Poetry
- آئینہ کبھی قابل دیدار نہ ہووےگر خاک کے ساتھ اس کو سروکار نہ ہووےعشق اورنگ آبادی
- اگر ثابت قدم ہو عشق میں جیوں شمع جل سکیےمقابل تند خو کی تیغ ابرو کے سنبھل سکیےعشق اورنگ آبادی
- اگر گل میں پیارے تری بو نہ ہووےوہ منظور بلبل کسی رو نہ ہووےعشق اورنگ آبادی
- اے مصور یاد کی تصویر کھینچا چاہئےہاتھ میرا اس کا دامن گیر کھینچا چاہئےعشق اورنگ آبادی
- باغ جہاں میں سرو سا گردن کشیدہ ہوںدامن تعلقات سے عالم کے چیدہ ہوںعشق اورنگ آبادی
- بلا سے خلق ہو بے درد عشق کیا غم ہےجراحت دل محزوں کا درد مرہم ہےعشق اورنگ آبادی
- بلبلا پھوٹے پہ ہو جاتا ہے آبجان و جاناں میں ہے یہ ہستی حجابعشق اورنگ آبادی
- بلبل کہو گل کی کیا خبر ہےگلشن میں بہار کس قدر ہےعشق اورنگ آبادی
- بیتی ہے یہ سب دل پہ ہے سب دل کی زبانیہجراں کی جو دلبر سے میں کہتا ہوں کہانیعشق اورنگ آبادی
- پاس آداب ترے حسن کا کرتے کرتےتجھ کو دیکھا بھی کبھی ہوں گا تو ڈرتے ڈرتےعشق اورنگ آبادی
- ترک خواہش زر کر کیمیا گری یہ ہےدل میں رکھ خیال دوست شیشہ و پری یہ ہےعشق اورنگ آبادی
- حیراں ہیں دیکھ تیری صورت کو یاں تلک ہمتصویر ساں اے پیارے مارے نہیں پلک ہمعشق اورنگ آبادی
- خاطر سے غبار دھو گئے ہمجتنا کہ ہنسے تھے رو گئے ہمعشق اورنگ آبادی
- خدا مرے دل پر خوں کو داغدار کرےجو لالہ زار مری خاک سے بہار کرےعشق اورنگ آبادی
- خورشید رو کی صحبت جو اب نہیں تو پھر کبشبنم کی طرح قربت جو اب نہیں تو پھر کبعشق اورنگ آبادی
- خورشید رو کے مہر کی جس پر نگاہ ہوطالع اسی کا خلق میں رخشندہ ماہ ہوعشق اورنگ آبادی
- خیال گل بدن آ کر بسا ہو جس کے پہلو میںوہ بوئے غنچۂ گل کو نہیں گنتا کسی بو میںعشق اورنگ آبادی
- رشتۂ دم سے جان ہے تن میںمنکے منکے سے تیرے سمرن میںعشق اورنگ آبادی
- رکھتا ہوں طلائی رنگ اور اشک بھی موتی ہےمنعم کے بھی گھر آخر دولت یہی ہوتی ہےعشق اورنگ آبادی
- رونے میں ابر تر کی طرح چشم کو میرے جوش ہےنالہ میں آہ رعد سا شور ہے اور خروش ہےعشق اورنگ آبادی
- زاہد نہیں مسجد سے کم حرمت مے خانہمستوں کی جماعت میں محراب ہے پیمانہعشق اورنگ آبادی
- زلف دلبر لے گئی دل گھات سےمیں تو بے دل ہو رہا ہوں رات سےعشق اورنگ آبادی
- سبب کیا پوچھتے ہو عشق کی آشفتہ حالی کادوانہ ہے کسو دلبر کی وضع لاوبالی کاعشق اورنگ آبادی
- سوز دل ہر شب ہمیں اپنا ہی بتلاتی ہے شمعدل کا جلنا ہم دکھاتے ہیں تو جل جاتی ہے شمععشق اورنگ آبادی
- شمع کے تیرے کرشمے نے دل افروزی کیان نے تب دور یہ محفل کی سیہ روزی کیعشق اورنگ آبادی
- صفحے پہ کب چمن کے ہوا سے غبار ہےیہ اپنے سر پہ خاک اڑاتی بہار ہےعشق اورنگ آبادی
- صورت کا اپنی یار پرستار تھا سو ہےآئینہ دل اس کو جو درکار تھا سو ہےعشق اورنگ آبادی
- عاشق ہوئے ہیں جب سے ہم خود سے جا رہے ہیںبے درد ناصحوں نے ناحق ستا رہے ہیںعشق اورنگ آبادی
- عشق سے کی یہ دل خالی نے بھر جانے میں دھومڈالے جیوں کم ظرف مے کے ایک دو پیمانے میں دھومعشق اورنگ آبادی
- عشق کی آگ میں اب شمع سا جل جاؤں گاتجھ لگن بیچ قدم گاڑ نہ ٹل جاؤں گاعشق اورنگ آبادی
- غم مرا دشمن جانی ہے کہو یا نہ کہومیرے آنسو کی زبانی ہے کہو یا نہ کہوعشق اورنگ آبادی
- کیوں ہے کہہ آئینہ اس درجہ تو حیراں مجھ سےاپنی روداد کو مت کیجیو پنہاں مجھ سےعشق اورنگ آبادی
- گرفتاری کی لذت اور نرا آزاد کیا جانےخوشی سے کاٹنا غم کا دل ناشاد کیا جانےعشق اورنگ آبادی
- گزارش کر صبا خدمت میں تو اس لاابالی کےترے جانے سے گل مرجھا گئے ہیں نقش قالی کےعشق اورنگ آبادی
- لگ رہی جس طرح لالہ کے سارے بن کو آگدل کو اپنے داغ دیو اے عاشقو اور تن کو آگعشق اورنگ آبادی
- میرے گل کا جو کوئی لطف و کرم دیکھا ہےحسن اور خلق کے تئیں اس نے بہم دیکھا ہےعشق اورنگ آبادی
- یہ نخل تاک نیں میکش ترے جب مست ہوتے ہیںچمن میں اینڈتے انگڑائیاں لے لے کے سوتے ہیںعشق اورنگ آبادی
- دو پیالوں میں ابھی سرشار ہو جاتا ہوں آ ساقیتو اپنے جام چشم مست کو گردش میں لا ساقیعشق اورنگ آبادی
- نہ آئینہ ہی اس صورت کے آگے ہکا بکا ہےسیاہی دیکھ اس کے خط کے مد کی دل میں لکا ہےعشق اورنگ آبادی