Poetry
- آپ تو بات کا اخبار بنا دیتے ہیںگھر کا ماحول پر اسرار بنا دیتے ہیںIdris Azad
- اب تو اسباب و علل سے مجھے برتر کر دےاس فریضے پہ فرشتوں کو مقرر کر دےIdris Azad
- تمہارے حسن کے جلوے بہم نہیں ہیں میاںنہیں ہیں اب وہ تمہارے کرم نہیں ہیں میاںIdris Azad
- جب تجھے منبر یاقوت کٹہرا ہوا تھامیں سر عرش ترے سامنے ٹھہرا ہوا تھاIdris Azad
- چاہت مری مٹی میں عجب چھوڑ گیا ہےدل جل کے بھی خاشاک طلب چھوڑ گیا ہےIdris Azad
- چمن کی سیر بھی کافی رہی انا کے لیےصبا نے پھول کے بوسے مجھے دکھا کے لیےIdris Azad
- خدا نے جب مجھ بشر کو اپنا خلف بنایا سوال یہ ہےتو میں نے کیوں آسمان سر پر نہیں اٹھایا سوال یہ ہےIdris Azad
- دشمن جاں کے لیے لفظ مسیحا نکلاسچ مرے منہ سے تو نکلا مگر آدھا نکلاIdris Azad
- زمانہ آنکھ سے اوجھل مکان سامنے ہےچھپی ہوئی ہے حقیقت گمان سامنے ہےIdris Azad
- صبر سے ٹوٹا ہوا ضبط سے ہارا ہوا میںجتنا باقی بچا ہوں اتنا تمہارا ہوا میںIdris Azad
- عجلت کو اختیار نہ کر انتظار کرخود پر جنوں سوار نہ کر انتظار کرIdris Azad
- گزشتہ شب جو ہستی بر فراز دار تھی میں تھاپھر اگلے دن جو سرخی شوکت اخبار تھی میں تھاIdris Azad
- مرے واسطے وہ عدم ہوئے جو صف عدو سے نکل گئےمری محفلوں سے نکل گئے مری گفتگو سے نکل گئےIdris Azad
- مصر سے ریت چلی آتی ہے تکرار کے ساتھحسن کا نام لیا جاتا ہے بازار کے ساتھIdris Azad
- میں اپنے عشق میں پیہم زوال دیکھتا ہوںجو تیرے چاہنے والوں کا حال دیکھتا ہوںIdris Azad
- وفور شعر ہے اور رات ہونے والی ہےتو چاند ہے تو ملاقات ہونے والی ہےIdris Azad
- وہ حشر خیز عنایات پر اتر آیابلا کا رنگ ہے اور رات پر اتر آیاIdris Azad
- ہمارے ہوتے ہوتے رہ گئے ہیںقسم سے آپ اچھے رہ گئے ہیںIdris Azad
- ہم ایسے لوگ شیشے میں اتر جاتے ہیں دل داراچھنک کر ٹوٹ جاتے ہیں بکھر جاتے ہیں دل داراIdris Azad
- ہم بدلتے نہیں بدلتے ہیںاس لیے ہم سے لوگ جلتے ہیںIdris Azad
- یوں بظاہر تو پس پشت نہ ڈالو گے ہمیںجانتے ہیں بڑی عزت سے نکالو گے ہمیںIdris Azad
- اسے احساس ہونا چاہیے تھاکہ بچے کو کھلونا چاہیے تھاIdris Azad
- بجتا رہتا ہے مسلسل کسی بربط کی طرحکس کی دستک پہ لگا ہے مرا دروازۂ دلIdris Azad
- تری تعریف کرنے لگ گیا ہوںمحبت نے دیانت چھین لی ہےIdris Azad
- تری رونمائی کی رات بھی میں جہاں کھڑا تھا کھڑا رہاکہ ہجوم شہر کو چیر کر مجھے راستہ نہیں چاہیےIdris Azad
- تم نے تاروں کو رہنما جاناہم نے تاروں کی رہنمائی کیIdris Azad
- ٹوٹی نشست دل تو محبت کی آبروواپس اسی مقام پہ لائی نہ جا سکیIdris Azad
- دل کا دروازہ کھلا تھا کوئی ٹکتا کیسےجو بھی آتا تھا وہ جانے کے لیے آتا تھاIdris Azad
- عید کا چاند تم نے دیکھ لیاچاند کی عید ہو گئی ہوگیIdris Azad
- کھینچ لاتی ہے سمندر سے جزیرے سر آبجب مری آنکھ کو منظر کی تمنا ہو جائےIdris Azad
- میں اپنے آپ سے رہتا ہوں دور عید کے دناک اجنبی سا تکلف نئے لباس میں ہےIdris Azad
- میں تو اتنا بھی سمجھنے سے رہا ہوں قاصرراہ تکنے کے سوا آنکھ کا مقصد کیا ہےIdris Azad
- میں جس میں دفن ہوں اک چلتی پھرتی قبر ہے یہجنم نہیں تھا وہ دراصل مر گیا تھا میںIdris Azad
- میں نے جتنے بھی لوگ دیکھے ہیںسب کے سینوں میں روگ دیکھے ہیںIdris Azad
- نہیں نہیں میں اکیلا تو دل گرفتہ نہ تھاشجر بھی بیٹھا تھا مجھ سے کمر لگائے ہوئےIdris Azad
- وہ شوق ربط نو میں کھڑی جھولتی رہیمیں شاخ اعتبار سے پھل کی طرح گراIdris Azad
- وہ شہر بھر کو فسانے سناتا پھرتا ہےہمارے سامنے سچا بنے تو بات بنےIdris Azad