Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اس ناز اس انداز سے تم ہائے چلو ہوروز ایک غزل ہم سے کہلوائے چلو ہوKaleem Aajiz (1926–2015)
  2. امتحان شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیںعشق جب تک واقف آداب غم ہوتا نہیںKaleem Aajiz (1926–2015)
  3. انہیں فریاد نازیبا لگے ہےستم کرتے بہت اچھا لگے ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  4. بدلی سی اپنی آنکھوں میں چھائی ہوئی سی ہےبھولی ہوئی سی یاد پھر آئی ہوئی سی ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  5. بڑی طلب تھی بڑا انتظار دیکھو توبہار لائی ہے کیسی بہار دیکھو توKaleem Aajiz (1926–2015)
  6. بیاں جب کلیمؔ اپنی حالت کرے ہےبھلا آدمی تھا پہ نادان نکلاKaleem Aajiz (1926–2015)
  7. بیکسی ہے اور دل ناشاد ہےاب انہیں دونوں سے گھر آباد ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  8. تجھے کلیمؔ کوئی کیسے خوش کلام کہےجو دن کو رات بتائے سحر کو شام کہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  9. تم گل تھے ہم نکھار ابھی کل کی بات ہےہم سے تھی سب بہار ابھی کل کی بات ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  10. جب صبا آئی ادھر ذکر بہار آ ہی گیایاد ہم کو انقلاب روزگار آ ہی گیاKaleem Aajiz (1926–2015)
  11. جہاں غم ملا اٹھایا پھر اسے غزل میں ڈھالایہی درد سر خریدا یہی روگ ہم نے پالاKaleem Aajiz (1926–2015)
  12. حقیقتوں کا جلال دیں گے صداقتوں کا جمال دیں گےتجھے بھی ہم اے غم زمانہ غزل کے سانچے میں ڈھال دیں گےKaleem Aajiz (1926–2015)
  13. درد کب دل میں مہرباں نہ رہاہاں مگر قابل بیاں نہ رہاKaleem Aajiz (1926–2015)
  14. دھڑکتا جاتا ہے دل مسکرانے والوں کااٹھا نہیں ہے ابھی اعتبار نالوں کاKaleem Aajiz (1926–2015)
  15. زخموں کے نئے پھول کھلانے کے لئے آپھر موسم گل یاد دلانے کے لئے آKaleem Aajiz (1926–2015)
  16. زندگی مائل فریاد و فغاں آج بھی ہےکل بھی تھا سینے پہ اک سنگ گراں آج بھی ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  17. شانے کا بہت خون جگر جائے ہے پیارےتب زلف کہیں تا بہ کمر جائے ہے پیارےKaleem Aajiz (1926–2015)
  18. غم دل ہی غم دوراں غم جانانہ بنتا ہےیہی غم شعر بنتا ہے یہی افسانہ بنتا ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  19. قائم ہے سرور مئے گلفام ہماراکیا غم ہے اگر ٹوٹ گیا جام ہماراKaleem Aajiz (1926–2015)
  20. کس طرح کوئی دھوپ میں پگھلے ہے جلے ہےیہ بات وہ کیا جانے جو سائے میں پلے ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  21. کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہےاب تو کچھ فیصلہ کر جانے کو جی چاہے ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  22. کیا غم ہے اگر شکوۂ غم عام ہے پیارےتو دل کو دکھا تیرا یہی کام ہے پیارےKaleem Aajiz (1926–2015)
  23. مت برا اس کو کہو گرچہ وہ اچھا بھی نہیںوہ نہ ہوتا تو غزل میں کبھی کہتا بھی نہیںKaleem Aajiz (1926–2015)
  24. مرا حال پوچھ کے ہم نشیں مرے سوز دل کو ہوا نہ دےبس یہی دعا میں کروں ہوں اب کہ یہ غم کسی کو خدا نہ دےKaleem Aajiz (1926–2015)
  25. مری شاعری میں نہ رقص جام نہ مے کی رنگ فشانیاںوہی دکھ بھروں کی حکایتیں وہی دل جلوں کی کہانیاںKaleem Aajiz (1926–2015)
