Poetry
- آنکھ میں آنسو ہیں احساس مسرت دل میں ہےایک فردوس نظارہ آپ کی محفل میں ہےEhsan Danish (1914–1982)
- آیا نہیں ہے راہ پہ چرخ کہن ابھیخطرے میں دیکھتا ہوں چمن کا چمن ابھیEhsan Danish (1914–1982)
- اب کہو کارواں کدھر کو چلےراستے کھو گئے چراغ جلےEhsan Danish (1914–1982)
- اپنی رسوائی کا احساس تو اب کچھ بھی نہیںہونٹ ہی سن ہیں خموشی کا سبب کچھ بھی نہیںEhsan Danish (1914–1982)
- اٹھا ہوں اک ہجوم تمنا لئے ہوئےدنیا سے جا رہا ہوں میں دنیا لئے ہوئےEhsan Danish (1914–1982)
- اظہار صداقت میں اثر کیوں نہیں ہوتااب میری طرف ان کا گزر کیوں نہیں ہوتاEhsan Danish (1914–1982)
- اگر محبت کے مدعی ہو تو یہ رویہ روا نہیں ہےجو شکوہ ہے روبرو نہیں ہے جو بات ہے برملا نہیں ہےEhsan Danish (1914–1982)
- بخش دی حال زبوں نے جلوہ سامانی مجھےکاش مل جائے زمانے کی پریشانی مجھےEhsan Danish (1914–1982)
- بنا دیں گی دنیا کو اک دن شرابییہ بد مست آنکھیں یہ ڈورے گلابیEhsan Danish (1914–1982)
- بہار آئی ہے پھر جھوم کر سحاب اٹھاکہاں ہے مطرب رنگیں نوا رباب اٹھاEhsan Danish (1914–1982)
- ترا جمال ترا حسن کامگار رہےوہ کیا کرے نہ جسے دل پہ اختیار رہےEhsan Danish (1914–1982)
- توبہ کی نازشوں پہ ستم ڈھا کے پی گیا''پی''! اس نے جب کہا تو میں گھبرا کے پی گیاEhsan Danish (1914–1982)
- جب بھی خلوت میں وہ یاد آئے گاوقت کا سیل ٹھہر جائے گاEhsan Danish (1914–1982)
- جب رخ حسن سے نقاب اٹھابن کے ہر ذرہ آفتاب اٹھاEhsan Danish (1914–1982)
- جبیں کی دھول جگر کی جلن چھپائے گاشروع عشق ہے وہ فطرتاً چھپائے گاEhsan Danish (1914–1982)
- جو لے کے ان کی تمنا کے خواب نکلے گابہ عجز شوق بہ حال خراب نکلے گاEhsan Danish (1914–1982)
- جینے کے لیے جو مر رہے ہیںآغاز حیات کر رہے ہیںEhsan Danish (1914–1982)
- حوصلے مایوس ذوق جستجو ناکام ہےیہ دل نا محرم انجام کا انجام ہےEhsan Danish (1914–1982)
- رعنائی کونین سے بے زار ہمیں تھےہم تھے ترے جلووں کے طلب گار ہمیں تھےEhsan Danish (1914–1982)
- رندان تشنہ کام کو جا کر خبر کریںآئی بہار ابر کرم پر نظر کریںEhsan Danish (1914–1982)
- رنگ تہذیب و تمدن کے شناسا ہم بھی ہیںصورت آئینہ مرہون تماشا ہم بھی ہیںEhsan Danish (1914–1982)
- رہے جو زندگی میں زندگی کا آسرا ہو کروہی نکلے سریر آرا قیامت میں خدا ہو کرEhsan Danish (1914–1982)
- زندگی میں اس کو کیف زندگی حاصل نہیںجس کا دل راز و نیاز عشق کے قابل نہیںEhsan Danish (1914–1982)
- سوز جنوں کو دل کی غذا کر دیا گیااک زہر جاں طلب کو دوا کر دیا گیاEhsan Danish (1914–1982)
- عشق کو تقلید سے آزاد کردل سے گریہ آنکھ سے فریاد کرEhsan Danish (1914–1982)
- کبھی کبھی جو وہ غربت کدے میں آئے ہیںمرے بہے ہوئے آنسو جبیں پہ لائے ہیںEhsan Danish (1914–1982)
