
- دور مجھ تک نہیں آتا کبھی پیمانے کاکچھ عجب رنگ ہے ساقی ترے میخانے کاصفدر مرزا پوری
- دیکھا ادھر کسی نے ادھر میں نے آہ کیتڑپا رہی ہے قلب کو بجلی نگاہ کیصفدر مرزا پوری
- رکھے ہیں آپ ہاتھ جہاں اب وہاں نہیںہم کیا بتائیں درد کہاں ہے کہاں نہیںصفدر مرزا پوری
- سونے دیتا نہیں شب بھر دل بیمار مجھےدرد نے اٹھ کے پکارا ہے کئی بار مجھےصفدر مرزا پوری
- ضرور بام پر آئے وہ بے نقاب کہیںنظر مجھے نہیں آتا ہے آفتاب کہیںصفدر مرزا پوری
- عنایت اس قدر اللہ اکبر اپنے بسمل پرکلیجے پر کبھی وہ ہاتھ رکھتے ہیں کبھی دل پرصفدر مرزا پوری
- کس کے کھوئے ہوئے اوسان چلے آتے ہیںوہ جو یوں بے سر و سامان چلے آتے ہیںصفدر مرزا پوری
- کلیجہ منہ کو آتا ہے کریں تم سے بیاں کیونکرنہ پوچھو ہم صفیرو ہم سے چھوٹا آشیاں کیونکرصفدر مرزا پوری
- کوئی تو بات ہے یا رب ہوائے کوے جاناں میںاسیروں کو ذرا تسکین ہو جاتی ہے زنداں میںصفدر مرزا پوری
- کیوں خال رخ محبوب کا احساں ہوتادل جلا تھا تو چراغ شب ہجراں ہوتاصفدر مرزا پوری
- گرائیں گی یہ بجلی جس طرف ان کا گزر ہوگامری آہوں میں بھی ان کی نگاہوں کا اثر ہوگاصفدر مرزا پوری
- گیا اب آفتاب حشر کا بھی جلوہ گر ہوناشب فرقت ہماری ہے یہ کیا جانے سحر ہوناصفدر مرزا پوری
- مجھ کو یہ چھیڑ کہ تم سے بھی حسیں ہوتے ہیںان کو یہ ضد کہ دکھا دو جو کہیں ہوتے ہیںصفدر مرزا پوری
- میں جو مر جاؤں عجب عالم رہےغم کو بھی مرنے کا میرے غم رہےصفدر مرزا پوری
- نیا عالم نظر آتا جو میں محو فغاں ہوتازمیں زیر قدم ہوتی نہ سر پر آسماں ہوتاصفدر مرزا پوری
- وعدہ رہا نہ یاد مرے مست خواب کواب کیا جواب دوں دل پر اضطراب کوصفدر مرزا پوری
- وہ چل کے ناز سے اے دل ادھر کو دیکھتے ہیںہم ان کی چال کو ان کی نظر کو دیکھتے ہیںصفدر مرزا پوری
- ہمارے زخم کی کیا فکر چارہ جو کرتےتمہیں نے چاک کیا ہے تمہیں رفو کرتےصفدر مرزا پوری
- ہوئی ہے زندگانی دشت غربت میں بسر میریوطن میں جب نہ پہنچا میں تو کیا پہنچے خبر میریصفدر مرزا پوری
- ذرا بھی دم ترے بیمار ناتواں میں نہیںمکاں میں یوں ہے کہ جیسے کوئی مکاں میں نہیںصفدر مرزا پوری
- کیوں کہہ رہے ہو نزع میں ہم سے خفا نہ ہواس کو فریب دو جو تمہیں جانتا نہ ہوصفدر مرزا پوری
- میری صورت کو دیکھو کچھ نہ پوچھو ماجرا میراکہ جو گزری ہے مجھ پر خوب واقف ہے خدا میراصفدر مرزا پوری