Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آنکھ میں آنسو ہیں احساس مسرت دل میں ہےایک فردوس نظارہ آپ کی محفل میں ہےEhsan Danish (1914–1982)
  2. آیا نہیں ہے راہ پہ چرخ کہن ابھیخطرے میں دیکھتا ہوں چمن کا چمن ابھیEhsan Danish (1914–1982)
  3. اب کہو کارواں کدھر کو چلےراستے کھو گئے چراغ جلےEhsan Danish (1914–1982)
  4. اپنی رسوائی کا احساس تو اب کچھ بھی نہیںہونٹ ہی سن ہیں خموشی کا سبب کچھ بھی نہیںEhsan Danish (1914–1982)
  5. اٹھا ہوں اک ہجوم تمنا لئے ہوئےدنیا سے جا رہا ہوں میں دنیا لئے ہوئےEhsan Danish (1914–1982)
  6. اظہار صداقت میں اثر کیوں نہیں ہوتااب میری طرف ان کا گزر کیوں نہیں ہوتاEhsan Danish (1914–1982)
  7. اگر محبت کے مدعی ہو تو یہ رویہ روا نہیں ہےجو شکوہ ہے روبرو نہیں ہے جو بات ہے برملا نہیں ہےEhsan Danish (1914–1982)
  8. بخش دی حال زبوں نے جلوہ سامانی مجھےکاش مل جائے زمانے کی پریشانی مجھےEhsan Danish (1914–1982)
  9. بنا دیں گی دنیا کو اک دن شرابییہ بد مست آنکھیں یہ ڈورے گلابیEhsan Danish (1914–1982)
  10. بہار آئی ہے پھر جھوم کر سحاب اٹھاکہاں ہے مطرب رنگیں نوا رباب اٹھاEhsan Danish (1914–1982)
  11. ترا جمال ترا حسن کامگار رہےوہ کیا کرے نہ جسے دل پہ اختیار رہےEhsan Danish (1914–1982)
  12. توبہ کی نازشوں پہ ستم ڈھا کے پی گیا''پی''! اس نے جب کہا تو میں گھبرا کے پی گیاEhsan Danish (1914–1982)
  13. جب بھی خلوت میں وہ یاد آئے گاوقت کا سیل ٹھہر جائے گاEhsan Danish (1914–1982)
  14. جب رخ حسن سے نقاب اٹھابن کے ہر ذرہ آفتاب اٹھاEhsan Danish (1914–1982)
  15. جبیں کی دھول جگر کی جلن چھپائے گاشروع عشق ہے وہ فطرتاً چھپائے گاEhsan Danish (1914–1982)
  16. جو لے کے ان کی تمنا کے خواب نکلے گابہ عجز شوق بہ حال خراب نکلے گاEhsan Danish (1914–1982)
  17. جینے کے لیے جو مر رہے ہیںآغاز حیات کر رہے ہیںEhsan Danish (1914–1982)
  18. حوصلے مایوس ذوق جستجو ناکام ہےیہ دل‌ نا محرم انجام کا انجام ہےEhsan Danish (1914–1982)
  19. رعنائی کونین سے بے زار ہمیں تھےہم تھے ترے جلووں کے طلب گار ہمیں تھےEhsan Danish (1914–1982)
  20. رندان‌ تشنہ کام کو جا کر خبر کریںآئی بہار ابر کرم پر نظر کریںEhsan Danish (1914–1982)
  21. رنگ تہذیب و تمدن کے شناسا ہم بھی ہیںصورت آئینہ مرہون تماشا ہم بھی ہیںEhsan Danish (1914–1982)
  22. رہے جو زندگی میں زندگی کا آسرا ہو کروہی نکلے سریر آرا قیامت میں خدا ہو کرEhsan Danish (1914–1982)
  23. زندگی میں اس کو کیف زندگی حاصل نہیںجس کا دل راز و نیاز عشق کے قابل نہیںEhsan Danish (1914–1982)
  24. سوز جنوں کو دل کی غذا کر دیا گیااک زہر جاں طلب کو دوا کر دیا گیاEhsan Danish (1914–1982)
  25. عشق کو تقلید سے آزاد کردل سے گریہ آنکھ سے فریاد کرEhsan Danish (1914–1982)
  26. کبھی کبھی جو وہ غربت کدے میں آئے ہیںمرے بہے ہوئے آنسو جبیں پہ لائے ہیںEhsan Danish (1914–1982)
