Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آنکھ جب ساقی پہ ڈالی جائے گیپھر طبیعت کیا سنبھالی جائے گیصفدر مرزا پوری
  2. اس قدر دور سمجھنے لگے وہ دل سے مجھےموت کیا نیند بھی اب آئے گی مشکل سے مجھےصفدر مرزا پوری
  3. بھولے پن سے یہ اسے محفل جاناں سمجھاحشر کی خوب حقیقت دل ناداں سمجھاصفدر مرزا پوری
  4. پوچھتے ہیں تری حسرت کیا ہےآج مجھ پر یہ عنایت کیا ہےصفدر مرزا پوری
  5. تربت پہ وہ جو آئے تو عالم نیا ہواپھولوں میں جان پڑ گئی سبزہ ہرا ہواصفدر مرزا پوری
  6. جب سے آباد کیا قیس نے ویرانے کوچھیڑنے آتی ہے لیلیٰ ترے دیوانے کوصفدر مرزا پوری
  7. جب کسی لائق نہیں ہم جب کسی قابل نہیںموت بہتر ایسے جینے سے تو کچھ حاصل نہیںصفدر مرزا پوری
  8. جلوہ اس بت کا چراغ رہ عرفاں نکلادیر سے ہو کے برہمن بھی مسلماں نکلاصفدر مرزا پوری
  9. چھپنے والے یہ بھی چھپنے کا کوئی انداز ہےتو ہے پردے میں مگر باہر تری آواز ہےصفدر مرزا پوری
  10. حسینوں پر کسی کا جب دل ناشاد آتا ہےہمیں اپنی جوانی کا زمانہ یاد آتا ہےصفدر مرزا پوری
  11. دل میں پہلے تو کھٹکتا نہ تھا ارماں کوئیرہ گیا ٹوٹ کے شاید ترا پیکاں کوئیصفدر مرزا پوری
  12. دور مجھ تک نہیں آتا کبھی پیمانے کاکچھ عجب رنگ ہے ساقی ترے میخانے کاصفدر مرزا پوری
  13. دیکھا ادھر کسی نے ادھر میں نے آہ کیتڑپا رہی ہے قلب کو بجلی نگاہ کیصفدر مرزا پوری
  14. رکھے ہیں آپ ہاتھ جہاں اب وہاں نہیںہم کیا بتائیں درد کہاں ہے کہاں نہیںصفدر مرزا پوری
  15. سونے دیتا نہیں شب بھر دل بیمار مجھےدرد نے اٹھ کے پکارا ہے کئی بار مجھےصفدر مرزا پوری
  16. ضرور بام پر آئے وہ بے نقاب کہیںنظر مجھے نہیں آتا ہے آفتاب کہیںصفدر مرزا پوری
  17. عنایت اس قدر اللہ اکبر اپنے بسمل پرکلیجے پر کبھی وہ ہاتھ رکھتے ہیں کبھی دل پرصفدر مرزا پوری
  18. کس کے کھوئے ہوئے اوسان چلے آتے ہیںوہ جو یوں بے سر و سامان چلے آتے ہیںصفدر مرزا پوری
  19. کلیجہ منہ کو آتا ہے کریں تم سے بیاں کیونکرنہ پوچھو ہم صفیرو ہم سے چھوٹا آشیاں کیونکرصفدر مرزا پوری
  20. کوئی تو بات ہے یا رب ہوائے کوے جاناں میںاسیروں کو ذرا تسکین ہو جاتی ہے زنداں میںصفدر مرزا پوری
  21. کیوں خال رخ محبوب کا احساں ہوتادل جلا تھا تو چراغ شب ہجراں ہوتاصفدر مرزا پوری
  22. گرائیں گی یہ بجلی جس طرف ان کا گزر ہوگامری آہوں میں بھی ان کی نگاہوں کا اثر ہوگاصفدر مرزا پوری
  23. گیا اب آفتاب حشر کا بھی جلوہ گر ہوناشب فرقت ہماری ہے یہ کیا جانے سحر ہوناصفدر مرزا پوری
  24. مجھ کو یہ چھیڑ کہ تم سے بھی حسیں ہوتے ہیںان کو یہ ضد کہ دکھا دو جو کہیں ہوتے ہیںصفدر مرزا پوری
  25. میں جو مر جاؤں عجب عالم رہےغم کو بھی مرنے کا میرے غم رہےصفدر مرزا پوری
  26. نیا عالم نظر آتا جو میں محو فغاں ہوتازمیں زیر قدم ہوتی نہ سر پر آسماں ہوتاصفدر مرزا پوری
  27. وعدہ رہا نہ یاد مرے مست خواب کواب کیا جواب دوں دل پر اضطراب کوصفدر مرزا پوری
  28. وہ چل کے ناز سے اے دل ادھر کو دیکھتے ہیںہم ان کی چال کو ان کی نظر کو دیکھتے ہیںصفدر مرزا پوری
  29. ہمارے زخم کی کیا فکر چارہ جو کرتےتمہیں نے چاک کیا ہے تمہیں رفو کرتےصفدر مرزا پوری
  30. ہوئی ہے زندگانی دشت غربت میں بسر میریوطن میں جب نہ پہنچا میں تو کیا پہنچے خبر میریصفدر مرزا پوری
  31. ذرا بھی دم ترے بیمار ناتواں میں نہیںمکاں میں یوں ہے کہ جیسے کوئی مکاں میں نہیںصفدر مرزا پوری
  32. کیوں کہہ رہے ہو نزع میں ہم سے خفا نہ ہواس کو فریب دو جو تمہیں جانتا نہ ہوصفدر مرزا پوری
  33. میری صورت کو دیکھو کچھ نہ پوچھو ماجرا میراکہ جو گزری ہے مجھ پر خوب واقف ہے خدا میراصفدر مرزا پوری