Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. جہاں تیغ ہمت علم دیکھتے ہیںمحالات کا سر قلم دیکھتے ہیںIsmail Meeruthi (1844–1917)
  2. حامد کہاں کہ دوڑ کے جاؤں خبر کو میںکس آرزو پہ قطع کروں اس سفر کو میںIsmail Meeruthi (1844–1917)
  3. ذرا غم زدوں کے بھی غم خوار رہناکریں ناز تو ناز بردار رہناIsmail Meeruthi (1844–1917)
  4. راہ و رسم خط کتابت ہی سہیگل نہیں تو گل کی نکہت ہی سہیIsmail Meeruthi (1844–1917)
  5. رسوا ہوئے بغیر نہ ناز بتاں اٹھاجب ہو گئے سبک تو یہ بار گراں اٹھاIsmail Meeruthi (1844–1917)
  6. روش سادہ بیانی میریہے یہ تیغ صفہانی میریIsmail Meeruthi (1844–1917)
  7. ساقی خم خانہ تھا جو صبح و شامروز آدینہ تھا مسجد میں امامIsmail Meeruthi (1844–1917)
  8. سلامت ہے سر تو سرہانے بہت ہیںمجھے دل لگی کے ٹھکانے بہت ہیںIsmail Meeruthi (1844–1917)
  9. سنو گے مجھ سے میرا ماجرا کیاکہا کرتے ہیں افسانوں میں کیا کیاIsmail Meeruthi (1844–1917)
  10. شب زندگانی سحر ہو گئیبہر کیف اچھی بسر ہو گئیIsmail Meeruthi (1844–1917)
  11. ظاہر تو ہے تو میں نہاں ہوںباطن تو ہے تو میں عیاں ہوںIsmail Meeruthi (1844–1917)
  12. عارض روشن پہ جب زلفیں پریشاں ہو گئیںکفر کی گمراہیاں ہم رنگ ایماں ہو گئیںIsmail Meeruthi (1844–1917)
  13. عیش کے جلسے ہجوم آلام کےشعبدے ہیں گردش ایام کےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  14. غیر توکل نہیں چارا مجھےاپنے ہی دم کا ہے سہارا مجھےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  15. کام اگر حسب مدعا نہ ہواتیرا چاہا ہوا برا نہ ہواIsmail Meeruthi (1844–1917)
  16. کبھی تقصیر جس نے کی ہی نہیںہم سے پوچھو تو آدمی ہی نہیںIsmail Meeruthi (1844–1917)
  17. کجا ہستی بتا دے تو کہاں ہےجسے کہتے ہیں بسمل نیم جاں ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  18. کوئی دن کا آب و دانہ اور ہےپھر چمن اور آشیانہ اور ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  19. کیا کیا اجل نے جان چرائی تمام شبکوئی بھی آرزو نہ بر آئی تمام شبIsmail Meeruthi (1844–1917)
  20. گر نشے میں کوئی بے فکر و تامل باندھےچشم مے گوں کو تری جام پر از مل باندھےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  21. منزل دراز و دور ہے اور ہم میں دم نہیںہوں ریل پر سوار تو دام و درم نہیںIsmail Meeruthi (1844–1917)
  22. مہربانی بھی ہے عتاب بھی ہےکچھ تسلی کچھ اضطراب بھی ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  23. میں اگر وہ ہوں جو ہونا چاہئےمیں ہی میں ہوں پھر مجھے کیا چاہئےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  24. نتیجہ کیوں کر اچھا ہو نہ ہو جب تک عمل اچھانہیں بویا ہے تخم اچھا تو کب پاؤ گے پھل اچھاIsmail Meeruthi (1844–1917)