  26. مری صبح غم بلا سے کبھی شام تک نہ پہنچےمجھے ڈر یہ ہے برائی ترے نام تک نہ پہنچےKaleem Aajiz (1926–2015)
  27. مری مستی کے افسانے رہیں گےجہاں گردش میں پیمانے رہیں گےKaleem Aajiz (1926–2015)
  28. منہ فقیروں سے نہ پھیرا چاہئےیہ تو پوچھا چاہئے کیا چاہئےKaleem Aajiz (1926–2015)
  29. میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہومجھ سے ہی امیروں کی طرح بات کرو ہوKaleem Aajiz (1926–2015)
  30. میں روؤں ہوں رونا مجھے بھائے ہےکسی کا بھلا اس میں کیا جائے ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  31. نظر کو آئنہ دل کو ترا شانہ بنا دیں گےتجھے ہم کیا سے کیا اے زلف جانانہ بنا دیں گےKaleem Aajiz (1926–2015)
  32. وقت کے در پر بھی ہے بہت کچھ وقت کے در سے آگے بھیشام و سحر کے ساتھ بھی چلئے شام و سحر سے آگے بھیKaleem Aajiz (1926–2015)
  33. وہ ستم نہ ڈھائے تو کیا کرے اسے کیا خبر کہ وفا ہے کیا؟تو اسی کو پیار کرے ہے کیوں یہ کلیمؔ تجھ کو ہوا ہے کیا؟Kaleem Aajiz (1926–2015)
  34. ہر چند غم و درد کی قیمت بھی بہت تھیلینا ہی پڑا دل کو ضرورت بھی بہت تھیKaleem Aajiz (1926–2015)
  35. ہم کو تو بے سوال ملے بے طلب ملےہم وہ نہیں ہیں ساقی کہ جب مانگیں تب ملےKaleem Aajiz (1926–2015)
  36. ہم کو تو خیر پہنچنا تھا جہاں تک پہنچےجو ہمیں روک رہے تھے وہ کہاں تک پہنچےKaleem Aajiz (1926–2015)
  37. ہے انہیں دو ناموں سے ہر ایک افسانے کا نامایک تیرا نام ہے اک تیرے دیوانے کا نامKaleem Aajiz (1926–2015)
  38. یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہےمجھے رونے کی بیماری نہیں ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  39. یہ دیوانے کبھی پابندیوں کا غم نہیں لیں گےگریباں چاک جب تک کر نہ لیں گے دم نہیں لیں گےKaleem Aajiz (1926–2015)
  40. یہ ستم کی محفل ناز ہے کلیمؔ اس کو اور سجائے جاوہ دکھائیں رقص ستم گری تو غزل کا ساز بجائے جاKaleem Aajiz (1926–2015)
  41. یہ سمندر ہے کنارے ہی کنارے جاؤعشق ہر شخص کے بس کا نہیں پیارے جاؤKaleem Aajiz (1926–2015)
  42. یہی بیکسی تھی تمام شب اسی بیکسی میں سحر ہوئینہ کبھی چمن میں گزر ہوا نہ کبھی گلوں میں بسر ہوئیKaleem Aajiz (1926–2015)
  43. گئے لیٹنے رات ڈھلتے ہوئےاٹھے صبح کو آنکھ ملتے ہوئےKaleem Aajiz (1926–2015)
  44. آزمانا ہے تو آ بازو و دل کی قوتتو بھی شمشیر اٹھا ہم بھی غزل کہتے ہیںKaleem Aajiz (1926–2015)
  45. اب انسانوں کی بستی کا یہ عالم ہے کہ مت پوچھولگے ہے آگ اک گھر میں تو ہمسایہ ہوا دے ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  46. اپنا لہو بھر کر لوگوں کو بانٹ گئے پیمانے لوگدنیا بھر کو یاد رہیں گے ہم جیسے دیوانے لوگKaleem Aajiz (1926–2015)
  47. اٹھتے ہوؤں کو سب نے سہارا دیا کلیمؔگرتے ہوئے غریب سنبھالے کہاں گئےKaleem Aajiz (1926–2015)
  48. انہیں کے گیت زمانے میں گائے جائیں گےجو چوٹ کھائیں گے اور مسکرائے جائیں گےKaleem Aajiz (1926–2015)
  49. بہاروں کی نظر میں پھول اور کانٹے برابر ہیںمحبت کیا کریں گے دوست دشمن دیکھنے والےKaleem Aajiz (1926–2015)
  50. تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزا کچھ بھی نہیںزندگی درد محبت کے سوا کچھ بھی نہیںKaleem Aajiz (1926–2015)