یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے

Kaleem Aajiz (1926–2015)

یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے

مجھے رونے کی بیماری نہیں ہے

نہ پوچھو زخم ہائے دل کا عالم

چمن میں ایسی گل کاری نہیں ہے

بہت دشوار سمجھانا ہے غم کا

سمجھ لینے میں دشواری نہیں ہے

مزاج تلخ گفتاری نہیں ہے

چمن میں کیوں چلوں کانٹوں سے بچ کر

یہ آئین وفاداری نہیں ہے

وہ آئیں قتل کو جس روز چاہیں

یہاں کس روز تیاری نہیں ہے