Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. غم فرقت ہی میں مرنا ہو تو دشوار نہیںشادی وصل بھی عاشق کو سزاوار نہیںAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  2. کبک و قمری میں ہے جھگڑا کہ چمن کس کا ہےکل بتا دے گی خزاں یہ کہ وطن کس کا ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  3. کر کے بیمار دی دوا تو نےجان سے پہلے دل لیا تو نےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  4. کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میںمجھے کہنا ہے کچھ اپنی زباں میںAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  5. کہہ دو کوئی ساقی سے کہ ہم مرتے ہیں پیاسےگر مے نہیں دے زہر ہی کا جام بلا سےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  6. گو جوانی میں تھی کج رائی بہتپر جوانی ہم کو یاد آئی بہتAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  7. گھر ہے وحشت خیز اور بستی اجاڑہو گئی ایک اک گھڑی تجھ بن پہاڑAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  8. میں تو میں غیر کو مرنے سے اب انکار نہیںاک قیامت ہے ترے ہاتھ میں تلوار نہیںAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  9. واں اگر جائیں تو لے کر جائیں کیامنہ اسے ہم جا کے یہ دکھلائیں کیاAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  10. وصل کا اس کے دل زار تمنائی ہےنہ ملاقات ہے جس سے نہ شناسائی ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  11. ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاںاب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاںAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  12. ہے یہ تکیہ تری عطاؤں پروہی اصرار ہے خطاؤں پرAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  13. آثار زوالAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  14. گدائی کی ترغیبAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  15. اے عیش و طرب تو نے جہاں راج کیاسلطاں کو گدا غنی کو محتاج کیاAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  16. تقاضائے سنAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  17. نعتAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  18. توحیدAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  19. سکوت درویش جاہلAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  20. عالم و جاہل میں کیا فرق ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  21. مرض پیری لا علاج ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  22. عشقAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  23. وقت کی مساعدتAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  24. انقلاب روزگارAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  25. موجودہ ترقی کا انجامAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  26. جب مایوسی دلوں پہ چھا جاتی ہےدشمن سے بھی نام تیرا جپواتی ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  27. مکر و ریاAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  28. مخالفت کا جواب خاموشی سے بہتر نہیںAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  29. ریفارم کی حدAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  30. سختی کا جواب نرمی ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  31. مناجات بیوہAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  32. حب وطنAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  33. نشاط امیدAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  34. جو علم مردوں کے لیے سمجھا گیا آب حیاتٹھہرا تمہارے حق میں وہ زہر ہلاہل سربسرAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  35. مٹی کا دیاAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  36. میڈیکل ٹیسٹAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  37. فقط چند نسخوں کا ہے وہ سفینہچلے آئے ہیں جو کہ سینہ بہ سینہAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  38. انگلستان کی آزادی اور ہندوستان کی غلامیAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  39. برکھا رتAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  40. کہنا بڑوں کا مانوAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  41. وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والامرادیں غریبوں کی بر لانے والاAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  42. دکنAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  43. آخر یہ حسن چھپ نہ سکے گا نقاب میںشرماؤ گے تمہیں نہ کرو ضد حجاب میںIsmail Meeruthi (1844–1917)
  44. آغاز عشق عمر کا انجام ہو گیاناکامیوں کے غم میں مرا کام ہو گیاIsmail Meeruthi (1844–1917)
  45. اتنا تو جانتے ہیں کہ بندے خدا کے ہیںآگے حواس گم خرد نارسا کے ہیںIsmail Meeruthi (1844–1917)
  46. الٹی ہر ایک رسم جہان شعور ہےسیدھی سی اک غزل مجھے لکھنی ضرور ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  47. بزم ایجاد میں بے پردہ کوئی ساز نہیںہے یہ تیری ہی صدا غیر کی آواز نہیںIsmail Meeruthi (1844–1917)
  48. پائے غیر اور میرا سر دیکھوٹوٹ جائے نہ سنگ در دیکھوIsmail Meeruthi (1844–1917)
  49. تبلیغ پیام ہو گئی ہےحجت بھی تمام ہو گئی ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  50. جو بھلے برے کی اٹکل نہ مرا شعار ہوتانہ جزائے خیر پاتا نہ گناہ گار ہوتاIsmail Meeruthi (1844–1917)