واں زیرکی پسند نہ ادراک چاہئے

Ismail Meeruthi (1844–1917)

واں زیرکی پسند نہ ادراک چاہئے

عجز و نیاز دیدۂ نمناک چاہئے

آئینہ بن کہ شاہد و مشہود ایک ہے

اس روئے پاک کو نظر پاک چاہئے

سیر و سلوک جاں نہیں بے جذبۂ نہاں

اس راہ میں یہ توسن چالاک چاہئے

گزرے امید و بیم سے یہ حوصلہ کسے

رند خراب و عارف بے باک چاہئے

ہر چشمہ آئنہ ہے رخ آفتاب کا

ہاں سطح آب بے خس و خاشاک چاہئے

نشو و نمائے سبزہ و گل میں نہیں درنگ

ابر کرم کو تشنگیٔ خاک چاہئے

اصلاح حال عاشق دل خستہ ہے ضرور

معشوق جور پیشہ و سفاک چاہئے

جو عین نائے نوش ہو اس بادہ نوش کو

جام و سبو نہ خمکدہ و تاک چاہئے

صیاد کے اثر پہ رواں ہو تو صید ہے

وہ صید ہی نہیں جسے فتراک چاہئے