دراصل کہاں ہے اختلاف احوال
Ismail Meeruthi (1844–1917)دراصل کہاں ہے اختلاف احوال
کچھ رنج نہ راحت نہ مسرت نہ ملال
قربت ہے نہ بعد ہے نہ فرقت نہ وصال
یہ بھی ہے خیال اور وہ بھی ہے خیال
دراصل کہاں ہے اختلاف احوال
کچھ رنج نہ راحت نہ مسرت نہ ملال
قربت ہے نہ بعد ہے نہ فرقت نہ وصال
یہ بھی ہے خیال اور وہ بھی ہے خیال