Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آئنہ دیکھنا انگشت بدنداں رہنااس نے تو ہم کو بھی سکھلا دیا حیراں رہناOm Krishn Rahat (b. 1925)
  2. اسے خلاؤں کی وسعتوں کا تجربہ ہی نہیںوہ میرے ساتھ کبھی عرش تک گیا ہی نہیںOm Krishn Rahat (b. 1925)
  3. باغ تاراج باغباں غائبشاخ موجود آشیاں غائبOm Krishn Rahat (b. 1925)
  4. جیت بھی جائیں گے آمادۂ پیکار تو ہوںہم الجھنے کے لئے وقت سے تیار تو ہوںOm Krishn Rahat (b. 1925)
  5. خط ان کو بھیجا ہے دل کے سجھاو پر ہم نےبھروسہ کر لیا کاغذ کی ناؤ پر ہم نےOm Krishn Rahat (b. 1925)
  6. خود ہی یہ درد سر قبول کیاہر عذاب سفر قبول کیاOm Krishn Rahat (b. 1925)
  7. خوش ہوں کب دل کی داستاں کہہ کرکیا ملے گا یہاں وہاں کہہ کرOm Krishn Rahat (b. 1925)
  8. خوشی کا دوسرا پہلو ہے اور غم کیا ہےنفس کی آمد و شد ہی تو ہے یہ دم کیا ہےOm Krishn Rahat (b. 1925)
  9. داور حشر ذرا اور بڑھے بات کہ بسمجھ سے کچھ اور بھی پوچھیں گے سوالات کہ بسOm Krishn Rahat (b. 1925)
  10. دکھ بھی سہے الم بھی سہے رنج بھی سہےپھر بھی بشر خدا کو خدا مانتا رہےOm Krishn Rahat (b. 1925)
  11. رکھئے زبان خار ہماری زباں کے ساتھاس کا بیاں ملے گا ہمارے بیاں کے ساتھOm Krishn Rahat (b. 1925)
  12. رونا زار و قطار چھوڑ دیاہم نے یہ کاروبار چھوڑ دیاOm Krishn Rahat (b. 1925)
  13. سب صحیفوں کو طاق پر رکھ دوجی نہیں مانتا مگر رکھ دوOm Krishn Rahat (b. 1925)
  14. سمجھ کے سارے سہاروں کو رائیگاں ہم نےاتار پھینکا ہے کشتی کا بادباں ہم نےOm Krishn Rahat (b. 1925)
  15. شعر کیا ہے غبار خاطر ہےطائر فکر کا کوئی پر ہےOm Krishn Rahat (b. 1925)
  16. غم و اندوہ کا سینے میں سمندر لے کرجئے جاتا ہوں مگر ہاتھ میں ساغر لے کرOm Krishn Rahat (b. 1925)
  17. کون اب ان کی انجمن میں نہیںچپ ہیں جیسے زباں دہن میں نہیںOm Krishn Rahat (b. 1925)
  18. کوئی تو اس کا اہل ہو یہ جام کس کو دیںدو گھونٹ بچ گئی تھی جو کل شام کس کو دیںOm Krishn Rahat (b. 1925)
  19. کہیں بھی آپ کا راحتؔ کوئی مقام نہیںگناہ گاروں کی فہرست میں بھی نام نہیںOm Krishn Rahat (b. 1925)
  20. گھٹ کے رہ جاتی ہیں سینے میں صدائیں کتنیجم گئی ہیں میرے ہونٹوں پہ دعائیں کتنیOm Krishn Rahat (b. 1925)
  21. لوگ سمجھے تھے چھپا رکھا ہے دھن گٹھری میںہم نے تو رکھی تھی ماتھے کی شکن گٹھری میںOm Krishn Rahat (b. 1925)
  22. معانی لفظوں کے پیری میں کچھ شباب میں کچھاور اس کے بارے میں لکھا نہیں کتاب میں کچھOm Krishn Rahat (b. 1925)
  23. میں دعا مانگوں تو دل مجھ سے خفا ہو جائے گاسر جھکا تو سر کو سجدوں کا نشہ ہو جائے گاOm Krishn Rahat (b. 1925)
  24. ہر ایک در پہ سر کو ٹپکنے کے باوجودکعبہ پہنچ گیا ہوں بھٹکنے کے باوجودOm Krishn Rahat (b. 1925)