Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آپ تو بات کا اخبار بنا دیتے ہیںگھر کا ماحول پر اسرار بنا دیتے ہیںIdris Azad
  2. اب تو اسباب و علل سے مجھے برتر کر دےاس فریضے پہ فرشتوں کو مقرر کر دےIdris Azad
  3. تمہارے حسن کے جلوے بہم نہیں ہیں میاںنہیں ہیں اب وہ تمہارے کرم نہیں ہیں میاںIdris Azad
  4. جب تجھے منبر یاقوت کٹہرا ہوا تھامیں سر عرش ترے سامنے ٹھہرا ہوا تھاIdris Azad
  5. چاہت مری مٹی میں عجب چھوڑ گیا ہےدل جل کے بھی خاشاک طلب چھوڑ گیا ہےIdris Azad
  6. چمن کی سیر بھی کافی رہی انا کے لیےصبا نے پھول کے بوسے مجھے دکھا کے لیےIdris Azad
  7. خدا نے جب مجھ بشر کو اپنا خلف بنایا سوال یہ ہےتو میں نے کیوں آسمان سر پر نہیں اٹھایا سوال یہ ہےIdris Azad
  8. دشمن جاں کے لیے لفظ مسیحا نکلاسچ مرے منہ سے تو نکلا مگر آدھا نکلاIdris Azad
  9. زمانہ آنکھ سے اوجھل مکان سامنے ہےچھپی ہوئی ہے حقیقت گمان سامنے ہےIdris Azad
  10. صبر سے ٹوٹا ہوا ضبط سے ہارا ہوا میںجتنا باقی بچا ہوں اتنا تمہارا ہوا میںIdris Azad
  11. عجلت کو اختیار نہ کر انتظار کرخود پر جنوں سوار نہ کر انتظار کرIdris Azad
  12. گزشتہ شب جو ہستی بر فراز دار تھی میں تھاپھر اگلے دن جو سرخی شوکت اخبار تھی میں تھاIdris Azad
  13. مرے واسطے وہ عدم ہوئے جو صف عدو سے نکل گئےمری محفلوں سے نکل گئے مری گفتگو سے نکل گئےIdris Azad
  14. مصر سے ریت چلی آتی ہے تکرار کے ساتھحسن کا نام لیا جاتا ہے بازار کے ساتھIdris Azad
  15. میں اپنے عشق میں پیہم زوال دیکھتا ہوںجو تیرے چاہنے والوں کا حال دیکھتا ہوںIdris Azad
  16. وفور شعر ہے اور رات ہونے والی ہےتو چاند ہے تو ملاقات ہونے والی ہےIdris Azad
  17. وہ حشر خیز عنایات پر اتر آیابلا کا رنگ ہے اور رات پر اتر آیاIdris Azad
  18. ہمارے ہوتے ہوتے رہ گئے ہیںقسم سے آپ اچھے رہ گئے ہیںIdris Azad
  19. ہم ایسے لوگ شیشے میں اتر جاتے ہیں دل داراچھنک کر ٹوٹ جاتے ہیں بکھر جاتے ہیں دل داراIdris Azad
  20. ہم بدلتے نہیں بدلتے ہیںاس لیے ہم سے لوگ جلتے ہیںIdris Azad
  21. یوں بظاہر تو پس پشت نہ ڈالو گے ہمیںجانتے ہیں بڑی عزت سے نکالو گے ہمیںIdris Azad
  22. اسے احساس ہونا چاہیے تھاکہ بچے کو کھلونا چاہیے تھاIdris Azad
  23. بجتا رہتا ہے مسلسل کسی بربط کی طرحکس کی دستک پہ لگا ہے مرا دروازۂ دلIdris Azad
  24. تری تعریف کرنے لگ گیا ہوںمحبت نے دیانت چھین لی ہےIdris Azad
  25. تری رونمائی کی رات بھی میں جہاں کھڑا تھا کھڑا رہاکہ ہجوم شہر کو چیر کر مجھے راستہ نہیں چاہیےIdris Azad
  26. تم نے تاروں کو رہنما جاناہم نے تاروں کی رہنمائی کیIdris Azad
  27. ٹوٹی نشست دل تو محبت کی آبروواپس اسی مقام پہ لائی نہ جا سکیIdris Azad
  28. دل کا دروازہ کھلا تھا کوئی ٹکتا کیسےجو بھی آتا تھا وہ جانے کے لیے آتا تھاIdris Azad
  29. عید کا چاند تم نے دیکھ لیاچاند کی عید ہو گئی ہوگیIdris Azad
  30. کھینچ لاتی ہے سمندر سے جزیرے سر آبجب مری آنکھ کو منظر کی تمنا ہو جائےIdris Azad
  31. میں اپنے آپ سے رہتا ہوں دور عید کے دناک اجنبی سا تکلف نئے لباس میں ہےIdris Azad
  32. میں تو اتنا بھی سمجھنے سے رہا ہوں قاصرراہ تکنے کے سوا آنکھ کا مقصد کیا ہےIdris Azad
  33. میں جس میں دفن ہوں اک چلتی پھرتی قبر ہے یہجنم نہیں تھا وہ دراصل مر گیا تھا میںIdris Azad
  34. میں نے جتنے بھی لوگ دیکھے ہیںسب کے سینوں میں روگ دیکھے ہیںIdris Azad
  35. نہیں نہیں میں اکیلا تو دل گرفتہ نہ تھاشجر بھی بیٹھا تھا مجھ سے کمر لگائے ہوئےIdris Azad
  36. وہ شوق ربط نو میں کھڑی جھولتی رہیمیں شاخ اعتبار سے پھل کی طرح گراIdris Azad
  37. وہ شہر بھر کو فسانے سناتا پھرتا ہےہمارے سامنے سچا بنے تو بات بنےIdris Azad