Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آئینہ کبھی قابل دیدار نہ ہووےگر خاک کے ساتھ اس کو سروکار نہ ہووےعشق اورنگ آبادی
  2. اگر ثابت قدم ہو عشق میں جیوں شمع جل سکیےمقابل تند خو کی تیغ ابرو کے سنبھل سکیےعشق اورنگ آبادی
  3. اگر گل میں پیارے تری بو نہ ہووےوہ منظور بلبل کسی رو نہ ہووےعشق اورنگ آبادی
  4. اے مصور یاد کی تصویر کھینچا چاہئےہاتھ میرا اس کا دامن گیر کھینچا چاہئےعشق اورنگ آبادی
  5. باغ جہاں میں سرو سا گردن کشیدہ ہوںدامن تعلقات سے عالم کے چیدہ ہوںعشق اورنگ آبادی
  6. بلا سے خلق ہو بے درد عشق کیا غم ہےجراحت دل محزوں کا درد مرہم ہےعشق اورنگ آبادی
  7. بلبلا پھوٹے پہ ہو جاتا ہے آبجان و جاناں میں ہے یہ ہستی حجابعشق اورنگ آبادی
  8. بلبل کہو گل کی کیا خبر ہےگلشن میں بہار کس قدر ہےعشق اورنگ آبادی
  9. بیتی ہے یہ سب دل پہ ہے سب دل کی زبانیہجراں کی جو دلبر سے میں کہتا ہوں کہانیعشق اورنگ آبادی
  10. پاس آداب ترے حسن کا کرتے کرتےتجھ کو دیکھا بھی کبھی ہوں گا تو ڈرتے ڈرتےعشق اورنگ آبادی
  11. ترک خواہش زر کر کیمیا گری یہ ہےدل میں رکھ خیال دوست شیشہ و پری یہ ہےعشق اورنگ آبادی
  12. حیراں ہیں دیکھ تیری صورت کو یاں تلک ہمتصویر ساں اے پیارے مارے نہیں پلک ہمعشق اورنگ آبادی
  13. خاطر سے غبار دھو گئے ہمجتنا کہ ہنسے تھے رو گئے ہمعشق اورنگ آبادی
  14. خدا مرے دل پر خوں کو داغدار کرےجو لالہ زار مری خاک سے بہار کرےعشق اورنگ آبادی
  15. خورشید رو کی صحبت جو اب نہیں تو پھر کبشبنم کی طرح قربت جو اب نہیں تو پھر کبعشق اورنگ آبادی
  16. خورشید رو کے مہر کی جس پر نگاہ ہوطالع اسی کا خلق میں رخشندہ ماہ ہوعشق اورنگ آبادی
  17. خیال گل بدن آ کر بسا ہو جس کے پہلو میںوہ بوئے غنچۂ گل کو نہیں گنتا کسی بو میںعشق اورنگ آبادی
  18. رشتۂ دم سے جان ہے تن میںمنکے منکے سے تیرے سمرن میںعشق اورنگ آبادی
  19. رکھتا ہوں طلائی رنگ اور اشک بھی موتی ہےمنعم کے بھی گھر آخر دولت یہی ہوتی ہےعشق اورنگ آبادی
  20. رونے میں ابر تر کی طرح چشم کو میرے جوش ہےنالہ میں آہ رعد سا شور ہے اور خروش ہےعشق اورنگ آبادی
  21. زاہد نہیں مسجد سے کم حرمت مے خانہمستوں کی جماعت میں محراب ہے پیمانہعشق اورنگ آبادی
  22. زلف دلبر لے گئی دل گھات سےمیں تو بے دل ہو رہا ہوں رات سےعشق اورنگ آبادی
  23. سبب کیا پوچھتے ہو عشق کی آشفتہ حالی کادوانہ ہے کسو دلبر کی وضع لاوبالی کاعشق اورنگ آبادی
  24. سوز دل ہر شب ہمیں اپنا ہی بتلاتی ہے شمعدل کا جلنا ہم دکھاتے ہیں تو جل جاتی ہے شمععشق اورنگ آبادی
  25. شمع کے تیرے کرشمے نے دل افروزی کیان نے تب دور یہ محفل کی سیہ روزی کیعشق اورنگ آبادی
  26. صفحے پہ کب چمن کے ہوا سے غبار ہےیہ اپنے سر پہ خاک اڑاتی بہار ہےعشق اورنگ آبادی
  27. صورت کا اپنی یار پرستار تھا سو ہےآئینہ دل اس کو جو درکار تھا سو ہےعشق اورنگ آبادی
  28. عاشق ہوئے ہیں جب سے ہم خود سے جا رہے ہیںبے درد ناصحوں نے ناحق ستا رہے ہیںعشق اورنگ آبادی
  29. عشق سے کی یہ دل خالی نے بھر جانے میں دھومڈالے جیوں کم ظرف مے کے ایک دو پیمانے میں دھومعشق اورنگ آبادی
  30. عشق کی آگ میں اب شمع سا جل جاؤں گاتجھ لگن بیچ قدم گاڑ نہ ٹل جاؤں گاعشق اورنگ آبادی
  31. غم مرا دشمن جانی ہے کہو یا نہ کہومیرے آنسو کی زبانی ہے کہو یا نہ کہوعشق اورنگ آبادی
  32. کیوں ہے کہہ آئینہ اس درجہ تو حیراں مجھ سےاپنی روداد کو مت کیجیو پنہاں مجھ سےعشق اورنگ آبادی
  33. گرفتاری کی لذت اور نرا آزاد کیا جانےخوشی سے کاٹنا غم کا دل ناشاد کیا جانےعشق اورنگ آبادی
  34. گزارش کر صبا خدمت میں تو اس لاابالی کےترے جانے سے گل مرجھا گئے ہیں نقش قالی کےعشق اورنگ آبادی
  35. لگ رہی جس طرح لالہ کے سارے بن کو آگدل کو اپنے داغ دیو اے عاشقو اور تن کو آگعشق اورنگ آبادی
  36. میرے گل کا جو کوئی لطف و کرم دیکھا ہےحسن اور خلق کے تئیں اس نے بہم دیکھا ہےعشق اورنگ آبادی
  37. یہ نخل تاک نیں میکش ترے جب مست ہوتے ہیںچمن میں اینڈتے انگڑائیاں لے لے کے سوتے ہیںعشق اورنگ آبادی
  38. دو پیالوں میں ابھی سرشار ہو جاتا ہوں آ ساقیتو اپنے جام چشم مست کو گردش میں لا ساقیعشق اورنگ آبادی
  39. نہ آئینہ ہی اس صورت کے آگے ہکا بکا ہےسیاہی دیکھ اس کے خط کے مد کی دل میں لکا ہےعشق اورنگ آبادی