Poetry
- آج سوچا تو آنسو بھر آئےمدتیں ہو گئیں مسکرائےKaifi Azmi (1919–2002)
- اتنا تو زندگی میں کسی کے خلل پڑےہنسنے سے ہو سکون نہ رونے سے کل پڑےKaifi Azmi (1919–2002)
- بہارو میرا جیون بھی سنواروکوئی آئے کہیں سے یوں پکاروKaifi Azmi (1919–2002)
- پتھر کے خدا وہاں بھی پائےہم چاند سے آج لوٹ آئےKaifi Azmi (1919–2002)
- تم اتنا جو مسکرا رہے ہوکیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہوKaifi Azmi (1919–2002)
- جو وہ مرے نہ رہے میں بھی کب کسی کا رہابچھڑ کے ان سے سلیقہ نہ زندگی کا رہاKaifi Azmi (1919–2002)
- جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیںدبا دبا سا سہی دل میں پیار ہے کہ نہیںKaifi Azmi (1919–2002)
- خار و خس تو اٹھیں راستہ تو چلےمیں اگر تھک گیا قافلہ تو چلےKaifi Azmi (1919–2002)
- سنا کرو مری جاں ان سے ان سے افسانےسب اجنبی ہیں یہاں کون کس کو پہچانےKaifi Azmi (1919–2002)
- شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگاکوئی جنگل کی طرف شہر سے آیا ہوگاKaifi Azmi (1919–2002)
- کہیں سے لوٹ کے ہم لڑکھڑائے ہیں کیا کیاستارے زیر قدم رات آئے ہیں کیا کیاKaifi Azmi (1919–2002)
- کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیںاس سر پہ جھوم کے جو گھٹائیں گزر گئیںKaifi Azmi (1919–2002)
- کی ہے کوئی حسین خطا ہر خطا کے ساتھتھوڑا سا پیار بھی مجھے دے دو سزا کے ساتھKaifi Azmi (1919–2002)
- لائی پھر اک لغزش مستانہ تیرے شہر میںپھر بنیں گی مسجدیں مے خانہ تیرے شہر میںKaifi Azmi (1919–2002)
- ملے نہ پھول تو کانٹوں ث دوستی کر لیاسی طرح سے بسر ہم نے زندگی کر لیKaifi Azmi (1919–2002)
- میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتانئی زمین نیا آسماں نہیں ملتاKaifi Azmi (1919–2002)
- وہ بھی سراہنے لگے ارباب فن کے بعدداد سخن ملی مجھے ترک سخن کے بعدKaifi Azmi (1919–2002)
- ہاتھ آ کر لگا گیا کوئیمیرا چھپر اٹھا گیا کوئیKaifi Azmi (1919–2002)
- یا دل کی سنو دنیا والو یا مجھ کو ابھی چپ رہنے دومیں غم کو خوشی کیسے کہہ دوں جو کہتے ہیں ان کو کہنے دوKaifi Azmi (1919–2002)
- یوں ہی کوئی مل گیا تھا سر راہ چلتے چلتےوہیں تھم کے رہ گئی ہے مری رات ڈھلتے ڈھلتےKaifi Azmi (1919–2002)
- آج کی رات بہت گرم ہوا چلتی ہےآج کی رات نہ فٹ پاتھ پہ نیند آئے گیKaifi Azmi (1919–2002)
- اب اور کیا ترا بیمار باپ دے گا تجھےبس اک دعا کہ خدا تجھ کو کامیاب کرےKaifi Azmi (1919–2002)
- اب تم آغوش تصور میں بھی آیا نہ کرومجھ سے بکھرے ہوئے گیسو نہیں دیکھے جاتےKaifi Azmi (1919–2002)
- اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقلب ماحول میں لرزاں شرر جنگ ہیں آجKaifi Azmi (1919–2002)
