Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آج سوچا تو آنسو بھر آئےمدتیں ہو گئیں مسکرائےKaifi Azmi (1919–2002)
  2. اتنا تو زندگی میں کسی کے خلل پڑےہنسنے سے ہو سکون نہ رونے سے کل پڑےKaifi Azmi (1919–2002)
  3. بہارو میرا جیون بھی سنواروکوئی آئے کہیں سے یوں پکاروKaifi Azmi (1919–2002)
  4. پتھر کے خدا وہاں بھی پائےہم چاند سے آج لوٹ آئےKaifi Azmi (1919–2002)
  5. تم اتنا جو مسکرا رہے ہوکیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہوKaifi Azmi (1919–2002)
  6. جو وہ مرے نہ رہے میں بھی کب کسی کا رہابچھڑ کے ان سے سلیقہ نہ زندگی کا رہاKaifi Azmi (1919–2002)
  7. جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیںدبا دبا سا سہی دل میں پیار ہے کہ نہیںKaifi Azmi (1919–2002)
  8. خار و خس تو اٹھیں راستہ تو چلےمیں اگر تھک گیا قافلہ تو چلےKaifi Azmi (1919–2002)
  9. سنا کرو مری جاں ان سے ان سے افسانےسب اجنبی ہیں یہاں کون کس کو پہچانےKaifi Azmi (1919–2002)
  10. شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگاکوئی جنگل کی طرف شہر سے آیا ہوگاKaifi Azmi (1919–2002)
  11. کہیں سے لوٹ کے ہم لڑکھڑائے ہیں کیا کیاستارے زیر قدم رات آئے ہیں کیا کیاKaifi Azmi (1919–2002)
  12. کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیںاس سر پہ جھوم کے جو گھٹائیں گزر گئیںKaifi Azmi (1919–2002)
  13. کی ہے کوئی حسین خطا ہر خطا کے ساتھتھوڑا سا پیار بھی مجھے دے دو سزا کے ساتھKaifi Azmi (1919–2002)
  14. لائی پھر اک لغزش مستانہ تیرے شہر میںپھر بنیں گی مسجدیں مے خانہ تیرے شہر میںKaifi Azmi (1919–2002)
  15. ملے نہ پھول تو کانٹوں ث دوستی کر لیاسی طرح سے بسر ہم نے زندگی کر لیKaifi Azmi (1919–2002)
  16. میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتانئی زمین نیا آسماں نہیں ملتاKaifi Azmi (1919–2002)
  17. وہ بھی سراہنے لگے ارباب فن کے بعدداد سخن ملی مجھے ترک سخن کے بعدKaifi Azmi (1919–2002)
  18. ہاتھ آ کر لگا گیا کوئیمیرا چھپر اٹھا گیا کوئیKaifi Azmi (1919–2002)
  19. یا دل کی سنو دنیا والو یا مجھ کو ابھی چپ رہنے دومیں غم کو خوشی کیسے کہہ دوں جو کہتے ہیں ان کو کہنے دوKaifi Azmi (1919–2002)
  20. یوں ہی کوئی مل گیا تھا سر راہ چلتے چلتےوہیں تھم کے رہ گئی ہے مری رات ڈھلتے ڈھلتےKaifi Azmi (1919–2002)
  21. آج کی رات بہت گرم ہوا چلتی ہےآج کی رات نہ فٹ پاتھ پہ نیند آئے گیKaifi Azmi (1919–2002)
  22. اب اور کیا ترا بیمار باپ دے گا تجھےبس اک دعا کہ خدا تجھ کو کامیاب کرےKaifi Azmi (1919–2002)
  23. اب تم آغوش تصور میں بھی آیا نہ کرومجھ سے بکھرے ہوئے گیسو نہیں دیکھے جاتےKaifi Azmi (1919–2002)
  24. اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقلب ماحول میں لرزاں شرر جنگ ہیں آجKaifi Azmi (1919–2002)
