جب صبا آئی ادھر ذکر بہار آ ہی گیا

Kaleem Aajiz (1926–2015)

جب صبا آئی ادھر ذکر بہار آ ہی گیا

یاد ہم کو انقلاب روزگار آ ہی گیا

کس لیے اب جبر کی تکلیف فرماتے ہیں آپ

بندہ پرور میں تو زیر اختیار آ ہی گیا

لالہ و گل پر جو گزری ہے گزرنے دیجئے

آپ کو تو مہرباں لطف بہار آ ہی گیا

دہر میں رسم وفا بدنام ہو کر ہی رہی

ہم بچاتے ہی رہے دامن غبار آ ہی گیا

ہنس کے بولے اب تجھے زنجیر کی حاجت نہیں

ان کو میری بے بسی کا اعتبار آ ہی گیا

شکوہ سنجی اپنی عادت میں نہیں داخل مگر

دل دکھا تو لب پہ حرف ناگوار آ ہی گیا