جیت بھی جائیں گے آمادۂ پیکار تو ہوں
Om Krishn Rahat (b. 1925)جیت بھی جائیں گے آمادۂ پیکار تو ہوں
ہم الجھنے کے لئے وقت سے تیار تو ہوں
خود شناسی تو چلو ٹھہری بہت دور کی بات
اپنے کردار سے ہم لوگ خبردار تو ہوں
مقصد زیست ذرا تو ہی صدا دے ان کو
تجھ سے ہو کے جو الگ ہوتے ہیں بیدار تو ہوں
دھوپ اب تک تو منڈیروں پہ چڑھی بیٹھی ہے
اس کے آنگن میں اتر آنے کے آثار تو ہوں
ایسا مشکل تو نہیں توڑ کے تارے لانا
آسماں پر شب فرقت میں نمودار تو ہوں
پس منظر بھی بہت کچھ ہے مگر ہم نظریں
ان نظاروں سے ہٹا لینے کو تیار تو ہوں
موت کہتے ہیں ہر اک دکھ کی دوا ہے راحتؔ
مر کے بھی دیکھیں گے ہم جینے سے بیزار تو ہوں