Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آپ دل جا کر جو زخمی ہو تو مژگاں کیا کرےکوئی رکھ دے پاؤں خود خار مغیلاں کیا کرےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  2. اگر دلا غم گیسوئے یار بڑھ جاتاشب فراق میں اور انتشار بڑھ جاتاRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  3. اگر گل کی کوئی پتی جھڑی ہےتو سو سو بار بلبل گر پڑی ہےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  4. باغ میں جگنو چمکتے ہیں جو پیارے رات کویاد آتے ہیں ان آنکھوں کے اشارے رات کوRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  5. بڑھا یہ شک کہ غیروں کہ تن میں آگ لگیہم آئے کیا کہ تری انجمن میں آگ لگیRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  6. تنخواہ تبر بہر درختان کہن ہےجو شاخ پھلی ہے وہ بر آورد چمن ہےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  7. ٹھہر جاوید کے ارماں دل مضطر نکلتے ہیںکھڑے ہیں منتظر ہم گھر سے وہ باہر نکلتے ہیںRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  8. جب سے سنا دہن ترے اے ماہرو نہیںسب چپ ہیں اب کسی کی کوئی گفتگو نہیںRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  9. جس کو عادت وصل کی ہو ہجر سے کیوں کر بنےجب اٹھے یہ غم کہ دل کا آئنہ پتھر بنےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  10. جنوں کی فصل آئی بڑھ گئی توقیر پتھر کیسر شوریدہ خود کرنے لگا تدبیر پتھر کیRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  11. جو مجھے مرغوب ہو وہ سوگواری چاہئےمیرے سویم میں تمہیں پوشاک بھاری چاہئےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  12. جو ہوا ہے صورت باد مخالف تیز ہےدل کا میداں ہے کہ اک صحرائے آفت خیز ہےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  13. خار و خس پھینکے چمن کے راستے جاری کرےباغباں فصل بہار آنے کی تیاری کرےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  14. دلا معشوق جو ہوتا ہے وہ سفاک ہوتا ہےبڑا بے رحم ہوتا ہے بڑا بے باک ہوتا ہےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  15. دل ہمارا جانب زلف سیہ فام آئے گایہ مسافر آج منزل پر سر شام آئے گاRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  16. دم رفتار جاناں یہ صدائے ناز آتی ہےسنبھالیں سب دلوں کو پاؤں کی آواز آتی ہےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  17. ڈر نہیں تھوکتے ہیں خون جو دکھ پائے ہوئےلخت دل بن کے نکل جائیں گے غم کھائے ہوئےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  18. راز الفت کے عیاں رات کو سارے ہوتےہم کئی بار انہیں گھبرا کے پکارے ہوتےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  19. سلسلۂ جنبان وحشت میں نئی تدبیر سےطوق منت کے بدلتے ہیں مری زنجیر سےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  20. شراب ناب کا قطرہ جو ساغر سے نکل جائےتڑپ کے دل مرا قابوئے دلبر سے نکل جائےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  21. عقدے الفت کے سب اے رشک قمر کھول دئیےسینہ یوں چاک کیا داغ جگر کھول دیئےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  22. کبھی گیسو نہ بگڑے قاتل کےناز بردار ہیں مرے دل کےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  23. گردش چشم ہے پیمانے میںتم گئے ہو کبھی میخانے میںRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  24. گرم رفتار ہے تیری یہ پتا دیتے ہیںدم بہ دم لو ترے نقش کف پا دیتے ہیںRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  25. مار ڈالے گی ہمیں یہ خوش بیانی آپ کیموت کا پیغام آئے گا زبانی آپ کیRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  26. مجھ کو منظور ہے مرنے پہ سبک باری ہواور احباب کو ہے فکر کفن بھاری ہوRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  27. نظر کر تیز ہے تقدیر مٹی کی کہ پتھر کیبتوں کو دیکھ ہیں تصویر مٹی کی کہ پتھر کیRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  28. نہ چھوڑا دل خستہ جاں چلتے چلتےغضب کر چلے مہرباں چلتے چلتےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  29. وصل کے دن کا اشارہ ہے کہ ڈھل جاؤں گادل یہ کہتا ہے کہ قابو سے نکل جاؤں گاRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  30. ہائے شرم دلبری اس دل ربا کے ہاتھ ہےاس وفا کی آبرو اوس بے وفا کے ہاتھ ہےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  31. ہجر ہے اب تھا یہیں میں زار ہم پہلوئے دوستمیرے بستر پر مجھے تڑپا رہی ہے بوئے دوستRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  32. ہم اجل کے آنے پر بھی ترا انتظار کرتےکوئی وعدہ سچ جو ہوتا تو کچھ اعتبار کرتےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  33. ہے اندھیرا تو سمجھتا ہوں شب گیسو ہےبند آنکھیں ہیں کہ اے یار نظر میں تو ہےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  34. ہے بے خود وصل میں دل ہجر میں مضطر سوا ہوگاخوشی جس گھر کی ایسی ہے وہاں کا رنج کیا ہوگاRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  35. طفلی نے بے خودی کا آغاز کیاقوت پہ شباب نے بڑا ناز کیاRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  36. کچھ اہل زمیں حال نیا کہتے ہیںاچھا کہتے ہیں یا برا کہتے ہیںRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  37. اب اور زمین و آسماں پیدا ہوقدرت سے نیا اک جہاں پیدا ہوRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  38. احباب ملاقات کو جو آتے ہیںناحق مجھے غم دے کے چلے جاتے ہیںRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  39. اندوہ شباب ٹالنے کو خم ہوںمیں قلب و جگر سنبھالنے کو خم ہوںRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  40. پیری میں حواس و ہوش سب کھوتے ہیںکب عہد جوانی کے لیے روتے ہیںRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  41. دنیا سے سبھی برے بھلے جائیں گےکیا خلق سے جز گناہ لے جائیں گےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  42. کب تک میں رنج و غم کی شدت دیکھوںتا کے اپنے پہ یہ مصیبت دیکھوںRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  43. کچھ دل سے جھکے ہوئے کہا کرتے ہیںآنسو بے کار بھی بہا کرتے ہیںRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  44. کیوں کنج لحد کے متصل جاؤں گاکہنے کے لیے مطلب دل جاؤں گاRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  45. معلوم تھا تکلیف سوا گزرے گیتا قبر نہ راحت سے ذرا گزرے گیRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  46. نامی ہوئے بے نشان ہونے کے لیےافسانہ ہوئے بیان ہونے کے لیےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  47. جوش وحشت میرے تلووں کو یہ ایذا بھی سہیہیں جہاں سو آبلے کچھ خار صحرا بھی سہیRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  48. سرخ ہو جاتا ہے منہ میری نظر کے بوجھ سےکیا بنے گی زیور گلہائے تر کے بوجھ سےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  49. شروع اہل محبت کے امتحان ہوئےاب ان کو ناز ہوا ہے کہ ہم جوان ہوئےRasheed Lakhnavi (d. 1904)