زخموں کے نئے پھول کھلانے کے لئے آ

Kaleem Aajiz (1926–2015)

زخموں کے نئے پھول کھلانے کے لئے آ

پھر موسم گل یاد دلانے کے لئے آ

مستی لئے آنکھوں میں بکھیرے ہوئے زلفیں

آ پھر مجھے دیوانہ بنانے کے لئے آ

اب لطف اسی میں ہے مزا ہے تو اسی میں

آ اے مرے محبوب ستانے کے لئے آ

آ رکھ دہن زخم پہ پھر انگلیاں اپنی

دل بانسری تیری ہے بجانے کے لئے آ

ہاں کچھ بھی تو دیرینہ محبت کا بھرم رکھ

دل سے نہ آ دنیا کو دکھانے کے لئے آ

مانا کہ مرے گھر سے عداوت ہی تجھے ہے

رہنے کو نہ آ آگ لگانے کے لئے آ

پیارے تری صورت سے بھی اچھی ہے جو تصویر

میں نے تجھے رکھی ہے دکھانے کے لئے، آ

آشفتہ کہے ہے کوئی دیوانہ کہے ہے

میں کون ہوں دنیا کو بتانے کے لئے آ

کچھ روز سے ہم شہر میں رسوا نہ ہوئے ہیں

آ پھر کوئی الزام لگانے کے لئے آ

اب کے جو وہ آ جائے تو عاجزؔ اسے لے کر

محفل میں غزل اپنی سنانے کے لئے آ