- کچھ اس طرح سے تصور میں آ رہا ہے کوئیچراغ روح میں جیسے جلا رہا ہے کوئیEhsan Danish (1914–1982)
- کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کی ناؤ پرتہمت تراشتے ہیں ہوا کے دباؤ پرEhsan Danish (1914–1982)
- کرتے کرتے امتزاج کعبہ و بت خانہ ہماس جگہ پہنچے کہ ہو کر رہ گئے دیوانہ ہمEhsan Danish (1914–1982)
- کل رات کچھ عجیب سماں غم کدے میں تھامیں جس کو ڈھونڈھتا تھا مرے آئنے میں تھاEhsan Danish (1914–1982)
- کہاں محفل میں مجھ تک بادۂ گلفام آتا ہےجو میرا نام آتا ہے تو خالی جام آتا ہےEhsan Danish (1914–1982)
- مجھے پوچھا ہے آ کر تم نے اس اخلاق کامل سےکہ میں شرمندہ ہو کر رہ گیا اندازۂ دل سےEhsan Danish (1914–1982)
- مرے مٹانے کی تدبیر تھی حجاب نہ تھاوگرنہ کون سے دن حسن بے نقاب نہ تھاEhsan Danish (1914–1982)
- مل مل کے دوستوں نے وہ دی ہے دغا مجھےاب خود پہ بھی نہیں ہے گمان وفا مجھےEhsan Danish (1914–1982)
- موسم سے رنگ و بو ہیں خفا دیکھتے چلویہ کیا چلی چمن میں ہوا دیکھتے چلوEhsan Danish (1914–1982)
- نہ سیو ہونٹ نہ خوابوں میں صدا دو ہم کومصلحت کا یہ تقاضا ہے بھلا دو ہم کوEhsan Danish (1914–1982)
- وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لئےوہ ہنس پڑے مجھے مشکل میں ڈالنے کے لئےEhsan Danish (1914–1982)
- وفائیں کر کے جفاؤں کا غم اٹھائے جااسی طرح سے زمانے کو آزمائے جاEhsan Danish (1914–1982)
- ہجوم رنج سے دل کو مسرت ہوتی جاتی ہےکہ مجھ پر آئنہ اپنی حقیقت ہوتی جاتی ہےEhsan Danish (1914–1982)
- ہزاروں غم ہیں اس منزل میں منزل دیکھنے والےکلیجہ تھام لے اپنا مرا دل دیکھنے والےEhsan Danish (1914–1982)
- ہم سے الفت جتائی جاتی ہےبے قراری بڑھائی جاتی ہےEhsan Danish (1914–1982)
- ہنگامۂ خودی سے تو بے نیاز ہو جاگم ہو کے بے خودی میں آگاہ راز ہو جاEhsan Danish (1914–1982)
- یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسےساتھ چل موج صبا ہو جیسےEhsan Danish (1914–1982)
- یہ تو نہیں کہ تم سے محبت نہیں مجھےاتنا ضرور ہے کہ شکایت نہیں مجھےEhsan Danish (1914–1982)
- آج اس نے ہنس کے یوں پوچھا مزاجعمر بھر کے رنج و غم یاد آ گئےEhsan Danish (1914–1982)
- احسانؔ اپنا کوئی برے وقت کا نہیںاحباب بے وفا ہیں خدا بے نیاز ہےEhsan Danish (1914–1982)
- احسانؔ ایسا تلخ جواب وفا ملاہم اس کے بعد پھر کوئی ارماں نہ کر سکےEhsan Danish (1914–1982)
- اول اول جب مجھے جور آشنا سمجھا تھا میںآج سمجھا ہوں جو سمجھا تھا بجا سمجھا تھا میںEhsan Danish (1914–1982)
- تم سادہ مزاجی سے مٹے پھرتے ہو جس پروہ شخص تو دنیا میں کسی کا بھی نہیں ہےEhsan Danish (1914–1982)
- دل کی شگفتگی کے ساتھ راحت مے کدہ گئیفرصت مے کشی تو ہے حسرت مے کشی نہیںEhsan Danish (1914–1982)