- اک یہی سوز نہاں کل مرا سرمایہ ہےدوستو میں کسے یہ سوز نہاں نذر کروںKaifi Azmi (1919–2002)
- ایک گردن پہ سیکڑوں چہرےاور ہر چہرے پر ہزاروں داغKaifi Azmi (1919–2002)
- اے ہمہ رنگ ہمہ نور ہمہ سوز و گدازبزم مہتاب سے آنے کی ضرورت کیا تھیKaifi Azmi (1919–2002)
- پیار کا جشن نئی طرح منانا ہوگاغم کسی دل میں سہی غم کو مٹانا ہوگاKaifi Azmi (1919–2002)
- تم پریشان نہ ہو، باب کرم وا نہ کرواور کچھ دیر پکاروں گا چلا جاؤں گاKaifi Azmi (1919–2002)
- تم خدا ہوخدا کے بیٹے ہوKaifi Azmi (1919–2002)
- جب بھی چوم لیتا ہوں ان حسین آنکھوں کوسو چراغ اندھیرے میں جھلملانے لگتے ہیںKaifi Azmi (1919–2002)
- چاند ٹوٹا پگھل گئے تارےقطرہ قطرہ ٹپک رہی ہے راتKaifi Azmi (1919–2002)
- دوست! میں دیکھ چکا تاج محلمرمریں مرمریں پھولوں سے ابلتا ہیراKaifi Azmi (1919–2002)
- رام بن باس سے جب لوٹ کے گھر میں آئےیاد جنگل بہت آیا جو نگر میں آئےKaifi Azmi (1919–2002)
- روح بے چین ہے اک دل کی اذیت کیا ہےدل ہی شعلہ ہے تو یہ سوز محبت کیا ہےKaifi Azmi (1919–2002)
- روز بڑھتا ہوں جہاں سے آگےپھر وہیں لوٹ کے آ جاتا ہوںKaifi Azmi (1919–2002)
- رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئیتم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئیKaifi Azmi (1919–2002)
- زباں کو ترجمان غم بناؤں کس طرح کیفیؔمیں برگ گل سے انگارے اٹھاؤں کس طرح کیفیؔKaifi Azmi (1919–2002)
- زندگی نام ہے کچھ لمحوں کااور ان میں بھی وہی اک لمحہKaifi Azmi (1919–2002)
- شگفتگی کا لطافت کا شاہکار ہو تمفقط بہار نہیں حاصل بہار ہو تمKaifi Azmi (1919–2002)
- طبیعت جبریہ تسکین سے گھبرائی جاتی ہےہنسوں کیسے ہنسی کمبخت تو مرجھائی جاتی ہےKaifi Azmi (1919–2002)
- عزیز ماں مری ہنس مکھ مری بہادر ماںتمام جوہر فطرت جگا دیے تو نےKaifi Azmi (1919–2002)
- کبھی جمود کبھی صرف انتشار سا ہےجہاں کو اپنی تباہی کا انتظار سا ہےKaifi Azmi (1919–2002)
- کتنی رنگیں ہے فضا کتنی حسیں ہے دنیاکتنا سرشار ہے ذوق چمن آرائی آجKaifi Azmi (1919–2002)
- کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہےوہ جو اپنا تھا وہی اور کسی کا کیوں ہےKaifi Azmi (1919–2002)
- لو پو پھٹی وہ چھپ گئی تاروں کی انجمنلو جام مہر سے وہ چھلکنے لگی کرنKaifi Azmi (1919–2002)
- مرے بیٹے مری آنکھیں مرے بعد ان کو دے دیناجنہوں نے ریت میں سر گاڑ رکھے ہیںKaifi Azmi (1919–2002)
- مست گھٹا منڈلائی ہوئی ہےباغ پہ مستی چھائی ہوئی ہےKaifi Azmi (1919–2002)
- میں یہ سوچ کر اس کے در سے اٹھا تھاکہ وہ روک لے گی منا لے گی مجھ کوKaifi Azmi (1919–2002)
- نقوش حسرت مٹا کے اٹھنا، خوشی کا پرچم اڑا کے اٹھناملا کے سر بیٹھنا مبارک ترانۂ فتح گا کے اٹھناKaifi Azmi (1919–2002)