  25. اک یہی سوز نہاں کل مرا سرمایہ ہےدوستو میں کسے یہ سوز نہاں نذر کروںKaifi Azmi (1919–2002)
  26. ایک گردن پہ سیکڑوں چہرےاور ہر چہرے پر ہزاروں داغKaifi Azmi (1919–2002)
  27. اے ہمہ رنگ ہمہ نور ہمہ سوز و گدازبزم مہتاب سے آنے کی ضرورت کیا تھیKaifi Azmi (1919–2002)
  28. پیار کا جشن نئی طرح منانا ہوگاغم کسی دل میں سہی غم کو مٹانا ہوگاKaifi Azmi (1919–2002)
  29. تم پریشان نہ ہو، باب کرم وا نہ کرواور کچھ دیر پکاروں گا چلا جاؤں گاKaifi Azmi (1919–2002)
  30. تم خدا ہوخدا کے بیٹے ہوKaifi Azmi (1919–2002)
  31. جب بھی چوم لیتا ہوں ان حسین آنکھوں کوسو چراغ اندھیرے میں جھلملانے لگتے ہیںKaifi Azmi (1919–2002)
  32. چاند ٹوٹا پگھل گئے تارےقطرہ قطرہ ٹپک رہی ہے راتKaifi Azmi (1919–2002)
  33. دوست! میں دیکھ چکا تاج محلمرمریں مرمریں پھولوں سے ابلتا ہیراKaifi Azmi (1919–2002)
  34. رام بن باس سے جب لوٹ کے گھر میں آئےیاد جنگل بہت آیا جو نگر میں آئےKaifi Azmi (1919–2002)
  35. روح بے چین ہے اک دل کی اذیت کیا ہےدل ہی شعلہ ہے تو یہ سوز محبت کیا ہےKaifi Azmi (1919–2002)
  36. روز بڑھتا ہوں جہاں سے آگےپھر وہیں لوٹ کے آ جاتا ہوںKaifi Azmi (1919–2002)
  37. رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئیتم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئیKaifi Azmi (1919–2002)
  38. زباں کو ترجمان غم بناؤں کس طرح کیفیؔمیں برگ گل سے انگارے اٹھاؤں کس طرح کیفیؔKaifi Azmi (1919–2002)
  39. زندگی نام ہے کچھ لمحوں کااور ان میں بھی وہی اک لمحہKaifi Azmi (1919–2002)
  40. شگفتگی کا لطافت کا شاہکار ہو تمفقط بہار نہیں حاصل بہار ہو تمKaifi Azmi (1919–2002)
  41. طبیعت جبریہ تسکین سے گھبرائی جاتی ہےہنسوں کیسے ہنسی کمبخت تو مرجھائی جاتی ہےKaifi Azmi (1919–2002)
  42. عزیز ماں مری ہنس مکھ مری بہادر ماںتمام جوہر فطرت جگا دیے تو نےKaifi Azmi (1919–2002)
  43. کبھی جمود کبھی صرف انتشار سا ہےجہاں کو اپنی تباہی کا انتظار سا ہےKaifi Azmi (1919–2002)
  44. کتنی رنگیں ہے فضا کتنی حسیں ہے دنیاکتنا سرشار ہے ذوق چمن آرائی آجKaifi Azmi (1919–2002)
  45. کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہےوہ جو اپنا تھا وہی اور کسی کا کیوں ہےKaifi Azmi (1919–2002)
  46. لو پو پھٹی وہ چھپ گئی تاروں کی انجمنلو جام مہر سے وہ چھلکنے لگی کرنKaifi Azmi (1919–2002)
  47. مرے بیٹے مری آنکھیں مرے بعد ان کو دے دیناجنہوں نے ریت میں سر گاڑ رکھے ہیںKaifi Azmi (1919–2002)
  48. مست گھٹا منڈلائی ہوئی ہےباغ پہ مستی چھائی ہوئی ہےKaifi Azmi (1919–2002)
  49. میں یہ سوچ کر اس کے در سے اٹھا تھاکہ وہ روک لے گی منا لے گی مجھ کوKaifi Azmi (1919–2002)
  50. نقوش حسرت مٹا کے اٹھنا، خوشی کا پرچم اڑا کے اٹھناملا کے سر بیٹھنا مبارک ترانۂ فتح گا کے اٹھناKaifi Azmi (1919–2002)