  27. کچھ اس طرح سے تصور میں آ رہا ہے کوئیچراغ روح میں جیسے جلا رہا ہے کوئیEhsan Danish (1914–1982)
  28. کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کی ناؤ پرتہمت تراشتے ہیں ہوا کے دباؤ پرEhsan Danish (1914–1982)
  29. کرتے کرتے امتزاج کعبہ و بت خانہ ہماس جگہ پہنچے کہ ہو کر رہ گئے دیوانہ ہمEhsan Danish (1914–1982)
  30. کل رات کچھ عجیب سماں غم کدے میں تھامیں جس کو ڈھونڈھتا تھا مرے آئنے میں تھاEhsan Danish (1914–1982)
  31. کہاں محفل میں مجھ تک بادۂ گلفام آتا ہےجو میرا نام آتا ہے تو خالی جام آتا ہےEhsan Danish (1914–1982)
  32. مجھے پوچھا ہے آ کر تم نے اس اخلاق کامل سےکہ میں شرمندہ ہو کر رہ گیا اندازۂ دل سےEhsan Danish (1914–1982)
  33. مرے مٹانے کی تدبیر تھی حجاب نہ تھاوگرنہ کون سے دن حسن بے نقاب نہ تھاEhsan Danish (1914–1982)
  34. مل مل کے دوستوں نے وہ دی ہے دغا مجھےاب خود پہ بھی نہیں ہے گمان وفا مجھےEhsan Danish (1914–1982)
  35. موسم سے رنگ و بو ہیں خفا دیکھتے چلویہ کیا چلی چمن میں ہوا دیکھتے چلوEhsan Danish (1914–1982)
  36. نہ سیو ہونٹ نہ خوابوں میں صدا دو ہم کومصلحت کا یہ تقاضا ہے بھلا دو ہم کوEhsan Danish (1914–1982)
  37. وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لئےوہ ہنس پڑے مجھے مشکل میں ڈالنے کے لئےEhsan Danish (1914–1982)
  38. وفائیں کر کے جفاؤں کا غم اٹھائے جااسی طرح سے زمانے کو آزمائے جاEhsan Danish (1914–1982)
  39. ہجوم رنج سے دل کو مسرت ہوتی جاتی ہےکہ مجھ پر آئنہ اپنی حقیقت ہوتی جاتی ہےEhsan Danish (1914–1982)
  40. ہزاروں غم ہیں اس منزل میں منزل دیکھنے والےکلیجہ تھام لے اپنا مرا دل دیکھنے والےEhsan Danish (1914–1982)
  41. ہم سے الفت جتائی جاتی ہےبے قراری بڑھائی جاتی ہےEhsan Danish (1914–1982)
  42. ہنگامۂ خودی سے تو بے نیاز ہو جاگم ہو کے بے خودی میں آگاہ راز ہو جاEhsan Danish (1914–1982)
  43. یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسےساتھ چل موج صبا ہو جیسےEhsan Danish (1914–1982)
  44. یہ تو نہیں کہ تم سے محبت نہیں مجھےاتنا ضرور ہے کہ شکایت نہیں مجھےEhsan Danish (1914–1982)
  45. آج اس نے ہنس کے یوں پوچھا مزاجعمر بھر کے رنج و غم یاد آ گئےEhsan Danish (1914–1982)
  46. احسانؔ اپنا کوئی برے وقت کا نہیںاحباب بے وفا ہیں خدا بے نیاز ہےEhsan Danish (1914–1982)
  47. احسانؔ ایسا تلخ جواب وفا ملاہم اس کے بعد پھر کوئی ارماں نہ کر سکےEhsan Danish (1914–1982)
  48. اول اول جب مجھے جور آشنا سمجھا تھا میںآج سمجھا ہوں جو سمجھا تھا بجا سمجھا تھا میںEhsan Danish (1914–1982)
  49. تم سادہ مزاجی سے مٹے پھرتے ہو جس پروہ شخص تو دنیا میں کسی کا بھی نہیں ہےEhsan Danish (1914–1982)
  50. دل کی شگفتگی کے ساتھ راحت مے کدہ گئیفرصت مے کشی تو ہے حسرت مے کشی نہیںEhsan Danish (1914–1982)