  25. نکلے چلے آتے ہیں تہ خاک سے کھانےیہ خوان کرم کس نے بچھایا ہے خدا نےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  26. نکہت طرۂ مشکیں جو صبا لائی ہےکوئی آوارہ ہوا ہے کوئی سودائی ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  27. نہیں معلوم کیا واجب ہے کیا فرضمَرے مذہب میں ہے تیری رضا فرضIsmail Meeruthi (1844–1917)
  28. واں زیرکی پسند نہ ادراک چاہئےعجز و نیاز دیدۂ نمناک چاہئےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  29. وہ پیرہن جان میں جاں حجلۂ تن میںہوں وہم جدائی سے عجب رنج و محن میںIsmail Meeruthi (1844–1917)
  30. وہیں سے جب کہ اشارہ ہو خود نمائی کاعجب کہ بندہ نہ دعویٰ کرے خدائی کاIsmail Meeruthi (1844–1917)
  31. ہے بے لب و زباں بھی غل تیرے نام کامحرم نہیں ہے گوش مگر اس پیام کاIsmail Meeruthi (1844–1917)
  32. ہے جان حزیں ایک لب روح فزا دواے کاش کہ اس ایک کی ہو جائیں دوا دوIsmail Meeruthi (1844–1917)
  33. یاد تیری یاد ہے نام خداورنہ ہم کیا اور ہماری یاد کیاIsmail Meeruthi (1844–1917)
  34. اب قوم کی جو رسم ہے سو اول جلولفاسد ہوئے قاعدے تو بگڑے معمولIsmail Meeruthi (1844–1917)
  35. اپنے ہی دل اپنوں کا دکھاتے ہیں بہتڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں بناتے ہیں بہتIsmail Meeruthi (1844–1917)
  36. احمد کا مقام ہے مقام محمودہے مرجع حمد اور شایان درودIsmail Meeruthi (1844–1917)
  37. احوال سے کہا کسی نے اے نیک شعارتو ایک کو دو دیکھ رہا ہے ناچارIsmail Meeruthi (1844–1917)
  38. اخفا کے لئے ہے اس قدر جوش و خروشیاں ہوش کا مقتضا ہے بننا مدہوشIsmail Meeruthi (1844–1917)
  39. اسلاف کا حصہ تھا اگر نام و نمودپڑھتے پھرو اب ان کے مزاروں پہ درودIsmail Meeruthi (1844–1917)
  40. اکثر نے ہے آخرت کی کھیتی بوئیاکثر نے ہے عمر جستجو میں کھوئیIsmail Meeruthi (1844–1917)
  41. انساں کو چاہئے نہ ہمت ہمارےمیدان طلب میں ہاتھ بڑھ کر مارےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  42. انکار نہ اقرار نہ تصدیق نہ ایجاباعمال نہ افعال نہ سنت نہ کتابIsmail Meeruthi (1844–1917)
  43. تقریر سے وہ فزوں بیان سے باہرادراک سے وہ بری گمان سے باہرIsmail Meeruthi (1844–1917)
  44. چکھی بھی ہے تو نے درد جام توحیدیا سن ہی لیا ہے صرف نام توحیدIsmail Meeruthi (1844–1917)
  45. خاک نمناک اور تابندہ نجومہیں ایک ہی قانون کے یکسر محکومIsmail Meeruthi (1844–1917)
  46. دراصل کہاں ہے اختلاف احوالکچھ رنج نہ راحت نہ مسرت نہ ملالIsmail Meeruthi (1844–1917)
  47. دنیا کے لئے ہیں سب ہمارے دھندےظاہر طاہر ہیں اور باطن گندےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  48. دین اور دنیا کا تفرقہ ہے مہملنیت ہی پہ موقوف ہے تنقیح عملIsmail Meeruthi (1844–1917)
  49. شیطان کرتا ہے کب کسی کو گمراہاس راز سے ہے خدائے غالب آگاہIsmail Meeruthi (1844–1917)
  50. فطرت کے مطابق اگر انساں لے کامحیوان تو حیوان جمادات ہوں رامIsmail Meeruthi (1844–1917)