Poetry
- آپ دل جا کر جو زخمی ہو تو مژگاں کیا کرےکوئی رکھ دے پاؤں خود خار مغیلاں کیا کرےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- اگر دلا غم گیسوئے یار بڑھ جاتاشب فراق میں اور انتشار بڑھ جاتاRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- اگر گل کی کوئی پتی جھڑی ہےتو سو سو بار بلبل گر پڑی ہےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- باغ میں جگنو چمکتے ہیں جو پیارے رات کویاد آتے ہیں ان آنکھوں کے اشارے رات کوRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- بڑھا یہ شک کہ غیروں کہ تن میں آگ لگیہم آئے کیا کہ تری انجمن میں آگ لگیRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- تنخواہ تبر بہر درختان کہن ہےجو شاخ پھلی ہے وہ بر آورد چمن ہےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- ٹھہر جاوید کے ارماں دل مضطر نکلتے ہیںکھڑے ہیں منتظر ہم گھر سے وہ باہر نکلتے ہیںRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- جب سے سنا دہن ترے اے ماہرو نہیںسب چپ ہیں اب کسی کی کوئی گفتگو نہیںRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- جس کو عادت وصل کی ہو ہجر سے کیوں کر بنےجب اٹھے یہ غم کہ دل کا آئنہ پتھر بنےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- جنوں کی فصل آئی بڑھ گئی توقیر پتھر کیسر شوریدہ خود کرنے لگا تدبیر پتھر کیRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- جو مجھے مرغوب ہو وہ سوگواری چاہئےمیرے سویم میں تمہیں پوشاک بھاری چاہئےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- جو ہوا ہے صورت باد مخالف تیز ہےدل کا میداں ہے کہ اک صحرائے آفت خیز ہےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- خار و خس پھینکے چمن کے راستے جاری کرےباغباں فصل بہار آنے کی تیاری کرےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- دلا معشوق جو ہوتا ہے وہ سفاک ہوتا ہےبڑا بے رحم ہوتا ہے بڑا بے باک ہوتا ہےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- دل ہمارا جانب زلف سیہ فام آئے گایہ مسافر آج منزل پر سر شام آئے گاRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- دم رفتار جاناں یہ صدائے ناز آتی ہےسنبھالیں سب دلوں کو پاؤں کی آواز آتی ہےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- ڈر نہیں تھوکتے ہیں خون جو دکھ پائے ہوئےلخت دل بن کے نکل جائیں گے غم کھائے ہوئےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- راز الفت کے عیاں رات کو سارے ہوتےہم کئی بار انہیں گھبرا کے پکارے ہوتےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- سلسلۂ جنبان وحشت میں نئی تدبیر سےطوق منت کے بدلتے ہیں مری زنجیر سےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- شراب ناب کا قطرہ جو ساغر سے نکل جائےتڑپ کے دل مرا قابوئے دلبر سے نکل جائےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- عقدے الفت کے سب اے رشک قمر کھول دئیےسینہ یوں چاک کیا داغ جگر کھول دیئےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- کبھی گیسو نہ بگڑے قاتل کےناز بردار ہیں مرے دل کےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- گردش چشم ہے پیمانے میںتم گئے ہو کبھی میخانے میںRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- گرم رفتار ہے تیری یہ پتا دیتے ہیںدم بہ دم لو ترے نقش کف پا دیتے ہیںRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- مار ڈالے گی ہمیں یہ خوش بیانی آپ کیموت کا پیغام آئے گا زبانی آپ کیRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- مجھ کو منظور ہے مرنے پہ سبک باری ہواور احباب کو ہے فکر کفن بھاری ہوRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- نظر کر تیز ہے تقدیر مٹی کی کہ پتھر کیبتوں کو دیکھ ہیں تصویر مٹی کی کہ پتھر کیRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- نہ چھوڑا دل خستہ جاں چلتے چلتےغضب کر چلے مہرباں چلتے چلتےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- وصل کے دن کا اشارہ ہے کہ ڈھل جاؤں گادل یہ کہتا ہے کہ قابو سے نکل جاؤں گاRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- ہائے شرم دلبری اس دل ربا کے ہاتھ ہےاس وفا کی آبرو اوس بے وفا کے ہاتھ ہےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- ہجر ہے اب تھا یہیں میں زار ہم پہلوئے دوستمیرے بستر پر مجھے تڑپا رہی ہے بوئے دوستRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- ہم اجل کے آنے پر بھی ترا انتظار کرتےکوئی وعدہ سچ جو ہوتا تو کچھ اعتبار کرتےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- ہے اندھیرا تو سمجھتا ہوں شب گیسو ہےبند آنکھیں ہیں کہ اے یار نظر میں تو ہےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- ہے بے خود وصل میں دل ہجر میں مضطر سوا ہوگاخوشی جس گھر کی ایسی ہے وہاں کا رنج کیا ہوگاRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- طفلی نے بے خودی کا آغاز کیاقوت پہ شباب نے بڑا ناز کیاRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- کچھ اہل زمیں حال نیا کہتے ہیںاچھا کہتے ہیں یا برا کہتے ہیںRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- اب اور زمین و آسماں پیدا ہوقدرت سے نیا اک جہاں پیدا ہوRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- احباب ملاقات کو جو آتے ہیںناحق مجھے غم دے کے چلے جاتے ہیںRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- اندوہ شباب ٹالنے کو خم ہوںمیں قلب و جگر سنبھالنے کو خم ہوںRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- پیری میں حواس و ہوش سب کھوتے ہیںکب عہد جوانی کے لیے روتے ہیںRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- دنیا سے سبھی برے بھلے جائیں گےکیا خلق سے جز گناہ لے جائیں گےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- کب تک میں رنج و غم کی شدت دیکھوںتا کے اپنے پہ یہ مصیبت دیکھوںRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- کچھ دل سے جھکے ہوئے کہا کرتے ہیںآنسو بے کار بھی بہا کرتے ہیںRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- کیوں کنج لحد کے متصل جاؤں گاکہنے کے لیے مطلب دل جاؤں گاRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- معلوم تھا تکلیف سوا گزرے گیتا قبر نہ راحت سے ذرا گزرے گیRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- نامی ہوئے بے نشان ہونے کے لیےافسانہ ہوئے بیان ہونے کے لیےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- جوش وحشت میرے تلووں کو یہ ایذا بھی سہیہیں جہاں سو آبلے کچھ خار صحرا بھی سہیRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- سرخ ہو جاتا ہے منہ میری نظر کے بوجھ سےکیا بنے گی زیور گلہائے تر کے بوجھ سےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- شروع اہل محبت کے امتحان ہوئےاب ان کو ناز ہوا ہے کہ ہم جوان ہوئےRasheed Lakhnavi (d. 1904)